Daily Mashriq

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں بین الاقوامی انصاف کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے ہم آپ کو بلا پر بلا غالب ہوتی ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، زبردست کا ٹھینگا سر پر اور پانی تمہاری جانب سے گدلا آرہا ہے جیسے متعدد محاورے، ضرب الامثال اور کہاوتیں یاد کرواتے ہیں جن میں بیان کیا گیا مرکزی خیال یا ان کے معنی ومفہوم تقریباً ایک ہی جیسے ہیں۔ یہ دنیا وہ سمندر ہے جہاں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کرجاتی ہیں۔ یہ وہ جنگل ہے جہاں طاقتور درندوں کو کمزور وناتواں پر حملہ کرکے اس کی زندگی تک چھین کر چبا جانے کا اختیار حاصل ہے۔ چھینا جھپٹی کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ جسے جنگل کا قانون کہتے ہیں جو ہر اس قاعدے قانون اصول یا ضابطے پر مبنی ہوتا ہے جسے لاقانونیت کہا جاتا ہے۔ حرص ہوس، لالچ، خودغرضی اختیارات کا غلط استعمال، چوری چکاری، دوسروں کے حقوق غصب کرنا اور اس قسم کی کتنی قباحتیں ہیں جو جنگل کے قانون کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہر بندہ اس وقت تک اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رویہ اختیار کرتا ہے جب تک وہ ایسا کرسکتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے بعض اوقات اسے زندگی سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جان کی بازی بھی ہار جاتا ہے اور اگر وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا نہیں جانتا تو اپنی عزت نفس کی قربانی دے بیٹھتا ہے۔ سب کچھ لٹا کر چپ رہنے میں اپنی عافیت سمجھتا ہے چونکہ وہ جانتا ہے کہ دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر ڈالنا اچھا نہیں ہوتا۔ ہم زندگی کے ہر شعبے میں اور ہر سطح پر ایسی بے شمار ناہمواریوں اور ناانصافیوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ہم بہت سے معاملات میں اپنے آپ کو بے بس اور ناتواں محسوس کرتے ہیں۔ جب ایسی صورتحال درپیش آئے تو ہم اپنے گردو ونواح ایسی قوت کو تلاش کرنے لگتے ہیں جو ہماری دستگیری کرسکے، ہماری فریاد سن کر ہماری مدد کو آسکے، ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچا سکے جو ہماری زندگی میں ابتلاء بن کر اُترتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے ایسی قوت کو حاصل کرنے کیلئے اللہ کے مجبور ولاچار بندے قادر مطلق کے در پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کے حضور سر بسجود ہوکر گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگتے ہیں لیکن کسی بھی مرض کو رفع کرنے کیلئے دعاؤں کیساتھ دوا کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔انسان حیلہ یا کوشش کرتا ہے۔ رب وسیلہ بناتا ہے۔ ان حیلوں اور کوششوں کو اپنی متاع ہستی بچانے کیلئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کافی ہوتا ہے سو اسے جب بھی کسی بے انصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ درانصاف پر دستک دینے کسی عدالت یا کچہری میں پہنچ جاتا ہے، ضمیر حضرت انسان کے اندر موجود ایک ایسی عدالت کا نام ہے جو زندگی گزارنے کے قوانین کی پابندی کرواتا ہے اور جو ان قوانین کا احترام نہیں کرتا

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

کے مصداق اس کی سزا اور جزاء کا فیصلہ گزرنے والا وقت خود ہی کردیتا ہے۔ جب ہم اپنی ذات سے نکل کر کسی سماج یا معاشرے کا حصہ بنتے ہیں تو ہمیں سماج میں رہنے کیلئے مروجہ قاعدوں اور قوانین کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ہم ایسا نہ کرسکے تو مقامی سطح پر ہماری اچھی یا بری قسمت کا فیصلہ پنچایت یا جرگہ سطح پر کیا جاتا ہے یا ضلعی سطح پر قائم عدالتیں ہم سے سرزد ہونے والی غیرقانونی سرگرمی کا حساب لیتی ہیں، ایسا کرنے کیلئے ہر وہ فرد ان عدالتوں سے رجوع کرسکتا ہے جن کی حق تلفی ہوئی ہو، جس طرح سپریم کورٹ ملکی سطح پر قائم عدالت عظمیٰ ہے جس کے کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی عدالت کو عالمی عدالت انصاف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف دنیا بھر کے 196ممالک میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ ممالک سے سرزد ہونے والی غلطی پر اس مملکت کی سرزنش کر سکتی ہے جس نے اس کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہو یا اس کیخلاف ایسا کوئی مقدمہ دائر کیا گیا ہو جس میں اس ملک کی غیرقانونی حرکت کی نشان دہی کی گئی ہو، عالمی عدالت انصاف کا قیام یکم جون2010 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ہونے والی عالمی ماہرین قانون کی اس کانفرنس کے دوران عمل میں آیا جس میں صدیوں سے رائج رومن قوانین میں ترامیم واضافے کئے گئے، چونکہ 17جولائی کو رومن قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی قوانین کے تشکیل پانے کی سالگرہ منائی جاتی تھی اس لئے اس ہی دن کو عالمی یوم انصاف منانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس حوالہ سے دنیا بھر کے لوگوں کے شعور کو بیدار کیا جاسکے اور ان کو اس عدالت کی کارکردگیوں سے آگہی فراہم کی جاسکے، یہاں یہ بات بڑے افسوس کیساتھ عرض کی جاتی ہے کہ اگر آج بین الاقوامی جرائم کیخلاف عالمی عدالت انصاف کا دن نہ بھی ہوتا تب بھی ہم عالمی عدالت انصاف کی اس کارکردگی سے آگاہ ہو جاتے جو سابقہ حکومتوں کے دور میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر دریافت ہونے والے سونے اور تانبے کے ذخائر میں بین الاقوامی سطح پر مبینہ طور پر ہونے والی بددیانتی کی صورت میں سامنے آیا، شومئی قسمت سے عالمی عدالت انصاف نے ریاست پاکستان کو 5ارب 97کروڑ ڈالر جرمانہ کر کے پوری پاکستانی قوم کے اعصاب پر بجلی سی گرا دی اور ہم سر پیٹ پیٹ کر کہتے رہ گئے کہ

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

متعلقہ خبریں