Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سیدنا عمر فاروق کے عہد خلافت میں جب لشکر اسلام نے ایرانی شہروں پر یلغار کی تو ایک معرکہ میں ''تستر'' نامی شہر کو فتح کرنے کی کوششیں ہورہی تھیں ۔ ایرانی سپہ سالار''ہرمزان'' ''رامہرمز'' میں لشکر اسلام سے شکست کھانے کے بعد ''تستر'' میں جاکر قلعہ بند ہوگیا تھا مسلمانوں نے شہر پر بہت سے حملے کئے مگر ہرمزان کے گرد موجود بڑے ایرانی لشکر کے باعث شہر فتح نہیں ہو رہا تھا۔ایک دن شہر کا ایک آدمی چھپ کر اسلامی فوج کے کمانڈر سیدنا ابوموسیٰ  اشعری کے پاس آیا اور کہا کہ میرے جان و مال کو امان دی جائے تو میں شہر پر قبضہ کروا سکتا ہوں۔ سیدنا ابوموسیٰ نے منظور کیا۔ اس نے ایک عرب کو جس کا نام ''اشرس'' تھا ساتھ لیا اور شہر میں داخل ہونے والے پانی کے ایک نالے کے راستے شہر میں داخل ہوا اور ''اشرس'' کے منہ پر چادر ڈال کر کہا نوکر کی طرح میرے پیچھے پیچھے چلے آئو۔ تستر کے اس باشندے نے اشرس کو تمام عمارات کی سیر کرائی اور موقع کے نشیب وفراز دکھائے اورسیدنا ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں تو اپنا فرض ادا کرچکا آگے آپ لوگوں کی ہمت اور مقدر ہے۔ اشرس نے اس کے بیان کی تصدیق کی اور کہا: اگر دو سو جانباز میرے ساتھ ہوں تو شہر فوراً فتح ہوجائے ۔  ابوموسیٰ نے فوج کی طرف دیکھا دو سو بہادروں نے بڑھ کر کہا کہ اللہ کی راہ میں ہماری جان حاضر ہے۔ ادھر ابوموسیٰ فوج کے ساتھ موقع پر موجود تھے۔ دروازہ کھلنے کے بعد تمام لشکر ٹوٹ پڑا اور شہر میں ہل چل مچ گئی۔ ہرمزان نے بھاگ کر قلعے میں پناہ لی مسلمان قلعے کے نیچے پہنچے تو اس نے برج پر چڑھ کر کہا :میرے ترکش میں اب بھی سو تیر ہیں اور جب تک اتنی ہی لاشیں یہاں نہ بچھ جائیں میں گرفتار نہیں ہوسکتا تاہم میں اس شرط پر گرفتاری پیش کرتا ہوں کہ تم مجھ کو مدینہ پہنچا دو اور جو کچھ فیصلہ ہو تمہارے خلیفہ عمر کے ہاتھ سے ہو سیدنا ابوموسیٰ نے اس کی شرط منظور کرلی اور اسے گرفتار کرنے کے بعد سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مامور کیا کہ ہرمزان سے کئے گئے عہد کے مطابق اسے بحفاظت مدینہ تک پہنچانے کا بندوبست کریں۔ چشم فلک نے یہ منظر دیکھا اور یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگیا کہ اسلام کے ایک بدترین دشمن سے کئے گئے وعدے کو مسلمانوں نے من و عن نبھایا حالانکہ اس نے بے شمار مسلمانوں کو لڑائیوں میں قتل اور زخمی کیا تھا۔ (البدایہ والنہایہ)

اپنے اسلاف کے کارنامے پڑھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ مسلمان دنیا پر حکمرانی کرتے تھے اور کسی شان سے کرتے تھے۔ اور اس عروج کی وجہ بھی سمجھ آجاتی ہے کہ جن باتوں کا حکم اللہ نے دیا ہے وہ اس پر عمل کرتے تھے ایفائے عہد جس کا حکم اسلام میں ہے ایک غیر مسلم دشمن کے ساتھ بھی اس کو نبھایا اور ایک ہم ہیں کتنے جھوٹے وعدے کرتے ہیں روزانہ مگر اس کو پرکاہ اہمیت نہیں دیتے۔

متعلقہ خبریں