Daily Mashriq


عوامی احتساب !!

عوامی احتساب !!

تیسری بار منتخب ہونے والے وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنے ماتحت اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ٹیم کے سامنے پیش ہو کر پانامہ لیکس سے پیدا شدہ مسئلے کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرنے کے بعد اس امید کا اظہار بیجا نہ ہونا چاہیئے کہ وطن عزیز میں احتساب کی ایک ایسی روایت قائم ہونے جا رہی ہے جس کے بعد صرف سیاستدانوں ہی کا احتساب نہ ہوگا بلکہ احتساب ان تمام عناصر کا بھی ہوگا جو خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے آئے ہیں ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے جو موقف اپنایا ہوگا وہ ایک قانونی معاملہ ہے اس کا علم اسی وقت ہی ممکن ہوگا جب جے آئی ٹی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کے بعد صیغہ راز کے خانے سے نکل آئے گا ۔ یقینا وزیر اعظم نے اس میں اپنا دفاع کیا ہوگا اور اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف خاندانی کاروبار سے کم ہی متعلق رہے خاص طور پر سیاست میں آنے کے بعد ایسا کرنا ان کی ضرورت اور مجبوری تھی ان کے اس بیانیے میں کافی وزن ضرور ہے کہ ان کا مختلف ادوار میں احتساب ہوا بہر حال وطن عزیز میں اب تک احتساب برائے احتساب کی ابھی بنیاد نہیں پڑی ہے خواہ جس جماعت کے رہنماء وں اور افراد کا احتساب ہوا ہے اس کی نوعیت اور مقاصد دونوں ہی سیاسی رہے ہیں اور سیاسی تھے جس کی بناء پر نہ کسی پر کچھ ثابت ہو سکا اور نہ ہی کسی کو سزاء ہوئی وزیر اعظم نواز شریف سابق آمر پرویز مشرف کے احتساب کا نہیں بلکہ انتقام کا شکار ضرور ہے بہر حال وطن عزیز میں ہونے والے سیاسی احتسابات ہی حقیقی معنوں میں احتساب میں رکاوٹ ثابت ہوتے رہے ہیں اگر غور کیا جائے تو جاری معاملات کی تہہ میں بھی سیاسی معاملات ہی نظر آئیں گے جب تک اس طرح کے حالات رہیں گے عوام کو مطلوب اور ملکی مفاد پر مبنی احتساب کا عمل خواب ہی رہے گا وزیر اعظم نواز شریف نے پیشی کے بعد باہر آکر اخبار نویسوں کو جو لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنائی وہ اصل موضوع سے مماثل سیاسی تقریر ہی تھی وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے اس دوران کھربوں کے منصوبے شروع کئے مگر بڑے بڑے مخالف نے بھی ان پر بد عنوانی کا الزام نہیں لگایا انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں بلکہ ذاتی و کاروباری معاملات اچھالے جارہے ہیں انہوں نے مخالفین کو اس امر کا چیلنج دیا کہ 2018ء میں عوام کی جے آئی ٹی اور عدالت بھی لگنے والی ہے ۔ وزیر اعظم کی جانب سے اپنے دور اقتدار میں بد عنوانی میں ملوث نہ ہونے کا چیلنج اس بناء پر ایک بڑا دعویٰ ہے کہ کم وبیش تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک میں بد عنوانی عام ہے یوں تو شریف خاندان پر انگلیاں بہت اٹھ رہی ہیں وزیر اعظم کے اس کھلے دعوے اور چیلنج کے بعد اب الزام لگانے والوں کو صرف پانامہ لیکس پر انحصار نہیں کرنا چاہیئے بلکہ شریف خاندان کے خلاف ثبوت اور شواہد ڈھونڈ کر ان کو کٹہرے میں لا کھڑا کرکے اپنے دعوئوں کو سچا ثابت کرنے کی ضرورت ہے جہاں تک پانامہ کیس کا تعلق ہے قطع نظر اس کی رپورٹ اور عدالتی فیصلے کے سیاسی طور پر وزیر اعظم پیشی کے بعد نہ صرف مشکلات سے نکل آئے ہیں بلکہ اسے ایک اخلاقی بر تری بھی حاصل ہوگئی ہے جس کے بعد اب اس ڈھول کو پیٹنے والوں کے ڈھول کی آواز آہستہ آہستہ بیٹھ جائے گی جبکہ قطر کے سابق وزیر اعظم پرنس حماد دین جاسم الثانی سے جے آئی ٹی کی ٹیم قطر جا کر سوال جواب کر آئے اور انہوں نے دستاویزی شواہد پیش کردیئے تو جے آئی ٹی کی رپورٹ کا رخ متعین ہوگا جس کے بعد معاملات کا عدالت کو جائزہ لینے میں آسانی ہوگی ۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر جے آئی ٹی رپورٹ اور عدالتی فیصلے کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس ساری سعی کی کو کھ سے امید کی جو کرن پھوٹتی دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ وطن عزیز میں احتساب کی ایک نئی امید ہو چلی ہے اب سیاستدان ہوں یا بیورو کریسی یا مختلف اقسام کے مقدس گائے کسی کو بھی اب کھیل کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا عوام میں شفافیت اور اپنے وسائل کے صحیح استعمال اور ہر کسی کے جوابدہ ہونے کا ایک شعور ابھر رہا ہے جس سے اگر ماضی میں لوٹی گئی عوامی دولت کا حساب نہ بھی لیا جا سکے تو کم از کم آئندہ کیلئے قومی خزانے اور عوامی وسائل کے تحفظ کی راہ ضرور ہموار ہوگی ۔ جہاں تک وزیرا عظم نواز شریف کی طرف سے مخالفین کو آئندہ انتخابات یا دلانے اور بین السطور چیلنج دینے کا سوال ہے گوکہ حکومت سے عوام کی توقعات توپوری نہیں ہوئیں لیکن اس کے باوجود یہ چیلنج بے وجہ نظر نہیں آئی ۔ اس کھلے چیلنج کا جواب دینا جہاں مخالف سیاسی جماعتوں کا امتحان ہوگا وہاں آئندہ انتخابی نتائج بڑی حد تک پانامہ کیس کا عوامی فیصلہ بھی دے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس کے با وجود بھی آئندہ انتخابات بارے پرعزم کیوں ہے جبکہ آنے والے الیکشن کبھی بھی برسراقتدار جماعت کی کامیابی کی نوید لیکر نہیں آتے دعا اس امر کی کی جانی چاہیئے کہ وطن عزیز میں احتساب کا ایک ایسا کڑا مرحلہ شروع ہو جس میں وزیراعظم سے لیکر کلاس فور تک ہر ایک کا احتساب ہو سیاستدانوں سے لیکر صنعت کاروں اور چھوٹے بڑے تمام کاروباری افراد کا احتساب ہو ۔ عوام کو بھی اس امر کا ادراک ہوجانا چاہیئے کہ ان کی جانب سے احتساب کسی بھی عدالت اور ادارے کے احتساب سے بڑا احتساب ہوتا ہے ۔ کسی سیاستدان کا نہ تو مارشل لاء کے ذریعے احتساب کیا جا سکا ہے ار نہ ہی عدالت سے سزا ان کیلئے احتساب کے معنی رکھتا ہے سیاستدانوں کا احتساب عوام کے ووٹوں سے ہوا کرتاہے اگر عوام آمدہ انتخابات میں شعور کے ساتھ سوچ سمجھ کر ایسے عناصر کا انتخاب کریں جو ان کی دانست میں زیادہ موزوں اور دیانتدار امیدوار ہوں تو یہ پانامہ سے بڑھ کر ہوگا سیاستدانوں اور برسر اقتدار عناصر کا حقیقی احتساب ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے اگر عوام ہی خدا نخواستہ غلط فیصلہ کربیٹھیں تو ملک سے بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائزاستعمال کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟ ۔

متعلقہ خبریں