Daily Mashriq


نگران وزیر اعلیٰ بی آرٹی منصوبے کا خود دورہ کریں

نگران وزیر اعلیٰ بی آرٹی منصوبے کا خود دورہ کریں

گوکہ عملی طور پر بی آر ٹی منصوبے پر کام سست رفتاری کا شکار ہے لیکن متعلقہ حکام کا دعویٰ ہے کہ کام پوری رفتار سے جاری ہے ان کا دعویٰ ایک طرف لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایچ تھری کا ریڈور سوفیصد مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ایچ تھری میں کام جاری ہے اور اس کے مکمل ہونے میں شاید ابھی چند ماہ اور لگیں ایچ ٹو اورایچ ون پر جس رفتار سے کام جاری ہے اس سے نہیں لگتا کہ یہ منصوبہ سال رواں کے اختتام تک مکمل ہوگا نیب نے اس منصوبے کے حوالے سے جو تفصیلات حاصل کی تھیں اس کے بعد نیب نے بھی چپ سادہ لی ہے جس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بھاری پتھر جس حکومت نے اٹھایا تھا وہ تو اس کے نیچے آہی چکا مزید حکومتوں کیلئے بھی ایسے ہی خطرات ابھرر ہے ہیںایچ تھری کار یڈور کی تکمیل کا اعلان کرنے والوں سے نگران حکومت کو وضاحت طلب کرنی چاہیئے کہ ایسا کر کے وہ حکومت کو دھوکہ دے رہے ہیں یا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔ نگران وزیراعلیٰ دوست محمد خان کو بریفنگ پر اکتفا ء کرنے کی بجائے بی آر ٹی کے تینوں حصوں کا از خود معائینہ کرلینا چاہیئے تاکہ حالات کا وہ بچشم خود جائزہ لے سکیں ۔ چیف سکریٹری نے دورے کے بعد جن مقامات کو صاف کر کے سڑک کی تعمیر کی ہدایت کی تھی اور ٹریفک کی روانی میں بہتر ی لانے کی ہدایت کی تھی ان مقامات پر سوائے ملبہ ہٹانے کے کوئی دوسرا کام نہیں ہوا جس کا چیف سکریٹری کو سخت نوٹس لینا چاہیئے اگر چیف سکریٹری کی ہدایات کو بھی درخواست اعتنانہ سمجھا گیا تو آخر عوام کی مشکلات کا ازالہ کیسے ہوگا اور اس منصوبے کی تکمیل کا یقین کیسے آئے گا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ بی آر ٹی منصوبے سے عوام کس قدر مشکلات کا شکار ہیں اور مون سون کی تیز بارشیں ہوں تو ان مشکلات میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ نگران وزیراعلیٰ صورتحال کا ذاتی جائزہ لیکر منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرانے میں ذاتی دلچسپی لیں گے اور جتنا ممکن ہو سکے اپنے دور حکومت میں بی آر ٹی پر کام کی تکمیل کو ممکن بنائیں گے ۔

دشنام طرازی کی قا بل مذمت سیاست

بعض سیاسی قائدین اور رہنمائوں کی جانب سے عامیانہ اور بازاری زبان کا استعمال نہ صرف ان کے کردار و عمل اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ سن کر تالی بجانے والے ان کے پارٹی ورکروں کی ذہنیت کا بھی اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ایسے میں مخالفین کی تنقید کو بجا قرار نہ دیا جائے تو کیا کیا جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مخصوص سیاسی عمائدین نے جس قسم کا لب و لہجہ سیاست میں متعارف کرایا ہے اس سے سیاسی فضا آلودہ ہوگئی ہے ایسا کرکے ان کے کونسے حس کی تسکین ہوتی ہے اس کا اندازہ تو مشکل ہے لیکن جو روایت انہوں نے ڈالی ہے اس سے سنجیدہ سیاسی جماعتوں کے مہذب اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے کا رکناں بھی متاثر ہورہے ہیں۔ سیاسی قائدین کو سیاسی جلسے کا سٹیج ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیئے اور ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے جو وہ اپنے ماں ، بہن بھائیوں اور بیٹے، بیٹی کے حق میں استعمال کو برداشت نہ کر سکتے ہوں ۔ سیاست رواداری اور عوام کے دل جیتنے کا نام ہے اور یہ کام دشنام طرازی سے ممکن نہیں ہوگا ۔

متعلقہ خبریں