نواز شریف حکومت کی کار کر دگی

نواز شریف حکومت کی کار کر دگی

اگر ہم نواز شریف حکومت کی چار سالہ کا ر کر دگی پر نظر ڈالیں تو نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں پا کستان کا کل قرضہ24000 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ 35 ہزار روپے قرض دار ہے۔ جس وقت پیپلز پا رٹی نے 2013 میںحکومت چھوڑی اور اختیارات نواز حکومت کو الیکشن جیتنے کے صورت میں دئے گئے تو اُس وقت پاکستان کا کُل قرضہ 14318 ارب روپے تھا جو فی کس 77 ہزار روپے بنتا تھا۔ نواز شریف کے موجودہ چار سالہ دور حکومت میں پاکستان کے غریب عوام پر 9000 ارب روپے اور فی کس 50 ہزار روپے قرضے کا بوجھ ڈالا گیا ۔جو نواز شریف ، شہباز شریف ، زرداری یا کسی اور سیاسی لیڈر اور پارٹی نے نہیں دینا بلکہ یہ پاکستان کے غریب عوام دینگے۔ جب ملکی اور بین الاقوامی قرضیں بڑھیں گے تو سوشل کو کیا ملے گا۔ لوگوں کے لئے ترقی یافتہ کام کیسے ہونگے۔ اور اب تو حالت یہ ہے کہ ہم قرضوں کی ادائیگی کے سود کے لئے قرضے لے رہے ہیں۔پاکستان کا کل قرضہ ملک کی اقتصادیا ت کا فی صد70ہے۔ جو بُہت زیادہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان قرضہ دینے والا ملک تھا ۔ نواز شریف وہ خوش قسمت حکمران ہے جس کے دور میں عالمی ما رکیٹ میں خام تیل کی قیمت 30 اور 40 ڈالر بیرل کے درمیان رہی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں عالمی ما رکیٹ میں تیل کی قیمت 120 ڈالر سے لیکر 130ڈالر بیرل رہی مگر نہ تو نواز شریف کے دور میں بجلی اور توانائی کے ذرائع سستے ہوئے اور نہ دوسری چیزیں سستی ہوئیں۔ عالمی مارکیٹ میں 600 اشیاء کی قیمتیں سستی ہوگئیں مگر ہمارے ملک میں کوئی چیز بھی سستی نہیں ہوئی۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق 60 کی دہائی میں پاکستان نے جر منی کو 20 سال کے لئے 12 کروڑ روپے قرضہ دیا تھا۔ حکمران نہ صرف غریب عوام کے نام پر قرضے لے رہے ہیں بلکہ اب قومی اثا ثوں کو بیچ بیچ کر حکمران اپنی عیاشیاں پو ری کرنے اور تجو ریاں بھر رہے ہیں ۔اور اب یہ حالت ہوگئی کہ کئی سماجی اقتصادی اشارے بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان سے بھی گر گئے۔ایک زمانہ تھا جب چوک یادگار میں ہتھ گاڑی میں افغانی پیسے تبدیل کرنے کے لئے جاتے تو پو ری ہتھ گاڑی پر400 یا 500 روپے ملتے تھے اور فی الوقت ایک افغانی پاکستانی پونے دو روپے کے برابر ہے۔ اتنے ہم گر گئے۔ سال 1991 سے سال 2013 تک مختلف ادوار مختلف حکمرانوں نے جس میں نواز اور مشرف حکومت سرفہرست ہیں 172 کے قریب اثاثے 467 ارب روپے کے بیچے جس میں ٹی اینڈ ٹی جیسے بڑا ادارہ بھی تھا ۔ وہ پیسے غریب عوام کے فلاح و بہبود پر نہیں بلکہ حکمرانوں کی عیاشیوں کے نذر ہوگئے۔اور یہ ادارے منظور نظر افراد کو کم قیمت پر دئے گئے۔ اب بات یہاں تک آپہنچی ہے کہ نواز شریف حکومت نے قرقے لینے کے بعد مو ٹر وے، ریڈیو سٹیشن اور ٹیلیوژن سٹیشنوں کی عمارتوں اور ایر پو رٹس کو گروی میں رکھنا شروع کیا ہے۔ اقتصادیات کے اس ناگُفتہ بہہ حالت کے با وجود بھی نواز شریف اور اسحق ڈار کہتے چلے آرہے ہیں کہ ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے اور پاکستان بُہت جلد اقتصادی ٹا ئیگر بننے والا ہے۔ ہمیشہ ممالک قرضے لیتے ہیں اور اقتصادی ترقی کے لئے قرضے لینا کوئی بُری بات نہیں مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میں لئے گئے قرضے ملک اور عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ یہ پیسے حکمرانوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ دنیا کے 200 ممالک میں 130 ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بعد دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے ہیںمگر افسوس کی بات ہے کہ ان 130ممالک میں پاکستان ہر قسم کے سماجی اقتصادی لحا ظ سے سب سے نیچے ہے۔پاکستان میں ہر سال 35 لاکھ نو جوان نو کری کے لئے تیار ہو رہے ہیں مگر ان نوجوانوں کو کھپانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی انتظام نہیں۔پاکستان کی 84 ممالک کے ساتھ تجارت ہے مگر بد قسمتی سے پا کستا ن کا تجا رتی خسارہ 6.5 بلین ڈالر ہے۔سال 2013 سے سال 2015 میں پاکستان کی بر آمدات میں 14 فی صد کمی واقع ہوئی۔پاکستان کی کُل آمدنی میں صنعتی مد اہم کر دار ہوتا ہے جو ما ضی میں 25 فی صد تھی اور نواز حکومت میں 20 فی صد ہوگئی۔ٹیکسٹائیل انڈسٹری میں 43 فی صد کمی ہوئی۔ ملک کا 5 فی صداشرافیہ اور حکمران ملکی وسائل کو لوٹتے رہتے ہیں اور اپنی تجو ریاں بھر رہے ہیں۔غریبوں کے نام پر ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے پیسے لئے جاتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے سماجی اقتصادی اشارے اچھائی کے بجائے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔اس ملک کے غریب عوام کی زندگی میں اُس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک وہ اس قسم کے کرپٹ اور بد عنوان حکمرانوں کو چُن کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔اب جبکہ عام انتخابات کی آمد آمد ہے میں اس کالم کی تو سط سے پاکستان کے عوام سے استد عا کرتا ہوں کہ خدارا ذات پات ، سیاسی پا رٹی سے نکل کر ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو کم ازکم بد عنوان اور کرپٹ نہ ہوں۔

اداریہ