Daily Mashriq

کلبھوشن کے بریت کی درخواست مسترد، پاکستان کو سزائے موت پر نظرثانی کا حکم

کلبھوشن کے بریت کی درخواست مسترد، پاکستان کو سزائے موت پر نظرثانی کا حکم

پاکستان میں قید بھارتی خفیہ ایجنسی ''را '' کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے اہم کیس کا فیصلہ جج عبدالقوی احمد یوسف سنارہی ہے  ۔

 جج عبدالقوی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ویانا کنونشن کے رکن ہے ۔

 فیصلے کے وقت ہیگ میں  پاکستان کی نمائندگی کیلئے اٹارنی جنرل انور منصور اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل سمیت وکلا بھی موجود ہیں ۔

  پاکستان کا مؤقف 

عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل میں کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی کےلیے ایران کے راستے پاکستان داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا، کلبھوشن اور اس کے خاندان کو فوجی عدالت کے فیصلے کےخلاف اپیل کا ہمیشہ حق دیا گیا۔

پاکستانی وکیل نے دلائل دیے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈا کیا، بھارت یہ بتانے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن اپنے پاسپورٹ پر کیسے سفر کرتا رہا۔ خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق کسی بھی جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا۔

 خاور قریشی نے دلائل دیے کہ بھارتی جاسوس نے مسلم شناخت والا اصل بھارتی پاسپورٹ رکھا ہوا تھا، بھارت اس مصدقہ پاسپورٹ سے متعلق سوالات کی وضاحت نہیں کرسکا۔

 کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کر لیا گیا تھا قبل ازیں کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت دونوں وفود نے شرکت کی تھی جہاں پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے، جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی۔

 سماعت کے دوران پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا تھا جبکہ بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے تھے۔ گزشتہ سماعتوں میں بھارت عالمی عدالت میں یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ کلبھوشن یادو کے پاس دو پاسپورٹ کہاں سے آئے؟۔

  کلبھوشن کب گرفتار ہوا؟

 بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ سال 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے پاکستان ملٹری کورٹ کی طرف سے سزائے موت دی گئی۔

  کلبھوشن یادیو، مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہوا، وہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس ملازم تھا، جس نے پاکستان میں کئی دہشت گرد کارروائیوں کا بھی اعتراف کیا تھا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی توثیق کی ۔ کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جب کہ مئی 2017ء کو بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی درخواست پر گزشتہ برس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے دلائل دیئے گئے۔

 بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے کمانڈر جاسوس کلبھوشن کی بریت ، رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر خاور قریشی نے تحریری اور زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا 

متعلقہ خبریں