Daily Mashriq


روزے کیسے گزر رہے ہیں؟

روزے کیسے گزر رہے ہیں؟

زندگی کا سفر جاری ہے رمضان المبارک کا مبارک مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ہمیں لفظ اختتام سے بھی اختلاف ہے ہمارے نانا جان کہا کرتے تھے بیٹا رمضان المبارک تو ہر سال آتا ہے لیکن ہم نہیں ہوتے پچھلے رمضان المبارک میں کتنے ہی لوگ بقید حیات تھے مگر وہ آج ہم میں نہیں ہیں ! اللہ پاک کے نیک بندے رمضان المبارک کی رخصتی پر آنسو بہاتے ہیں وہ اس بابرکت مہینے کی برکات یاد کرتے ہیں صلواة تراویح میں قرآن پاک کا سننا ، سحری کھانے سے پہلے صلواة تہجد کااہتمام ،دن بھر تلاوت کلام پاک اور فرض باجماعت نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کو خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا ! یہ تو نیک لوگوں کی باتیں ہیں اور ایسے لوگ یقینا آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں ہم اپنی بات کرتے ہیںعوام کی بات کرتے ہیں جن میں دکانداربھی شامل ہیں، سرکاری ملازم بھی اور دوسرے شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی !ہم سب کا رمضان المبارک کے حوالے سے عمومی رویہ کیا ہوتا ہے؟تکلف برطرف آج اس پر بات کرتے ہیںروزوں سے چند دن پہلے استقبال رمضان کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں کھانے پینے کی اشیاء کے ذخیرہ کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے سفید پوش حضرات کا فرمانا ہے کہ اس مبارک مہینے میں اخراجات بڑھ جاتے ہیںاخراجات بڑھنے کی ایک سادہ سی وجہ ہمیںتو یہ نظر آتی ہے کہ کھانا پینا بڑھ جاتا ہے تکلفات برتے جاتے ہیں افطاربڑے اہتمام سے کی جاتی ہے فضول خرچی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بہت کچھ کھانے پینے سے رہ کر ضائع ہوجاتا ہے ۔ اب تو عید کی آمد آمد ہے اور پھر عید کی شاپنگ کا موسم شروع ہوچکا ہے پندرہویں روزے کے بعد تو اترائی شروع ہوجاتی ہے اب تو روزوں سے ہٹ کر ذہن عید کی تیاریوں کے حوالے سے سوچتا رہتا ہے میاں جی نے ان کی بات سن کر برا سا منہ بناتے ہوئے کہا جناب آپ کو روزے کا احساس کیسے ہوگا آپ سحری تک جاگتے رہتے ہیں پھر سحری سے فراغت کے بعد لمبی تان کر سوتے ہیںتو ظہر کی نماز کے لیے بیدار ہوتے ہیں ایئر کنڈیشن گاڑی میں آئے ہیں ایئر کنڈیشن آفس میں بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ کو روزے کے ہونے یا نہ ہونے کا کیسے پتہ چلے گا؟ آپ اپنی ٹھنڈی گاڑی سے اتر کر باہر دیکھے روزے کا اس مزدور سے پوچھے جو گرمی کے موسم میں کھلے آسمان تلے آگ برساتے سورج کے نیچے مزدوری کر نے پر مجبور ہے کبھی ٹرک سے غلے کی بوریاں اتارتے ہوئے مزدور سے پوچھیے کہ روزے کیسے گزر رہے ہیں؟ہمیں میاں جی کی باتیں سن کر اپنے گھر کے سامنے پڑوسی کے مکان میں کام کرتے ہوئے راج مزدور یاد آگئے جو سحری کے بعد کام شروع کردیتے ہیں صبح دس گیارہ بجے تک کام کرنے کے بعدیہ تھکے ہارے مزدور اپنے اپنے آشیانوں کی طرف واپس لوٹ جاتے ہیں واقعی رمضان المبارک کا احساس تو انہیں ہوتا ہوگا جن کے کام کی ساری ترتیب ہی بدل جاتی ہے لیکن کام تو بہرحال کرنا ہوتا ہے ! جب مساجد میں قرآن پاک کاختم مکمل ہوجاتا ہے تو پھر اس قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں بس یار بڑی تراویح تو ختم ہوگئی ہے اب چھوٹی تراویح ہے پندرہ بیس منٹ میں فارغ ہوجاتے ہیںاب تراویح کے بعد بازاروں کی رونق بڑھ جاتی ہے جس طرف دیکھیے کھاتے پیتے لوگوں کے ہجوم نظر آتے ہیں قصہ خوانی اور دوسرے بڑے بڑے بازاروں میں لوگ فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی چوکیوں پر بیٹھے تکے کباب کھاتے نظر آتے ہیں ساتھ ہی ان کے ٹھنڈی لسی کا انتظام موجود ہے ٹھنڈا ٹھار لیموں پانی بھی بک رہا ہے قہوے کے دور بھی چل رہے ہیں ان کھاتے پیتے چہلیں کرتے لوگوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انھوں نے اپنے گھروں میں افطار نہیں کی ؟ بڑے بوڑھے کہتے ہیں بیٹا یہ بھی روزے کی برکات ہیں ہر بندے کا رزق بڑھادیا جاتا ہے کھائو پیو موج کرو بس روزہ رکھو نماز پڑھو زیادہ حساب کتاب میں نہ پڑو یہ سب کریم کا کرم ہے وہ اپنے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے ہم سوچتے ہیں کہ بزرگ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ! اب تو آخری عشرہ ہے یہ عید الفطر کی خریداری کے لیے مخصوص ہے خواتین بھی فیشن ایبل ملبوسات اورمہندی چوڑیوں کی خریداری میں مصروف نظر آتی ہیں عیدکارڈ بھجوانے کا چلن پہلے جیسا تو نہیں رہا لیکن اب بھی کچھ لوگ پرانی روایات کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں مینابازار، شاہین بازار اور کوچی بازار کی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں چونکہ منچلوں کی کثر ت بھی ان بازاروں کا طواف کرتے نظر آتی ہے اس لیے پولیس کے جوانوں کی موجودگی بھی ان بازاروں میں ضرور ی سمجھی جاتی ہے مینا بازار میں تو مردوں کا داخلہ بند کردیا جاتا ہے تاکہ اماں حواکی بیٹیاں سکون سے خریداری کرسکیں لیکن حوا کی بیٹی کے نصیب میں سکون کہاں؟ان بازاروں میں ایسی عورتیں بھی گروہ در گروہ موجود ہوتی ہیں جو چوری چکاری کے فن میں ماہر ہوتی ہیں اور موقع پاتے ہی اپنے فن کا مظاہرہ ضرور کرتی ہیں ہم اس حوالے سے خواتین کو ہمیشہ سے ایک سکہ بند مشورہ دیتے آئے ہیںکہ کپڑے، چوڑیاں اور مہندی رمضان المبارک سے پہلے بھی خریدی جاسکتی ہیں لیکن ہم جیسوں کے مشورے پر کون کان دھرتا ہے ؟ مینابازار میں خواتین نہ صرف چوڑیوں کی خریداری کرتی ہیں بلکہ انھیں چوڑیاں پہنانے کا بھی خاطر خواہ بندوبست ہوتا ہے اس لیے بہت سے منچلے اس قسم کی خدمت کے لیے ہر دکان پر دستیاب ہوتے ہیں!بس یوں کہیے رمضان المبارک کا مہینہ انہی حیلے بہانوں سے گزر جاتا ہے !۔

متعلقہ خبریں