Daily Mashriq

قانون سازی سے کم عمری کی شادی کی روک تھام؟

قانون سازی سے کم عمری کی شادی کی روک تھام؟

خیبر پختونخوا کے روایتی اور قدامت پسند معاشرے میں شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں مگر اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ خیبر پختونخوا میں بالعموم اور بالخصوص قبائلی اضلاع اور دوردراز کے علاقوں میں بچوں کی شادیاں کسی بھی عمر میں کر دی جاتی ہیں۔ بعض برادریوں میں پندرہ سال شادی کی عمر سمجھی جاتی ہے اور بچوں کی اس عمر میں شادی کرا دی جاتی ہے۔ کم عمری کی شادی کے نقصانات میں صرف جوڑوں کی صحت کے مسائل ہی اہم نہیں بلکہ خود کو سنبھالنے کی عمر نہ ہو اور ایک اضافی فرد کی ذمہ داری گلے میں ڈال دی جائے تو بچپنا، معصومیت اور لڑکپن سے محروم ہونا فطری امر ہوگا، کم ہی ایسے ہوں گے جو اس قسم کی شادی سے خوش ہوں۔ اس قسم کے بچوں کی تعلیم کا متاثر ہونا اور آگے بڑھنے کیلئے درکار یکسوئی کا بٹ جانا وہ سب سے بڑا نقصان اور خرابی ہے جس کا ازالہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ جن گھرانوں میں تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی، بچے کی شادی کرکے اسے کاروبار میں بٹھا دیا جاتا ہے اور بچہ خود کمانے کے قابل بھی ہو تب بھی ایک بے وقت کی راگنی کے مصداق اس کے گلے میں جو طوق ڈال دیا جاتا ہے اس طوق کو اُتار پھینکنے کی جب طاقت آجاتی ہے تو بہت سے ایسا کر گزرتے ہیں اور جو سمجھوتے پر مجبور ہوں تو ان کی زندگی روگ میں گزرتی ہے۔ جو شادی شدہ نوعمر اور نوجوان والدین کی کفالت میں ہو ان کے الگ مسائل ہوتے ہیں۔ جتنا بھی غور کیا جائے یہ مسئلہ مسائل ومشکلات کا باعث اور نامناسب وبے وقت کا فیصلہ لگتا ہے اور اسے قانون سازی کے ذریعے قابل سزا گرداننے کی ہوشمندانہ توجیہات موجود ہیں لیکن اگر خوبیوں کا مجموعہ اس مجوزہ قانون کو شریعت کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو شریعت میں عمر کا تعین نہیں بلکہ بلوغت شادی کی عمر قرار پائی ہے بلکہ بلوغت پر تو نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ شریعت میں بچپن میں بلوغت سے قبل نکاح اور شادی کی گنجائش موجود ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے ولی رشتہ طے کریں مگر خیار بلوغ پر اس رشتے کو قائم رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار منکوحین کو مل جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جو مسودہ قانون محکمہ قانون وپارلیمانی امور کے ماہرین نے تیار کیا ہے یقیناً وہ اس سارے معاملے سے بخوبی واقف ہوں گے، ان کو قرآن وسنت کے منافی کسی بھی قانون سازی نہ ہوسکنے کے دستور پاکستان کی شرط سے بھی بخوبی واقفیت ہوگی۔ اس قانون کی علماء کرام اور اسمبلی میں مخالفت اور تنقید کا بھی بخوبی اندازہ وتجربہ ہوگا، اس کے باوجود یہ مسودہ اب کابینہ کے زیرغور ہے اور منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی میں بل پیش ہونا ہے تاکہ قانون کی شکل دی جاسکے اور لاگو ہوجائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسودہ قانون کی کابینہ سے لیکر اسمبلی اجلاس تک منظور ہونے اور قانون کی صورت لاگو ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد کا سنجیدہ سوال جواب طلب رہے گا۔ قانون کے مطابق نکاح رجسٹرڈ کراتے وقت جوڑے کا شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے، شناختی کارڈ بنتا ہی اٹھارہ سال کی عمر میں ہے، ایسی صورت میں جن نوعمر جوڑوں نے نکاح کیا ہو ان کی نکاح اور ازدواجیات یہاں تک کہ بچوں کی پیدائش کیا سارے کا سارا غیرقانونی گردانا جائے گا حالانکہ شریعت اور معاشرہ دونوں ان کو قبول کرتا ہے۔ شکایت ملنے پر شادی رکوائی جاسکتی ہے، والدین اور رشتہ داروں کو سزا دی جا سکتی ہے، اس کا امکان کم ہی ہے اور اس قسم کی صورتحال خال خال ہی درپیش ہوگی اس قانون کی خلاف ورزی قصداً وعمداً ہوگی۔ نو عمر جوڑے کی نکاح کے بعد کیا زبردستی علیحدگی کی کتنی قانونی مذہبی اور معاشرتی گنجائش ہوگی اور اس کے اثرات کیا سامنے آئیں گے غرض بہت سے پیچیدہ سوالات اور صورتحال سامنے آسکتی ہے جس پر غور کرنے اور ان سوالات کا جواب دینے کے بعد ہی کابینہ اس مسودے کی منظوری دے اور اسمبلی اسے منظور کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اجتماعی فلاح اور وقت کے تقاضوں کے نام پر شخصی اور خاص طور پر مذہبی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔ نوعمری کی شادی کی روک تھام کیلئے زیادہ بہتر صورت یہ نظر آتی ہے کہ حکومت اسے قانونی طور پر روکنے کی بجائے ترغیب اور شعور وآگہی کے ذریعے علمائے کرام، سکولوں کے اساتذہ اور معاشرے کے عمائدین کے ذریعے اس کی روک تھام کرے۔ ہمارے ہاں ایک جانب جہاں یہ صورت ہے وہاں دوسری جانب یہ صورتحال بھی ہے کہ آج کل خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی تعلیم کی تکمیل اور کیریئر بنانا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ان کو اس بات کی کم ہی فکر ہوتی ہے کہ شادی کی عمر نکلی جارہی ہے۔ یہ انتہا بھی بچپن کی شادیوں سے کم مسائل کا باعث نہیں۔ غربت، رسوم ورواج، جہیز اور مناسب رشتہ نہ ملنا خاص طور پر لڑکیوں کے رشتے نہ آنا سنگین معاشرتی مسائل کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان سارے مسائل پر قانون سازی کے ذریعے کیا قابو پایا جا سکتا ہے؟ کیا ان مسائل کا حل قانون سازی ہے؟۔ بلاشبہ کم عمری کی شادی سنیگن مسئلہ ہے، اسے روکنے کے جتن ہونے چاہئیں، قانون بنا کر نہیں ترغیب اور شعور وآگہی کے ذریعے اس کی روک تھام ہونی چاہئے۔ ورنہ شادیاں ہوتی رہیں گی اور بچوں سمیت اٹھارہ سال کی عمر میں نکاح کی اور بچوں کی رجسٹریشن کے واقعات اور مسائل سامنے آئیں گے۔ بہتر ہوگا کہ اس مسودہ قانون پر دوبارہ غور کیا جائے اور اس کے مذہبی ومعاشرتی پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

متعلقہ خبریں