Daily Mashriq


جمہوریت خودسری یا خودسپردگی ؟

جمہوریت خودسری یا خودسپردگی ؟

شریف خاندان ملک میں ایک مخصوص شریفانہ کلچر کے نمائندہ اور علمبردار کی پہچان کا حامل رہا ۔اس خاندان سے وابستہ کہانیاں کبھی بازار وں اور اخباروں کا موضوع نہیں بنیں۔ اس خاندان کے حوالے سے جو کچھ معاشرے میں دہائیوں سے گردش کرتا رہا وہ سخاوت کی داستانیں ،خاندانی احترام کے قصے ،سڑکیں اور پل بناکر عوامی خدمت کی کہانیاں تھیں جو اکثر زمین پر منصوبوں کی صورت میں نظر بھی آتی تھیں ۔غلام اسحاق خان کے ہاتھوں ان کی حکومت کی برطرفی ہو یا جنرل مشرف کی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار کاخاتمہ ،عوام کبھی ان کی خاطر سڑکوں پر تونہیں نکلے یوں بھی کسی برطرف اور معتوب حکمران کے لئے سڑکوں پر نکلنا پاکستان کا کلچر نہیں۔یہ پاکستان کے کلچر کا حصہ ہوتا تو ذولفقار علی بھٹو کی برطرفی اور پھانسی پر عوام کا سیلاب سڑکوں پر اُمڈ گیا ہوتا ۔بھٹو صاحب کو شاید اس کا زعم بھی تھا تب ہی وہ اپنے خدمت گار نورے سے کہتے تھے کہ مجھے کچھ ہوا تو ہمالیہ بھی روئے گا مگر اس بے تاثر اور بے مہر دنیا میں پہاڑ تو کیا انسان بھی کم ہی روتے ہیں۔نوازشریف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیںکہ ہر برطرفی اور ہر عتاب کے بعد عوام کے قابل ذکر حلقے نے انہیں مظلوم جانا ۔یہاں تک عدالتوں کا رویہ بھی ان کے بارے میں فرینڈلی رہا ۔فوج بھی ایک حد تک ہی ان کے خلاف جاتی رہی ۔یہی گلہ کرتے کرتے بے نظیر بھٹو راہی ملک عدم ہو ئیں ۔وہ لاہور اور لاڑکانہ وزیر اعظم کے لئے دو الگ معیارات کی بات کہتی ہیں ۔ان کا شکوہ تھا کہ دو وزرائے اعظم فوجی بغاوت کی زد میں آکر اقتدار سے باہر ہوتے ہیں ایک بیرونی دبائو اور سفارشوں کے باجود تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اور دوسرے کے بارے میں بیرونی سفارشیں اور ڈپلومیسی یوں کام کرجاتی ہے کہ ایک سہانی صبح جیل سے نکل کر بیرونی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں اور پیچھے طیارے کا دھواں رہتا ہے یا عدالتوں میں کھلے مقدمات کی فائلیں جنہیں بہت احتیاط سے طاق نسیاں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔خد الگتی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو کا یہ گلہ کلی بلاجواز بھی نہیں تھا ۔میاں نوازشریف کو فرینڈلی ادارے ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ دوستانہ رویے کا حامل ہمدردانہ جذبات سے مغلوب میڈیا بھی دستیاب ہے ۔جس نے مدتوں تک میاں نوازشریف کا ''میڈ ان پاکستان اور بے نظیر بھٹو کا مغرب زدہ امیج بنائے رکھا ۔ اس کے باوجود میاں نوازشریف ہر بار طاقت کی راہداریوں پر چلتے چلتے جمہوریت کی گاڑی کا حادثہ کربیٹھتے ہیں۔آج پاکستان جن مناظر سے آشنا ہورہا ہے یہ شریف خاندان کے لئے قطعی نئی صورت حال ہے ۔خودپا کستانی عوام نے بھی اس سے پہلے لمحہ موجود کے حکمرانوں کو قانون کے آگے خود سپردگی کرتے نہیں دیکھا ۔ پانامہ کیس کے بعد شروع ہونے والا سارا معاملہ شریف خاندان کی مظلومیت ہے اورنہ ہی بقول مولانا فضل الرحمان بڑا پن ہے ۔ایک خاندان جو پنجاب کی صورت باسٹھ فیصد پاکستان پر 1985سے حکومت کرتا چلا آرہا ہے ۔جو مرکز میں تیسری بار حکومت کررہاہے ۔مجموعی طور پر یہ عرصہ بھی اب آٹھ نو سال پر محیط ہونے جا رہا ہے ۔ایک ایسا حکمران طبقہ جس میں اعلیٰ عہدوں پر عزیر واقارب ،دوست احباب کے فائز ہونے کا رواج عام ہو وہاں حساب اورجواب دہی کا سوال آخر کار کسی نہ کسی مرحلے میں اُٹھنا لازمی ہوتا ہے۔جمہوری حکمران یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے کہ ہمارا احتساب الیکشن میں عوام کرتے ہیں یا عوام بہترین منصف ہوتے ہیں ۔انتخابات کا مرحلہ تو پانچ سال بعد آتا ہے پہلے جمہوری حکمرانوں کو مضبوط احتسابی اداروں اور پارلیمانی نظام کے آگے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ۔عوامی احتساب کا مرحلہ آخر پر آتا ہے مگر حکمران احتساب اور جوابدہی کے پورے نظام کی بساط اس نعرے کے ساتھ لپیٹ دیتے ہیں کہ جمہوری حکمرانوں کا احتساب تو عوام کی عدالت میں ہوتا ہے ۔یہ تو مجبور عوام پر مختار ی کی تہمت کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں طاقتور حکمران کا کوئی تصور نہیں ۔جمہوریت میں متحرک سسٹم،مضبوط اداروں اور بالادست قانون کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے ۔اس نظام میں افراد کی اہمیت نہیں ہوتی ۔اسی لئے امریکہ اور برطانیہ جیسے جمہوری نظام میں کتنے ہی بش اور بلیئر،کتنے ہی کلنٹن اور کیمرون اپنی متعین اور معین مدت اقتدار پوری کرکے گمنامی کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں مگر سسٹم اپنا کام کرتا چلا جاتا ہے ۔نئے لوگ محفل کی رونق بڑھاتے چلے جاتے ہیں ۔جب بھی جمہوریت میں شخصیات طاقتور ہونے لگیں تو پھر اس نظام پر شخصی نظام کی چھاپ لگنا شروع ہوتی ہے ۔پھر وہ خالص جمہوری نظام نہیں رہتا ۔جمہوریت میں اسی لئے حکومت وقت کی گاڑی کے آگے قدم قدم پر احتساب اور جوابدہی کے سپیڈبریکر نصب ہوتے ہیں تاکہ حد رفتار بڑھنے نہ پائے ۔جب بھی کسی جمہوری حکمران کے اندر طاقتور ہونے خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس کے اندر آمریت کا ہیولا اور عفریت انگڑائی لے رہا ہوتا ہے ۔پاکستان نے جمہوریت کے راہ پر سفر کرنا ہے یا آمریت کے خارزاروں میں آبلہ پائی کرنا ہے ؟مدتوں سے جاری یہ مخمصہ اب دور ہوتا جا رہا ہے ۔اب یہ بات طے ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر ہی سفر جاری رکھنا ہے ۔جمہوریت کی شکل وصورت کیا ہوگی ؟اس پر دو رائے ہو سکتی ہیں مگر جمہوریت یا آمریت ؟یہ بات اب موضوع بحث نہیں رہی۔جمہوریت خود سری کا نہیں قانون کے آگے سپردگی کا نام ہے ۔یہ خوش آئند ہے کہ آج پاکستان ایسے مناظر سے آشنا ہورہا ہے کہ جب وقت کے حکمران احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ بہت اچھا ہے کہ جمہوری نظام اب پاکستان میں اصل روح اور تمام تقاضوں کے مطابق کام کرنے کی سمت میں سفر کرنے لگا ہے۔

متعلقہ خبریں