Daily Mashriq


نگران حکومت سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے

نگران حکومت سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک کا نقصان ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابات کے بغیر پارلیمنٹ متنازعہ ہوگی۔ شہباز شریف کا کوئٹہ اور بلاول بھٹو زرداری کا ملاکنڈ میں ایک جیسا بیانیہ لمحہ فکریہ ہے۔ مختلف رہنمائوں اور حریف جماعتوں کے قائدین کا مختلف مقامات پر ایک جیسے خدشات کا اظہار اتفاق کی بات نہیں بلکہ دونوں جماعتوں کی قیادت کا غور و فکر کے بعد اظہار خیال ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے الیکشن کو متنازع بنایا گیا تو ملک کونقصان پہنچے گا، ایک جماعت کو سرگرمیوں کی اجازت ،باقیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کی ذمہ داری پوری کرے،ملکی مسائل کا حل صاف و شفا ف انتخابات میں ہے اگر الیکشن شفاف نہ ہوئے تو المیہ ہوگا۔ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ و ہ صاف و شفا ف انتخابات کر وائے اگر نگران حکومت پنجاب کی طرح کسی ایک سیاسی جماعت اور ہمارے مخالفین کی حما یتی بن جائے اور خوف ہراس پھیلا کر مختلف طریقوں سے الیکشن کو مشکوک بنایا گیا تو یہ افسوس ناک بات ہوگی، خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو اور صاف الیکشن ہوں اسی سے پاکستان کی ترقی، خوشحالی ،صوبوں کی ہم آہنگی ممکن ہے،اگر ہم نے پاکستان میں صاف و شفا ف انتخابات کروانے کا 100فیصد انعقادکرلیا تو پا کستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکے گا اگر خدا نخواستہ ایسا نہیں ہوا اور الیکشن پر کسی بھی طرح کے مبہم سائے پڑے تو یہ پا کستان کے لئے نقصاندہ ہوگا ۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کے بغیر پارلیمنٹ متنازع ہوگی، ن لیگی کا رکنوں کی گرفتاریاں ناقابل فہم ہیں ،چند سیاسی جماعتوں کو الیکشن لڑنے سے روکا جارہا ہے، اوچ شریف اور ملتان میں ہمارے جلسے منسوخ کر دیئے گئے، ہم کب تک یہ برداشت کریں گے؟معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائیں گے، اداروں میں ٹکرائو نہیں ہونا چاہیے، سب اپنی حدود میں رہیں، عوام کے مسائل پارلیمنٹ میں حل کئے جائیں،متنازع الیکشن کا نتیجہ متنازع پارلیمنٹ کی شکل میں نکلے گا، انتخابات میں حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع نہیں دیئے جارہے، پی پی کو بھی دیوار سے لگایا جا رہا ہے،کمزور پارلیمنٹ بنی تو عوام کے مسائل کے حل میں مشکلات ہوں گی،انتخابات کے لیے سازگار ماحول نہیں مل رہا، مخصوص جماعتوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ جوں جوں انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں بجائے اس کے کہ انتخابی جوش و خروش میں اضافہ ہو شکوک و شبہات اور عدم تحفظ کی فضا میں اضافہ دیکھنے میں آنا انتخابات کے لئے نیک شگون نہیں۔ اگرچہ بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس امر کی سختی سے تردید بار بار ہو رہی ہے کہ وہ انتخابات کا کسی صورت بائیکاٹ نہیں کریں گے لیکن ان کی بار بار کی تردید سے ہی معاملہ شبہات سے بڑھ کر یقین کا ہونے لگتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کا مختلف مقامات پر ایک ہی جیسے خیالات کے اظہار سے شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ صرف یہی نہیں اے این پی' ایم ایم اے اور دوسری جماعتوں کی قیادت بھی کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کر رہی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خطرات کااظہار اور نگران حکومت کی جانب سے حفاظت میں ناکامی کا بر ملا اظہار بھی ہو رہا ہے اور کوئٹہ' بنوں اور پشاور کے بڑے اور خونریز واقعات اس کا ثبوت بھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بجائے اس کے کہ تحفظ فراہم کرکے ان کو جلسوں کا موقع دیا جائے ان کو ہر وقت انتباہی پیغامات اور خطرات کا احساس دلا کر ایک قسم کا نظر بند کردیاگیا ہے جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی جماعتوں اور قائدین کو انتخابی مہم کی پوری آزادی دکھائی دیتی ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں جب تیز رفتار اور طاقتور کھلاڑیوں کو باندھ دیا جائے اور مخالفین کو آزادی دی جائے تو پھر تحفظات اور اعتراضات سے بات آگے بڑھ کر انتخابات کے بائیکاٹ تک جاسکتی ہے۔ جس تواتر کے ساتھ انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل انتخابات کے بروقت نہ ہونے کو تقریباً یقینی سمجھا جانے لگا تھا لیکن بعد اعلان کے انتخابی مہم سے وہ جو افواہیں پس پشت سمجھی جانے لگی تھیں انتخابی امیدواروں پر حملوں اور خود کش حملوں کے بدترین واقعات کے بعد اور ساتھ ہی ساتھ قابل ذکر سیاسی جماعتوں کو الیکشن مہم کا پورا موقع نہ دے کر انتخابات کے بائیکاٹ یا التوا کی راہ ہموار ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ اگر سوشل میڈیا میں اسی حوالے سے بحث و مباحثہ اور مواد کو درست تسلیم کیا جائے تو انتخابات کا التواء تقریباً یقینی ہے قبل از اعلان تاریخ انتخابات شنید تھی کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت انتخابات کے بروقت نہ ہونے پر چنداں مخالفانہ رائے نہیں رکھتے تھے اس وقت محولہ جماعتیں جس صورتحال سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی انتخابات میں حصہ لینا نہ لینا برابر دکھائی دیتا ہے ۔نتیجہ بھی نوشتہ دیوار ہے تو ایسے میں اگر ان جماعتوں کی قیادت کی سوچ میں یکسانیت آگئی ہے تو دیوار کے ساتھ لگنے کے بعد ان کا انتخابی التواء ہی کو بامر مجبوری بہتر راستہ لگنا عجب نہ ہوگا۔ اس ساری صورتحال کے باوجود سیاسی جماعتوں کے خدشات اور تحفظات کے باوجود انتخابی محاذ پر سرگرم رہنے کی سعی ان کی جمہوریت پر یقین اور عوام پر اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ ساری صورتحال اپنی جگہ انتخابات کے بعد کی صورتحال میں اگر قابل ذکر سیاسی جماعتیں متحد ہوئیں اس کا امکان بھی نظر آتا ہے تو اس کے بعد کا منظر نامہ ملک میں خدانخواستہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ ایک ایسی پارلیمان جو پہلے بھی مقتدر نہ ہونے کا شاکی تھا اگر وہاں پر محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے یا سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں تو پھر ملکی صورتحال اور آنے والی حکومت دونوں ہی مشکلات سے دوچار ہیں جس کا ملکی ترقی اور جمہوریت دونوں پھر اچھے اثرات مرتب نہ ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے بڑھتے خدشات اور تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور اس صورتحال کو دور کرکے مساوی انتخابی سرگرمیوں کو یقینی بنائے سیاسی قیادت کو تحفظ فراہم کیاجائے اور عوام کو آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے دیا جائے جس کے بعد جس جماعت کو بھی حکومت سازی کا موقع ملے گا مخالفین کا اعتراض بے جا ہوگا جو صورتحال اس وقت ہے اس میں اولاً انتخابات کا انعقاد مشکوک ہے اور دوئم انتخابی نتائج مشکوک ہوں گے اور ایک نئی کشمکش کا آغاز ہوگا جو حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کے لئے بہتر نہ ہوگا خاص طور پر یہ عوام کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوگی جس سے عوام کا جمہوری نظام اور جمہوری اداروں سے توقعات کی وابستگی متاثر ہوگی جس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔

متعلقہ خبریں