Daily Mashriq


نگران حکومتیں' ایک جائزہ

نگران حکومتیں' ایک جائزہ

شاید ہی دنیا کے بڑے جمہوری ملکوں میں وطن عزیز کی طرح پانچ سال حکومت کرنے کے بعد دو ڈھائی مہینے کیلئے کہیں نگران حکومتیں قائم کرا کر انتخابات کرانے کی رسم ہوتی ہوگی۔ کہنے کو ہمارے پڑوس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔امریکہ اور برطانیہ یا دیگر یورپی ممالک میں تو بالکل نہیں ہوتا۔ یہ ''اعزاز'' بھی وطن عزیز کو حاصل ہے کہ گزشتہ دو جمہوری ادوار کے بعد نگران حکومتیں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاق و مشورے کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔ اور بعض صوبوں میں سیاستدانوں کے درمیان '' سیاست'' کی وجہ سے عدم اتفاق کے سبب الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے ناموں میں سے ''لاٹری'' نکلوا کر وزرائے اعلیٰ بنائے گئے۔ نگران حکومتوں کا قیام در اصل ہمارے سیاسی رہنمائوں کے درمیان ایک دوسرے پر بدگمانی کے سبب عمل میں آتا ہے۔ کیونکہ دھوکہ' فریب' جعلسازی اور دو نمبریاں اور کرپشن اب ہمارا قومی نشان بن چکا ہے اور ہم سب ایک دوسرے کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں ورنہ یہ کتنے افسوس اور ایک لحاظ سے غیر اخلاقی بات ہے کہ جن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہم مکمل پانچ برسوں تک برداشت کرتے ہیں پھر اچانک ان کو دو مہینوں کے لئے مزید برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو پاتے۔نگران حکومتوں کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے۔ ہمارے سیاسی زعماء سر جوڑ کر ہفتوں مہینوں ملاقاتیں اور میٹنگیں کر کرکے کسی ایسے آدمی کو تلاش کرنے میں عموماً ناکام رہتے ہیں جو حزب اقتدار و اختلاف دونوں کو قابل قبول ہو اور جب بات ڈیڈ لاک پر پہنچنے لگتی ہے تو یا تو آپس میں مک مکا کرکے '' من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو'' پر اتفاق کرلیتے ہیں۔ معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے تب بھی وہ فریقین خیال رکھتے ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کبھی معاملہ الٹا بھی ہو جاتا ہے۔ بس وہ قسمت کی بات ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں نگرانوں پر تنقید اور '' لاڈلوں'' کی طرف داری کے الزامات لگتے ہی رہتے ہیں۔ نجم سیٹھی اور حسن عسکری اور اپنے کے پی کے نگرانوں پر بڑے بڑے الزامات لگانے سے لوگ گریز نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنا کام کئے جا رہے ہیں کہ پھر اگر ان کی حکومت آجائے جن کے لئے الزامات سہے تھے تو پھر تو کیا کہئے۔ نجم سیٹھی آج تک ایک ایسے محکمے کی چیئر مینی کے مزے اڑا رہے ہیں جس سے کبھی زندگی میں منسلک ہی نہیں رہے تھے۔ اور دنیا بھر کی سیر و تفریح' علاج معالجہ الگ سے سرکاری ( پی سی بی) کے فنڈز پرکرتے ہیں۔ نگران وزراء کیلئے اگلہ مرحلہ اپنی کیبنٹ کے انتخاب کاہوتا ہے۔ اس کیلئے ان کے پاس یا ان کیلئے کیا Criterian ہوتا ہے۔ ان کے اور بعض مخصوص لوگوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن میرا اندازہ ہے کہ اس میں بھی گزشتہ حکومت کا خیال رکھنے کے علاوہ یار دوست' رشتہ داری' بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے حصول وغیرہ کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ نگران وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کی عمومی طور پر عمر ساٹھ برس سے زیادہ ہوتی ہے (الا ماشاء اللہ) یعنی ایک آدھ کو ''نظر ماتے'' کے طورپر چھوڑ کر۔ اور ساٹھ برس کے اوپر کے لوگوں کو وزارتیں سونپ کر میرے خیال میں بیورو کریسی کے فرانٹ گرانٹ افسران بالا بھی خوش ہوتے ہوں گے کہ چلو ان دو ڈھائی مہینوں میں بعض پھنسے فائل بھی تو نکلوائے جا سکیں گے۔ پینسٹھ برس کے آدمی کو صبح کا کھایا شام کو یاد نہیں رہتا تو فائل پر '' کیا لکھا'' کیسے یاد رہ سکتا ہے۔ سید ضمیر جعفری مرحوم کی ایک بات ان کے بیٹے احتشام ضمیر مرحوم نے یوں لکھی تھی کہ '' ایک دفعہ جعفری صاحب سیالکوٹ میں ایک تقریب میں شریک ہوئے جس میں پنجاب کے گورنر جنرل مقبول بھی تھے۔ صبح ناشتے پر جب والد صاحب( جعفری صاحب) کے ساتھ ملاقات ہوئی تو میں نے تقریب کا حال احوال پوچھا تو فرمایا' بیٹا مختصر بات یہ ہے کہ آدمی ساٹھ برس سے اوپر کا ہو جائے تو گھر سے ذرا کم نکلا کرے۔ میں نے پوچھا' ابا حضور! خیریت تو ہے؟ فرمایا۔ رات تقریب میں گورنر پنجاب میرے پاس تشریف لائے۔ میرا حال احوال بڑے تپاک سے پوچھا۔ بس رخصت ہوتے وقت میں یہ پوچھتے پوچھتے رہ گیا کہ'' آج کل آپ کہاں ہوتے ہیں''۔اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی رہنمائوں کے دبائو پر بیورو کریسی میں اتھل پتھل الگ سے درد سر اور ملک و قوم کے سرمایے وقت اور کام کاضیاع ہوتا ہے۔ نئی حکومتوں کے آنے کے بعد یہی بیورو کریسی دوبارہ نئی حکومت کے وزیر اعلیٰ اور وزراء کی مرضی وپسند پر آگے پیچھے ہوتی ہے جس میں پھر بھی نقصان قوم کا ہی ہوتا ہے۔میرے نزدیک یہ سراسر ایک غیر اخلاقی سرگرمی ہے کہ دو مہینے کیلئے نگران حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس طرح پوری قوم کے دو مہینے ضائع چلے جاتے ہیں۔ اس مختصر مدت میں کوئی بھی ڈھنگ کا کام ممکن ہی نہیں ہوتا۔ دو مہینے میں تو ساٹھ برس سے اوپر کے وزرائے اعلیٰ اور وزراء اپنے کابینہ اور سیکرٹریوں کے نام تک اور محکمے تک یاد نہیں کرپاتا ہوگا کجا کہ ان سے قوم و ملک کے فائدے کا کوئی کام لیا جائے۔ میرے ایک کرم فرما سابق چیف سیکرٹری جن کا نام اخباروں میں نگران وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں آیا تھا۔ میں نے ایسے ہی بر سبیل تذکرہ پوچھا تھا کہ اگر پیشکش ہوئی تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔ فرمایا۔ دو مہینے میں کوئی مثبت کام پایہ تکمیل تک پہنچ نہیں سکتا البتہ کوئلوں کی دلالی میں منہ کے کالا ہونے کا امکان زیادہ رہتا ہے۔ ا سلئے گزارش ہے کہ آنیوالی حکومت اس حوالے سے بھی کوئی ایسی قانون سازی کرے کہ نگرانوں کی ضرورت نہ ہو۔

متعلقہ خبریں