Daily Mashriq


مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کا کردار

مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کا کردار

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ اچانک نہیں ہوا ۔ یہ بائیکاٹ کافی عرصے سے متوقع تھا لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اتنی سخت شرائط پر قطر کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے حالیہ دورے نے اس بائیکاٹ کے وقت کا تعین کرنے میں مدد کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف تو سعودی عرب کی قطر کو تنہا کرنے کی پالیسی کی حمایت کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف صلح کار کا کردار ادا کرنے پر بھی مُصر دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ نے مڈل ایسٹ میں جاری اس بحران کے خاتمے کے لئے ترکی کو اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ امریکی صدر اور امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کا ایک صفحے پر نہ ہونا امریکی پالیسی میںابہام کا نتیجہ ہے یا امریکہ جان بوجھ کر دورخی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں آزادیِ اظہار ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹنگ تنازعات کو جنم دینے کا باعث بن رہی تھی۔

الجزیرہ کی آزادانہ رپورٹنگ مشرقِ وسطیٰ کی آمرانہ حکومتوں کے لئے دن بدن ناقابلِ قبول ہوتی جارہی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ قطر کی جانب سے مسلم برادر ہُڈ لیڈران کو پناہ دینا بھی تنازعے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ لیکن جو بات سب سے زیادہ عرب حکومتوں کے لئے تکلیف کا باعث تھی وہ قطر کے ایران کے ساتھ تعلقات اور حماس کی حمایت ہے۔ ایک آزادانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے قطر خطے میں اپنے مفادات کے حصول کی بھر پور کوشش کررہاتھا جس میں معاشی فوائد سرِ فہرست ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قطر اور ایران ایک گیس فیلڈ میں شراکت دار بھی ہیں۔ لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لئے قطر کی آزادانہ خارجہ پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔ دوسری جانب ایران کی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے کی کوشش اور اس حوالے سے ایران کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شام میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود بشار الاسد حکومت کی غیر مشروط حمایت،حزب اللہ کی حمایت و معاونت میں تسلسل اور عراق کے سیاسی و عسکری معاملات میں دخل اندازی وہ وجوہات ہیں جو ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو کشیدہ رکھتی ہیں۔ تُرکی کی جانب سے قطر کی حمایت کے حالیہ بیان کے بعد اس صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ خطے کے دیگر ممالک اپنے مفادات کے حصول کے لئے کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ قطر کی حمایت کرکے انقرہ شاید ایک عرب ملک میں اپنے قدم جما کر خطے میں اپنے کردار میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ قطر میں اپنی فوج بھیج کر تُرکی نے دیگر عرب ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ قطر کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ قطر کی حمایت کرکے ترکی نہ صرف خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا بلکہ اسرائیل کی عرب ممالک سے بہتر تعلقات کی کوششوں پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کرے گا۔ اس ساری صورتحال میں قطر صرف ایک حوالے سے کمزور نظر آتا ہے اور وہ ہے دیگر ممالک کی مصنوعات اور خوراک پر انحصار۔ قطرکی خوراک کا 80 فیصد سعودی عرب سے درآمد کیا جاتا ہے اور قطر کا واحد زمینی راستہ بھی سعودی عرب سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایسے حالات میں قطر کو سعودی مطالبات کو مان کر کوئی معاہدہ کر لینا چاہیے تھا لیکن ایران کی جانب سے 450 ٹن خوراک کی فراہمی اور ترکی کی جانب سے کسی بھی قسم کی مدد کی آفر قطر کو سعودی عرب اور اس کے حمایتی ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے روک رہی ہے۔غالب امکان یہ ہے کہ بیرونی امداد کے باوجود مستقبل قریب میںقطر کچھ سعودی شرائط مان لے گا اور سعودی عرب اور اس کے اتحادی بھی قطر کے خلاف اپنے بائیکاٹ کی شرائط میں نرمی لے آئیں گے۔ موجودہ حالات سے ایسا لگ رہا ہے کہ عنقریب حماس کی قیادت ایران یا سوڈان منتقل ہو جائے گی۔

مسلم دنیا کے لئے افسوس ناک امر یہ ہے کہ سنی حکمران اپنی شیعہ دشمنی میں اسرائیل کو بھی اپنا اتحادی بنانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ۔ مڈل ایسٹ میں جاری بحران اسرائیل کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ ان حالات میں کچھ عرصہ پہلے بنائے جانے والے اسلامک ملٹری الائنس کی حیثیت بھی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ عرب ممالک کے درمیان اختلافات نے پاکستان کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیاہے۔ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقا ت اور پاکستان کی وقتافوقتاً امداد کے علاوہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ دوسری جانب قطر اور پاکستان کے تعلقات بھی برادرانہ ہیں اور قطر پاکستان کوسب سے زیادہ گیس سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ اس وقت 80 ہزار پاکستانی بھی قطر میں ملاز مت کر رہے ہیں اور ورلڈ اولمپکس سے پہلے مزید ایک لاکھ پاکستانیوں کو قطر میں ملازمت ملنے کا امکان بھی موجود ہے۔تاریخی طور پرپاکستان عربوں کے اندرونی اختلافات میں غیر جانبدار رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میںپاکستان نے یمن کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ لیکن قطری وفد کا حالیہ دورہِ لاہور اور شہباز شریف سے ملاقات اور اس ہفتے نواز شریف کا دورہ ِ سعودی عرب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر پاکستان اور ترکی مشرقی وسطیٰ کے موجود بحران کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں