Daily Mashriq


پختونخوا تا بلوچستان بہتا پاکستانی لہو

پختونخوا تا بلوچستان بہتا پاکستانی لہو

ضلع مستونگ میں جمعہ کو ہونے والا خودکش حملہ ہلاکتوں کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2013 میں علمدار روڈ پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں 106 افراد شہید اور 169 زخمی ہوئے تھے۔ یہ خودکش حملہ تھا جس میں آٹھ سے دس کلوگرام بال بیئرنگ استعمال کئے گئے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی۔ دولت اسلامیہ کی نیوز ایجنسی عماق کے مطابق مستونگ میں ہونے والے اس حملے میں خودکش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سراج رئیسانی کو اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔ سراج رئیسانی کو حکومت سے قریب سمجھا جاتا تھا۔ یہ بلوچستان میں گزشتہ 24گھنٹوں میں انتخابی جلسوں پر تیسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل جمعے کو ہی خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علمائے اسلام ف کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد شہید اور39 زخمی ہوئے تھے تاہم سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ چند دن بھی نہیں گزرے کہ ہارون بلور، خودکش حملے میں شہید ہو گئے۔ ابھی ان کے خون کے چھینٹے بھی نہ سوکھے تھے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے پر بھی ایک حملہ ہوا اور ڈیڑھ سو کے قریب لوگ اور خود نوابزادہ زخموں کی تاب نہ لاکر جان سے چلے گئے۔ چند ہی گھنٹوں پہلے بنوں میں اکرم درانی پہ حملہ ہوا، جس میں وہ بچ گئے لیکن چار لوگ مارے گئے۔ پچھلے 72 گھنٹوں میں بلوچستان ہی میں تین حملے مزید ہو چکے ہیں جن میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کا تاثر ملتا ہے۔ اے این پی اور طالبان کی دشمنی کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلے انتخابات میں بھی اے این پی کے کئی رہنماؤں پہ حملے کئے گئے جن میں سے ایک میں ہارون بلور کے والد، بشیر بلور مارے گئے۔ طالبان کے اس وقت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے تب بھی کہا تھا کہ ان کا ہدف، ہارون بلور تھے۔ ان ہی حالات کے باعث 2013 کے انتخابات میں اے این پی اور خاص کر ہارون بلور اپنی انتخابی سرگرمیاں جاری نہ رکھ پائے۔ اس بار بھی انسداد دہشتگردی کی قومی اتھارٹی نیکٹا کو حالات کا کافی حد تک اندازہ تھا۔ کئی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں پہ حملے کا خدشہ تھا جن میں عمران خان، اسفندیار ولی، امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیر پاؤ، اکرم خان درانی اور طلحہ سعید شامل ہیں۔نیکٹا نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں تک بارہ سے زیادہ الرٹس پہنچائیں لیکن ہوا یہ کہ امیدواروں سے سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔ مستونگ، درین گڑھ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس، نے قبول کر لی ہے۔ یہ اقبالِ جرم اس نے کس کے ذریعے کس کے کان میں کیا؟ ہمیں تو اخباری خبروں سے بس اتنا معلوم ہوا کہ اس دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی گئی ہے۔اس سانحے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جانی نقصان کے اعتبار سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہونے والے سب سے بڑے خودکش حملے نے کئی گھروں کو اجاڑ دیا لیکن کچھ گھرانے ایسے ہیں جن کے تین سے چار افراد مارے گئے۔ ان میں مستونگ کے علاقے درین گڑھ ہی سے تعلق رکھنے والے عبدالخالق کا گھرانہ بھی شامل ہے جس کے تین بیٹے مارے گئے۔درینگڑھ میں واقع اپنے گھر میں مغموم چہرے کیساتھ انہوں نے بتایا ان کے تین بچے یہ دیکھنے گئے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ''میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر آیا تو دھماکے کی آواز سنی۔'' ان کا کہنا تھا کہ وہ دھماکے کی آواز سننے کے بعد جلسہ گاہ کی جانب گئے تو وہاں انہوں نے ہر طرف لاشیں اور تڑپتے ہوئے انسانوں کو دیکھا۔ ''میرے دو بچوں کی لاشیں جلسہ گاہ کے اندر پڑی تھیں جبکہ تیسرے کی لاش نہیں ملی۔'' بعد میں ان کے بھائی نے تیسرے بیٹے کی لاش سول ہسپتال کوئٹہ سے گھر پہنچائی۔درین گڑھ کے ایک اور رہائشی عبدالقادر کے گھر کے دو افراد اس اندوہناک واقعے میں مارے گئے۔ ''میں دھماکے کے فوراً بعد جلسہ گاہ پہنچا اور وہاں لاشیں ہی لاشیں دیکھیں۔'' ان کا کہنا تھا کہ صرف ان کے گاؤں کے دس سے زائد افراد مارے گئے۔ درین گڑھ میں جس جگہ پر انتخابی جلسہ ہو رہا تھا وہ جگہ انتہائی چھوٹی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث وہ قریب قریب بیٹھے تھے جس کی وجہ سے دھماکے کی زد میں بہت زیادہ لوگ آئے۔ جہاں جگہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد دھماکے کی زد میں آگئی وہاں علاقے میں زخمیوں کو مناسب طبی امداد بھی فراہم نہیں کی جا سکی۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے20 سے35 کلومیٹر دور مستونگ اور کوئٹہ پہنچایا گیا۔پختونخوا کیساتھ بلوچستان کے لوگ بھی اس بار شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اس لئے پچیس جولائی کے الیکشن محفوظ ہوں گے لیکن صرف تین سانحات نے ہمیں اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ جب بھی قوم تقسیم ہوگی، سیاسی نفرتیں عروج پر ہوں گی اور عدم برداشت کے روئیے فروغ پائیں گے تو دہشتگرد کسی عفریت کی طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے اور ہم یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ قوم اس وقت جس بری طرح سے منقسم ہے، پہلے کبھی نہ تھی اور یہ دشمنوں کیلئے سنہری لمحات ہیں۔

متعلقہ خبریں