Daily Mashriq

پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

پشاور پولیس کے سربراہ کی جانب سے پشاور کے تمام تھانوں کے موبائل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کا جرائم پیشہ عناصر کیساتھ رابطوں، ان کو مبینہ طور پر پولیس کارروائی کی پیشگی اطلاع دینے کے شبہ اور غیرذمہ داری کی شکایات پر تبادلہ سنجیدہ اقدام ہے۔ یہ عملہ کافی عرصہ سے ایک ہی جگہ تعینات چلا آرہا تھا۔ جہاں تک ان کیخلاف شکایات کا تعلق ہے یہ تو نوشتۂ دیوار ہے کہ تھانوں میں محرر اور ڈرائیور برسوں تعینات رہتے ہیں اور ان کا تبادلہ نہیں ہوتا یا پھر وہ اپنا تبادلہ رکوانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ فطری طور پر جو بھی عملہ جہاں بہت عرصے سے تعینات ہوگا اور ان میں خدا خوفی اور فرائض کے تقاضوں کا خیال نہ ہو مختلف قسم کے دھندوں اور غیرقانونی کاموں کی پشت پناہی میں ملوث ہوگا۔ پولیس کے عملے کی ملی بھگت کے باعث جہاں بہت دھندے چلتے ہیں وہاں بھنک پڑنے پر پیشگی اطلاع سے پولیس کے چھاپے بھی ناکام اور لاحاصل جاتے ہیں۔ بہرحال ہمارے تئیں ان افراد کا صرف تبادلہ کافی نہیں ان کیخلاف باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ جو لوگ کسی اور الزام میں ملوث پائے گئے ان کیخلاف کارروائی ہوسکے اور جو لوگ بے گناہ ہوں ان کو خواہ مخواہ کی سزا نہ ملے یا کم ازکم ان کو مشکوک نہ سمجھا جائے۔

سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا احتساب

صوبائی حکومت کی جانب سے میٹرک امتحانات میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کیخلاف کارروائی اور احسن کارکردگی کے حامل اساتذہ کو نقد انعامات دینے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں معیاری تعلیم کا شور وغوغا میٹرک امتحانات کے موقع پر ہی اکثر سامنے آتا ہے جب میڈیا پر سرکاری سکولوں کے فیل ہونے والے طلبہ کی بڑی تعداد سامنے آتی ہے۔ اس موقع پر سزا وجزا کا رسمی اعلان اور چند ایک اساتذہ کو نقد انعامات بھی دیئے جاتے ہیں لیکن کتنے اساتذہ غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کیخلاف کیا تحقیقات ہوئیں اور تادیب کی گئی اس حوالے سے تفصیلات کا کم ہی علم ہو پاتا ہے۔ اصولی طور پر یہ عمل سال بھر جاری رہنا چاہئے، بہرحال ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے میٹرک امتحانات میں خراب کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کے بارے میں تفصیلات ضلعی ایجوکیشن افسران سے طلب کی ہیں جبکہ مذکورہ اساتذہ کے ناموں کی فہرستیں بھی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تیار کر رہی ہے جو بعدازاں کارروائی کیلئے ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبر پختونخوا کو ارسال کئے جائیںگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی فرائض سے غفلت اور سرکاری سکولوں کے طالب علموں کی امتحانات میں خراب کارکردگی کوئی پوشیدہ امر نہیں، حکومت تمام تر کوششوں کے باوجود سرکاری سکولوں کا معیار بہتر کرنے میں ناکام ہی ٹھہرتی ہے۔ پورے صوبے میں ہزاروں اساتذہ کیخلاف کارروائی محکمانہ طور پر مشکل ہو نہ ہو سیاسی طور پر اور دباؤ کے باعث مشکل امر ضرور ہے۔ سرکاری سکولوں کے طالب علموں کی صلاحیتوں کا میٹرک میں علم ہونے کے بعد صرف میٹرک کی سطح کے اساتذہ اور سکول سربراہوں کیخلاف کارروائی اسلئے قرین انصاف نہیں کہ اس نتیجے اور طلبہ کو پڑھانے کے مختلف مدارج میں کئی اساتذہ کا کردار ہوتا ہے جس کے پیش نظر ہر جماعت کا اچانک جائزہ امتحان لیکر جس مضمون میں زیادہ طلبہ کے نتائج اچھے نہ آئیں اس مضمون کے پڑھانے والے ٹیچر کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ سکولوں میں معیار تعلیم میں بہتری آئے اور اساتذہ کو اپنے احتساب ہونے کی فکر لاحق ہو۔

موبائل صارفین کو ریلیف

سپریم کورٹ کے حکم پر موبائل فون کمپنیوں کے فون کارڈز پر آپریشنل اور سروسز فیس کا خاتمہ صارفین کیلئے یقینا بڑی خوشخبری ہے۔ موبائل کے صارفین سے چونکہ ٹیکس کی وصولی بجلی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وصولی کی طرح آسان عمل ہے اس لئے نہ صرف حکومت سو روپے کے لوڈ پر بھی ٹیکس وصول کرتی رہی ہے بلکہ موبائل کمپنیاں بھی صارفین سے ناجائز طور پر رقم کی وصولی میں پیچھے نہ تھیں۔ ایک جانب حکومت کو عوام کے ٹیکس نہ دینے کا شکوہ رہتا ہے تو دوسری جانب عوام اور صارفین یہ جو ہر چیز پر ٹیکس دے رہے ہیں اس کا نہ تو حکومت معترف ہے اور نہ ہی ہر ٹیکس دھندہ اپنے دئیے گئے ٹیکس کا حساب رکھ سکتا ہے اور نہ ہی حکومت سے اس کا حساب طلب کر سکتا ہے۔ انصاف تو یہ ہوگا کہ صارفین سے موبائل کمپنیاں اب تک جو رقم وصول کر چکے ہیں وہ صارفین کو واپس کی جائے یا پھر یہ رقم اُن سے لیکر قومی خزانے میں جمع کی جائے۔

متعلقہ خبریں