Daily Mashriq

سندھ: کپاس کی فصل پر ٹڈی دل کے حملے کا اندیشہ، کسان پریشان

سندھ: کپاس کی فصل پر ٹڈی دل کے حملے کا اندیشہ، کسان پریشان

کراچی: صوبہ سندھ کے متعدد اضلاع میں ٹڈی دل کے حملوں کے بعد اب یہ خیر پور میں کپاس کی فصلوں کی جانب بڑھ رہی ہیں جس سے ہزاروں ایکڑ پر پھیلیے پودوں کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔

مذکورہ صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی برائے تحفظ خوراک نے ٹڈی دل کے حملوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا کہ حکومت ان حشرات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے لیکن کسانوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

خیر پور کے کسانوں نےاپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو 30 ہزار سے 40 ہزار ایکڑ پر پھیلی فصلوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ضلع خیر پور کے تعلقہ نارا اور میرواہ کے متاثرہ علاقوں سے کچھ کلو میٹر دور ہی ذرعی زمینوں کو لاکھوں کی تعداد میں حشرات الارض کے حملے سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سندھ چیمبر آف ایگری کلچر خیر پور کے صدر نثار خاصخیلی کا کہنا تھا کہ ’یہ سرسبز زمین متاثرہ علاقوں سے صرف 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں حشرات الارض جنگلی جھاڑیوں کو کھا رہے ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ کو وہ اڑ کے ہماری فصلوں کی طرف بھی آسکتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس قسم کی ہنگامی صورتحال میں یہ معاملہ وفاقی حکومت کے خصوصی اختیارات میں آجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کا اس معاملے سے تعلق نہیں اس لیے انہوں نے اببھی تک کوئی امداد بھی فراہم نہیں کی جبکہ بہت سے زمیں داروں کے پاس ایسی گاڑیاں بھی نہیں جو صحرا میں جا کر حشرات الارض کی روک تھام کے لیے کوئی کام کرسکیں۔

نثار خاص خیلی نے بتایا کہ ٹڈی دل کا گزشتہ حملہ 1980 اور 1990 میں ہوا تھا، مقامی افراد کو عیدالفطر سے ایک ہفتہ قبل صحرا نارا اور میر واہ میں بارش کے بعد ٹڈی دل کے حملے کا علم ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق ٹڈیوں میں صحرائی ٹڈی دل سب سے خطرناک قسم کے ہوتے ہیں جن کے پاس بڑے فاصلے تک تیزی سے پھیلنے کی قابلیت ہوتی ہے، حالیہ دنوں میں ٹڈی دل کا حملہ سب سے پہلے یمن میں ہوا جس کے بعد اس نے سعودی عرب اور ایران کو متاثر کیا۔

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں مقامی کسانوں کی تنظیم کے سربراہ خدا عزیز بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اس وبا کی پہلی اطلاع تقریباً 2 ماہ قبل موصول ہوئی جس کے بعد سے اب تک 99 فیصد سبزے پر پھیل چکی ہے۔

دوسری جانب فضائی اسپرے نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیکنکل ڈی پی پی طارق خان کا کہنا تھا کہ فضائی اسپرے صرف اس وقت موثر ہوتا ہے جب ٹڈی دل سینکڑوں کلو میٹر تک پھیلے ہوئے ہوں اسلیے ہمارا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں زمینی کارروائی زیادہ بہتر رہے گی۔

متعلقہ خبریں