Daily Mashriq


سرکاری ملازمین کی مذہبی شناخت کیوں ضروری ہے؟

سرکاری ملازمین کی مذہبی شناخت کیوں ضروری ہے؟

رواں مہینے4جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوتۖ حلف نامے کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ دیا ۔جس میں فاضل جج نے حکومت اور دیگر سیاستدانوں کو تجاویز دیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے تناظر میں ختم نبوتۖ اور دیگر مقدس عقائد کی حفاظت کرے۔ قادیانی جو آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں ان کے حوالے سے فاضل جج نے کہا کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر پاکستان کے اہم اداروں اور اہم پوسٹوں پر براجمان رہتے ہیں جس سے مسلمان اکثریت کے حقوق غصب ہوتے ہیں اس کیلئے جسٹس صدیقی نے کہا قادیانیوں کی پاکستان میں تعداد ابھی تک واضح نہیں ۔محکمہ شماریات کی تعداد اور نادرا کی تعداد میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ اسلئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اور نادرا ہر پاکستانی شہری کی مذہبی شناخت معلوم کرے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنیوالے افراد سے خصوصی طور پر مذہبی شناخت کا حلف نامہ لیا جائے۔پاکستان کے ہرشہری کا یہ حق ہے اسے معلوم ہو کہ اس پر حکومت کرنیوالے شخص اور افسر کا کیا مذہب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے تحت کسی کو مذہبی شناخت چھپانے کا حق نہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ اراکین کیلئے ختم نبوتۖ حلف نامہ ضروری ہوتاہے،مگر دیگر سرکاری اداروں کیلئے نہیں جبکہ 1993میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے''ظہیرالدین بنام سرکار''نامی فیصلے میں بھی کہا ہے کہ قادیانی شناخت نہیں چھپا سکتے، مسلمانوں کی مذہبی شعائر استعمال نہیں کرسکتے۔ یہی بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس صدیقی نے لکھی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے قادیانیوں کی جانب سے مسلسل آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اعلیٰ عہدو ں پر قادیانی براجمان ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قادیانی سرکاری عہدوں کو اپنے مذہب کی ترویج واشاعت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔حالانکہ یہی قادیانی آئین پاکستان کو بھی نہیں مانتے۔ان کے مطابق1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قراردینے کا فیصلہ غلط ہے۔اسی بات کو لیکر قادیانی بیرونی دنیا میں پاکستان کیخلاف منفی باتیں اور پروپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان میں کئی اقلیتیں رہتی ہیں،ان میں سے آج تک کسی اقلیت نے اپنی شناخت چھپائی اور نہ خود کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں والے فوائد سمیٹے۔صرف قادیانی ہیں جو خود کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں والے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اسلئے نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کاحالیہ فیصلہ بلکہ اس سے قبل سپریم کورٹ کا فیصلہ''ظہیر الدین بنام سرکار''عین قانون کے مطابق ہیں۔جن پر عملدرآمدکرانا حکومت وقت کا کام ہے۔ مگر افسوس پاکستان کی موجودہ نگران حکومت کے وزیر اطلاعات ونشریات بیرسٹر علی ظفر نے 10جولائی کو اسلام آباد میں اقلیتوں کے ایک سمینار میں خطاب کے دوران کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ سرکاری ملازمین کیلئے شناخت بتانا ضروری ہے یہ خلاف قانون ہے، حکومت اسے چیلنج کریگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو شہریوں میں مذہب کے اعتبار سے فرق نہیں کرنا چاہیے۔نگران حکومت کے وفاقی وزیر کی یہ باتیں دراصل خود خلاف آئین ہیں۔آئین میں جب لکھا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں،وہ اپنی مذہبی شناخت نہیں چھپا سکتے۔مسلمانوں والے شعائر استعمال نہیں کرسکتے توپھر کیسے کہا جاسکتاہے کہ سرکاری ملازمین کیلئے مذہبی شناخت بتانا کوئی ضروری نہیں۔ اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھرتو مبینہ طور پر مذہبی شناخت چھپا کر پاکستان کا وزیر اعظم یا صدر غیر مسلم بن سکتاہے،جو یقینا خلاف آئین ہے۔اراکین اسمبلی اور سینیٹ کیلئے ختم نبوتۖ حلف نامہ بھی ضروری نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ختم نبوتۖ حلف نامہ بھی دراصل مذہبی شناخت بتانا ہوتاہے۔مذہبی شناخت چھپانے سے سب سے بڑا نقصان پاکستان کی اکثریتی آبادی کو ہوتاہے جو مسلمان ہیں کہ ان کے حقوق پرغیر مسلم مذہبی شناخت چھپا کر قابض ہوجاتے ہیں۔ اسلئے بیرسٹر علی ظفر کے اس بیان سے براہ راست فائدہ قادیانیوں کو پہنچتا ہے کہ پاکستان میں صرف یہی وہ اقلیت ہے جو اپنی شناخت چھپاتی ہے۔کون نہیں جانتا کہ دوقومی نظریہ بھی تو مذہبی شناخت ہی تھا،جسکی بنیاد پر پاکستان بنایاگیا۔اگر آج ہم پاکستان میں مذہبی شناخت کو ختم کردیں تو پھر نظریہ پاکستان ہی گویا معطل ہوجا تاہے۔ پھردوسری طرف جب اراکین اسمبلی کیلئے مذہبی شناخت بتانا ضروری ہے تو سرکاری اداروں میں کیوں ضروری نہیں ہونا چاہئے۔ سیاستدانوں کو ملکر یہ قانون سازی کرنی چاہیے کہ ہر سرکاری ملازم سے مذہبی شناخت کا حلف نامہ لیا جائے اور ریاست کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ وہ ہر شہری کی مذہبی شناخت سے واقف ہو۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے اقلیتوں کے حقوق پر کوئی زد پڑے گی بلکہ اقلیتوں کو آئین کے تحت انکے بنیادی حقوق آج بھی دئیے جا رہے ہیں۔ بہرحال نگران حکومت کے وزیر اطلاعات ونشریات کو بھی چاہیے کہ انہوں نے جو متنازع بات کہی اس سے رجوع کریں۔اگر موصوف وزیر واقعی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چینلج کرتے ہیں تو عوام کو اپنا دباؤ ڈالنا چاہئے۔ پھر نگران حکومت کو آخر کیا ضرورت پیش آگئی کہ وہ مختصر وقت میں آئین اور قانون کیخلاف عدالتوں میں جانے لگیںجبکہ قانون سازی کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے۔

متعلقہ خبریں