Daily Mashriq

دن کا آغاز اس مشروب سے کرنا صحت کے لیے نقصان دہ

دن کا آغاز اس مشروب سے کرنا صحت کے لیے نقصان دہ

چائے نوشی پاکستانی عوام کی پسندیدہ ترین عادات میں سے ایک ہے بلکہ متعدد افراد تو صبح کا آغاز بھی اس گرم مشروب سے کرتے ہیں۔

یقیناً چائے ایک مزیدار اور صحت کے لیے فائدہ مند مشروب ہے جس کا استعمال مختلف فوائد پہنچاتا ہے۔

تاہم دن کے ایک خاص وقت اس گرم مشروب سے لطف اندوز صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت چائے ہو یا کافی نہار منہ یا خالی پیٹ ان گرم مشروبات کا استعمال کوئی اچھا خیال نہیں کیونکہ یہ صحت کو متعدد طریقوں سے متاثر کرسکتا ہے۔

دن کا آغاز کیفین (چائے یا کافی میں موجود جز) سے کرنا معدے میں تیزابیت بڑھانے اور دن بھر کے لیے ہاضمے کے افعال کو متاثر کرسکتا ہے، چائے یا کافی کا استعمال ہمیشہ ناشتے کے بعد کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

اس عادت کے نقصانات درج ذیل ہیں۔

میٹابولک سرگرمیاں متاثر

نہار منہ چائے یا کافی کا استعمال میٹابولک نظام کو مٹاثر کرسکتا ہے کیونکہ یہ مشروبات تیزابیت کو بڑھاتے ہیں، جس سے میٹابولزم کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور جسم کے لیے کیلوریز کو جلانے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن

ماہرین کے مطابق چائے پینے سے لووں کو پیشاب زیادہ آتا ہے جس سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا ہے، ہمارا جسم پہلے ہی 8 گھنٹے کی نیند کے باعث کسی حد تک پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہوتا ہے، تو پانی یا ناشتے کی بجائے چائے کا استعمال ڈی ہائیڈریشن کو مزید بڑھا دیتا ہے، خیال رہے کہ بہت زیادہ ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں مسلز اکڑنے یا دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

منہ کی صحت متاثر کرے

نہار منہ چائے یا کافی پینے سے منہ میں موجود بیکٹریا ان مشروبات میں موجود شکر یا چینی کو بریک ڈاﺅن کرتے ہیں، جس سے منہ میں تیزابیت کی سطح بڑھتی ہے اور دانتوں کی سطح متاثر ہوسکتی ہے، اس عادت سے مسوڑوں کے امراض کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جبکہ سانس کی بو بھی اکثر سامنے آسکتی ہے۔

دل متلانا

کیفین جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے والا جز ہے، مگر خالی پیٹ کیفین کے استعمال سے دیگر اثرات جیسے قے، سر چکرانا، دل متلانا اور دیگر ناخوشگوار کیفیات کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیٹ پھولنا

چائے میں موجود دودھ کے باعث متعدد افراد کو پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ دودھ میں لیکٹوز (دودھ میں موجود شکر) کی موجودگی ہے جو خالی پیٹ ہونے پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جس سے پیٹ میں گیس بڑھنے کے ساتھ قبض کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں