Daily Mashriq


غیر جانبدارانہ انتخابات اور تحقیقات

غیر جانبدارانہ انتخابات اور تحقیقات

لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن نہ ہوئے تو ملک کو نقصان ہوگا۔ کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک جماعت کو سرگرمیوں کی اجازت' باقیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر مالاکنڈ میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لگ بھگ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کے بغیر پارلیمنٹ متنازع ہوگی۔ یاد رہے کہ پشاور میں ہارون بلور پر ہوئے خود کش حملے' بنوں میں اکرم درانی کی ریلی پر حملے اور مستونگ میں ہوئے خود کش دھماکے کے بعد بلاول زرداری کا اپنے جلسوں اور ریلیوں کو پریس کانفرنسوں میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اگرچہ بہتر احتیاطی تدابیر کے زمرے میں شمار کی جاسکتی ہے۔ تاہم مخالف سیاسی جماعتیں اس پر بھی طنز کرنے سے باز نہیں آئیں اور سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہر طور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بیانات میں چھپے اصل مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ نظر بہ ظاہر( جس طرح سیاسی حلقے الزامات لگا رہے ہیں) صرف ایک سیاسی جماعت کے لئے نہ تو سیکورٹی کے خدشات ہیں نہ اس کی ریلیوں اور جلسوں پر کوئی بھی پابندی لگائی جا رہی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس سے ان خدشات کو تقویت ملنا فطری امر ہے کہ صرف ایک خاص جماعت کو ہی تمام تر سہولیات میسر آرہی ہیں اور اس طرح آنے والے انتخابات کی شفافیت پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور اگر یہ صورتحال یونہی جاری رہی تو دیگر جماعتیں جس قسم کی شکایات کرتی نظر آرہی ہیں ان کی حقانیت کو آنے والے کل میں کوئی ھی رد نہیں کرسکے گا۔ اور پھر انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوال اٹھیں گے۔ جس کے بعد ملک میں احتجاج کا ایک طوفان اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یوں جن خدشات کا اظہار میاں شہباز شریف اور بلاول زرداری نے کیاہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال سے ملک کو نقصان ہوگا اور یہ کہ پارلیمنٹ متنازع ہوگی۔ حالات اسی سمت چل سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال اگر خدانخواستہ جنم لے گی تو ملک میں امن کے قیام اور پارلیمنٹ کو آزادی سے کام کرنے کی راہ کھوٹی ہو جائے گی۔ ہم 2013ء کے انتخابات کے بعد جن حالات سے گزرے ہیں اور جس طرح دھرنوں نے ملک میں پارلیمنٹ کو عملاً مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ اس کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ کئی بڑے منصوبے التواء میں پڑنے کی وجہ سے ان کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا اور بعد میں ان کے لئے اصل منصوبہ بندی کے تحت زیادہ قرضوں کے حصول پر مجبور ہونا پڑا جس کا نتیجہ آنے والے برسوں میں قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ بیرونی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا' بے روز گاری میں اضافہ ہوا اور اب جبکہ انہی وجوہات کے نتائج نے روپے کی ڈالر کے مقابلے میں بے توقیری بڑھا دی ہے تو ملکی قرضوں کا حجم بڑھنے کی وجہ سے ملکی معیشت کن مشکلات سے دو چار ہے اس حوالے سے اقتصادی ماہرین مسلسل اظہار تشویش کر رہے ہیں اور مہنگائی میں اضافے کا رونا روتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلئے آنیوالے انتخابات کی شفافیت' غیر جانبداری اور آزادانہ ماحول میں انعقاد کی جتنی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے لگتا ہے کہ نگران حکومتوں کے اقدامات درست سمت میں جاتے دکھائی نہیں دیتے۔ ان حالات میں تو یوں لگتا ہے کہ اگر واقعی جن شکایات کا بر ملا اظہار کیا جا رہا ہے اور میدان میں موجود دیگر پارٹیوں کو کسی خاص جماعت کے مقابلے میں جان بوجھ کر مسائل سے دو چار کیا جا رہا ہے تو انتخابات کے بعد شکایت کنندگان کہیں یہ نہ کہتے دکھائی دیں کہ

روز و شب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے

چین آجاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے

اے این پی کے مرکزی رہنما اور بلور خاندان کے سربراہ حاجی غلام احمد بلور کا تازہ بیان ہارون بلور شہید پر ہوئے خود کش دھماکے کے حوالے سے نئے سوال ابھارنے کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر الزام لگایا ہے کہ ہارون بلور پر ہونے والے خود کش حملے میں طالبان نہیں' ہمارے اپنے ملوث ہیں۔ طالبان کا نام استعمال کیا گیا کیونکہ ہارون کو مارنے سے طالبان کو کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا۔ ادھر ہارون بلور کے فرزند دانیال بلور نے بھی ایک ٹی وی چینل کے پروگرام جرگہ کے میزبان سلیم صافی کے ساتھ گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ دادا ( بشیر بلور شہید) طالبان کے خلاف تھے لیکن والد (ہارون بلور شہید) نے کبھی طالبان کے خلاف بات نہیں کی۔ بلور خاندان کے ان تازہ بیانات کے بعد اصولی طور پر تفتیش کارخ ان الزامات کی جانب موڑ دیا جانا چاہئے اور تفتیش میں ان لوگوں کے کردار پر توجہ دینی چاہئے جنہیں بقول حاجی غلام احمد بلور اس سانحے سے کوئی فائدہ مل سکتا ہے۔ حقیقت بھی ان حالات کی جانب اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ہارون بلور حلقے میں سب سے مضبوط امیدوار گردانے جاتے تھے۔ وہ ذاتی کردار کے حوالے سے بھی عوام کے انتہائی قریب تھے اور ماضی میں ان کی سیاسی خدمات جو بطور ڈسٹرکٹ ناظم اور ازاں بعد مشیر وزیر اعلیٰ انہوں نے ادا کی تھیں لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کی جیت کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ یقینی سمجھا جا رہا تھا اسلئے حاجی غلام احمد بلور نے جو خدشات ظاہر کئے ہیں ان کو آسانی کیساتھ رد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا اہم فیصلہ جو بلور خاندان نے کیا ہے وہ بھی نہایت اہم ہے کہ حلقے میں انتخابی میدان کو کھلا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ ہارون شہید کی بیوہ ان کے متبادل کے طور پر انتخابات میں حصہ لیں گی۔ اس فیصلے سے بھی یقینا ان لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ہوگی جو اس سانحے کے اصل ذمہ دار ہیں۔ بہر حال تفتیش کے نتائج کیا نکلتے ہیں اس کیلئے انتظار تو کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں