Daily Mashriq


پولیس سے تعاون میں کوتاہی نہ کی جائے

پولیس سے تعاون میں کوتاہی نہ کی جائے

چمکنی تھانے کی حدود میں افطار سے چند ساعت قبل پولیس موبائل پر فائرنگ سے تین اہلکار وں کے جاں بحق ہونے کاو اقعہ افسوسناک امر ہے پولیس اہلکاروں کا جوابی فائرنگ کر کے ایک حملہ آور کو ہلاک کرنا ان کی تیاری کی حالت میں ہونے کو ظاہر کرتا ہے ۔ گھاٹ لگائے اچانک حملہ کرنے والوں کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا حملہ آوروں کے ساتھی کی شناخت کو خفیہ رکھنے سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ شاید حملہ آور اور ہلاک شدہ رہزن نہیں بلکہ پولیس ان کو دہشت گرد سمجھ رہی ہے بہر حال تحقیقات کے بعد اس کی بھی حقیقت سامنے آئے گی ۔ رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں عوام کیلئے مشکوک عناصر کی شناخت اس لئے زیادہ مشکل نہیں کہ ان ایام میں شبے پر مبنی کی سرگرمی کا موقع ہی نہیں اب جبکہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے ان ایام میں لوگوں کی آمد ورفت بھی بڑھ جاتی ہے جس کی آڑ میں ممکنہ طور پر دہشت گرد عناصر بھی اپنے کی ہدف کو پالینے کی سعی کر سکتے ہیں جس کی بناء پر جہاں پولیس اور خفیہ اداروں کو مزید چوکس اور تیاری کی حالت میں رہنے کی ضرورت ہے وہاں عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی آس پاس کسی بھی قسم کے مشکوک شخص یا سرگرمی کی پولیس کو فوری طور پر اطلاع دیں ۔ پاک فوج اورپولیس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جو حالیہ سعی شروع کی گئی ہے یہ حملہ ممکنہ طور پر اس کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے خواہ کچھ بھی ہو عوام کوایک نیا اور زیادہ اعتماد موقع فراہم کیا گیا ہے جس میں پولیس کے ساتھ ساتھ فوجی جوان بھی شامل ہیں اس لئے عوام کو چاہیئے کہ وہ بے خوف ہو کر مشکوک عناصر کی اطلاع فراہم کردہ نمبر وں پر دیں تاکہ دہشت گردی کی کسی بھی سعی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے ۔ عوام کو اس امر کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ خواہ فوج ہو یا پولیس ہر ادارے کو عوام کے تعاون اور معلومات کی ضرورت رہتی ہے اگر معاشرے کا ہر فرد خاص طور پر نوجوان اور باشعور طبقہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر متعلقین سے معلومات کا تبادلہ کرے اور بروقت اطلاع دینے کی ذمہ داری پوری کرے تو اس طرح کے واقعات کی بڑی اور ممکنہ حد تک روک تھام ممکن ہو گی ۔

قیدیوں کا کھانا ، دعوے کے مطابق بہتری بھی لائیں

وزیر اعلیٰ کے مشیر ملک قاسم نے نجانے کس ترنگ میں خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو فائیو سٹا ہوٹلوں جیسا کھانا ملنے کا دعوی کیا ہے ان کی جانب سے دعوے کے ثبوت میں جیلوں کا دورہ کر کے دیکھنے کا اقدام سنجیدہ ہے ممکن ہے جیلخانہ جات کے مشیر کو دورے میں جیل میں کھانا کسی فائیو سٹار ہوٹل سے منگوا کر کھلایا یا دکھایا گیا ہو وگرنہ اگر جیل میں وہ تمام سازوسامان میسر بھی تب بھی جیل کے باورچی سے فائیوسٹار ہوٹل کے مماثل کھانے کی تیاری کی نہ تو توقع کی جا سکتی ہے اور نہ یہ کسی کے بس کی بات ہے ۔ بہرحال جب تک جیل کاکھانا قیدی بنے بغیر کھایا نہیں جاتا تب تک اس دعوے کو دعوے کی حد تک ہی سنجیدہ لیا جا سکتا ہے ہمارے تئیں جیلوںمیں خوراک و طعام کا اس قدر اعلیٰ انتظام اس لئے بھی موزوں نہیں کہ پھر فائیو سٹارہوٹل سے کھانے کی لالچ میں کہیں قیدیوں کی لائن ہی نہ لگ جائے ۔ بعض اوقات اس قدر بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں کہ ان کی چھان بین کئے بغیر جھٹلایا جائے تو مضائقہ نہیں ۔ موصوف کا بیان اس زمرے میں آتا ہے کہ اگر یہ سچ بھی ہے تب بھی اس پر سچ نہ ہونے کا گمان گزرتا ہے ایسا ہونا اس لئے بھی فطری امر ہے کہ ہمارے ہاں جیلوں میں صحت و صفائی قیدیوں کی تعداد بیر کوں کی حالت زار اور کھانے کے معیار کا حال سبھی کو معلوم ہے باوجود اس کے توقع کی جانی چاہیئے کہ مشیر جیلخانہ جات عام دنوں میں نہیں تو کم از کم رمضان المبارک کے اس آخری عشرے کے بابر کت ایام میں قیدیوں کی خوراک اور سہولیات میں بہتری لائیں اور عنداللہ ماجور ہوں ۔

متعلقہ خبریں