Daily Mashriq

قارئین کرام کے شکوے اور حافظ جی کا الزام

قارئین کرام کے شکوے اور حافظ جی کا الزام

پچھلے چند کالموں پر دو طرح کا ردعمل ہے، مردان سے کریم خان یوسفزئی اور نجیب اللہ خان کہتے ہیں ’’آپ سابق حکمرانوں کی محبت میں گرفتار ہیں اس لئے شاندار کامیابیاں حاصل کرتی تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ عمران خان ’’ریاست مدینہ‘‘ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں وہ کسی چور کو رعایت نہیں دیں گے۔ دونوں مہربان اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی بربادی کے ذمہ دار شریف اور زرداری ہیں اور یہ بھی کہ اب پاکستان بدل رہا ہے‘‘۔ کہاں اور کس مقام پر بدل رہا ہے؟ محترم قارئین اس کی نشاندہی کر دیتے تو قلم مزدور کو سہولت ہو جاتی، جا کر اپنی آنکھوں سے بدلتے مناظر کی زیارت کر لیتا۔ حافظ صفی اللہ کا مؤقف ہے کہ یہ تحریر نویس پیپلز پارٹی کا تنخواہ دار ہے حالانکہ ملک کو دولخت کرنے والی جماعت کی حمایت قومی جرم ہے۔ حافظ صاحب قبلہ نے اپنی ای میل میں یہ بھی فرمایا کہ پیپلز پارٹی کی اندھی حمایت میری مسلکی مجبوری ہے‘‘۔ کاش وہ اس مسلک کی قیادت سے دریافت کر لیتے کہ ان کی مجھ قلم مزدور کے بارے میں کیا رائے ہے خصوصاً وہ کچھ عرصہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے حوالے سے لکھی گئی ایک تحقیقاتی سٹوری کے بعد سے؟ قلم مزدور نے کبھی اپنے مسلک سے انکار نہیں کیا، البتہ یہ ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ اور بالخصوص مشرق کے قارئین اس قلم مزدور سے جتنی محبت کرتے ہیں وہ شاید ہی کسی اور کے حصے میں آئی ہو۔ وجہ صرف ایک ہے کہ ان سطور سے میری دونوں پسندیدہ جماعتیں اے این پی اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے ادوار میں اکثر نالاں ہوئیں مگر دونوں نے مجھے کبھی کسی کا تنخواہ دار قرار دیا نہ منہ بھر کے کسی بدزبانی کا نشانہ بنایا۔ وجہ ایک ہی ہے دونوں جماعتیں سیاسی عمل سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہیں، خوبیاں خامیاں دونوں کی قیادتوں میں ہیں، قلم مزدور نے انہیں فرشتہ یا ولی کامل کبھی نہیں قرار دیا۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی پر ملک توڑنے کا الزام بھارتی گٹکے کی جگالی کے سوا کچھ نہیں، البدر والشمس کے مجاہدین کی داستانیں ڈھکی چھپی نہیں۔ نصف صدی ہونے کو آئی رجعت پسندوں کے اس مذموم پروپیگنڈے کو درمیان میں دوبار گیارہ اور دس سال کے حساب سے 21برس دو فوجی حکمران اقتدار پر قابض رہے اور حافظ جی کی پسندیدہ جماعت دونوں فوجی حکمرانوں کی بی ٹیم بنی رہی کیونکہ ان 21سالوں میں عدالتی کمیشن بنا کر بھٹو اور پیپلز پارٹی پر مقدمہ چلا لیا گیا؟پاکستانی سیاست اور تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ مذموم پروپیگنڈہ تو ایمان کا آٹھواں رکن سمجھا جاتا ہے لیکن پورا یا نصف سچ جھوٹ قرار پاتا ہے۔ غدار وملک دشمن کی کہانی خان عبدالغفار خان اور مرشد جی ایم سید سے شروع ہوئی پھر اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ حسین شہید سہروردی‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ قسور گردیزی‘ محترمہ بینظیر بھٹو‘ نواز شریف ان سب سے قبل محترمہ فاطمہ جناح پر فوجی آمر ایوب خان نے الزام لگایا تھا کہ وہ خان عبدالغفار خان کیساتھ ملکر بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ غداروں میں میاں افتخار الدین‘ فیض احمد فیض‘ غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل کے علاوہ بھی بہت سارے نام ہیں کیوں نہ ایک قومی کمیشن بنا کر ان غداروں کو سزا دلوائی جائے؟ اللہ کا شکر ہے کہ غداری‘ کفر وشرک اور ریاستی حب الوطنی جسے فقیر راحموں ’’حب البرتنی‘‘ کہتے ہیں کا دانہ دنکا کبھی نہیں چنا، مطالعے اور اساتذہ کی تربیت کیساتھ نصف صدی کے مشاہدات نے حقائق سے روشناس کروایا۔ جناب عمران خان کے طرزسیاست اور انداز تکلم دونوں کا ناقد ہونے کے باوجود کبھی انہیں غدار سمجھا نا چند شرپسندوں کے ان الزامات کی حوصلہ افزائی کی جن سے حافظ جی کے بہت سارے ہم خیال رزق پاتے ہیں۔ سیاست اور قلم مزدوری دو الگ شعبہ ہیں لیکن دونوں کا اصل حسن اختلاف رائے کا احترام اور مکالمہ ہے۔ بنوں اور سوات سے واصل خان اور محمد افروز نے قلم مزدور کیلئے دعائیں بھیجیں ان کیساتھ ناراض قارئین کیلئے بھی دعا گو ہوں۔ قلم مزدورکی تحریریوں پر تنقید اور تحسین ہی رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔تبدیلی اب شکر ہے کہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے اسی لئے ٹیوٹا موٹرز نے 30دن میں 10دن اور انڈس موٹرز نے 8دن پیداواری عمل بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک اپنے کھاتے حبیب بنک کے سپرد کرکے واپسی کے راستے میں ہے۔ دبئی اسلامی بنک کیساتھ کچھ اور مالیاتی ادارے بھی کاروبار بند کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی اور تین صوبائی حکومتیں دعویدار ہیں کہ 13جولائی کو تاجروں کی ہڑتال ناکام رہی‘ محب وطن تاجروں نے اسے مسترد کر دیا مگر اس کیساتھ ساتھ ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہڑتال سے ملکی خزانہ کو 25ارب روپے کا نقصان ہوا۔ کوئی بتلائے تو کس بات کو درست سمجھا جائے؟ ریلوے کے نظام کی حالت یہ ہے کہ ٹرینیں 4سے10گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہیں، نئی گاڑیاں چلانے کے ازلی شوقین شیخ رشید کے پاس اپنے محکمے کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہے نا سامنے کوئی اہداف، روزانہ ایک پریس کانفرنس پھڑکاتے ہیں۔ موصوف اور دنیا کے ہر موضوع پر اظہار خیال کیساتھ مخالفین پر جگتیں برساتے ہیں، جھوٹ پر تعمیر شخصیت سے پارسائی کی توقع عبث ہے۔ وزیراعظم کے ممکنہ دورہ امریکہ کو لیکر وہ شیخ رشید بولے ’’عمران اور ٹرمپ ایک جیسے مزاج کے حامل ہیں اللہ خیر کرے‘‘۔ شیخ رشید جیسے دوستوں کے ہوتے ہوئے عمران خان کو دشمنوں کی ضرورت نہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ قلم مزدور روز روز تنخواہ داری کے الزام کی صفائی دینے کو غیرضروری سمجھتا ہے، صفائی دی بھی کیوں جائے۔ ایک طبقہ کا وطیرہ بن چکا ہے کہ اختلاف کرنے والے کی کردارکشی کرو۔ البتہ بہت ادب سے عرض ہے کہ جناب عمران خان اب اپنی جماعت کو کنٹینر سے اُتار کر نظام ہائے حکومت چلانے والے دفترں میں لے جائیں۔ ان کے ساتھیوں کو اپنے فرائض پر توجہ دینی چاہئے۔ ویسے آخری بات میں یہ اضافہ کر لیں کہ پنجاب حکومت نے اپنے ارکان صوبائی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے‘ اس پر سبحان اللہ کہنا تو بنتا ہے۔

متعلقہ خبریں