Daily Mashriq

افغان مہاجرین واپسی۔۔ پالیسی کیا ہے؟

افغان مہاجرین واپسی۔۔ پالیسی کیا ہے؟

خیبر پختونخوا حکومت نے افغان باشندوں کے قیام کی مدت میں توسیع نہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کے بعد پشاور میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کیخلاف ایکشن لینا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ چند روز میں ایک ہزار مہاجرین کو حراست میں لے کر ان میں سے سینکڑوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ افغان باشندوں کی پاکستان میں قیام کی مدت 30جون کو ختم ہو رہی ہے۔ ادھر دوسری جانب پشار سمیت ملک کے دیگر شہروں میں مقیم ایک ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس کھول دئیے گئے ہیں بلکہ انہیں اے ٹی ایم کی سہولتیں دینے کیلئے اے ٹی ایم کارڈز کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے جس سے اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ وفاقی حکومت افغان مہاجرین کے قیام کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی واپسی میں سنجیدہ نہیں ہے اور اسی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر ابھی تک کوئی جوابی مراسلہ موصول نہیں ہوا۔ جہاں تک پشاور یا صوبے کے دیگر مقامات پر غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کی پاکستان بدری کا تعلق ہے اس حوالے سے ان کیخلاف کریک ڈاؤن کو کسی بھی طور غلط قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن میں سے اکثر لوگ منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں حالانکہ پانچوں انگلیاں برابر نہ ہونے کے حوالے سے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا نہیں جاسکتا مگر گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ایک بار پھر ان کیخلاف کریک ڈاؤن کے وقت متعلقہ اداروں سے اتنی گزارش ضرور کی جاسکتی ہے کہ ان کو کسی بھی غیرانسانی سلوک کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ انہیں واپس اپنے وطن روانہ کرتے ہوئے حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے کیونکہ جب ایسے لوگ جن کیساتھ خواہ اچھا سلوک ہی کیوں روا نہ رکھا گیا ہو واپس جا کر پاکستان کیخلاف جس زہریلے پروپیگنڈہ مہم اور سرگرمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اس کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں آسانی سے دیکھی جاسکتی ہیں جن میں یہ لوگ نہ صرف پاکستان کے قومی پرچم بلکہ بانی پاکستانی حضرت قائداعظم کی تصاویر کی بے حرمتی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ لگ بھگ 42/40 سال سے ان کی تین نسلیں پاکستان کی میزبانی سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونے کے باوجود جس طرح بے شرمی سے یہ پاکستان کو گالیاں دیتے اور اس پر تبرہ تولتے رہتے ہیں اس ’’مہمان نوازی‘‘ اور ’’مہمان داری‘‘ کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملے گی۔ رہی حکومت پاکستان کی افغان مہاجر پالیسی کی بات تو تازہ ترین اقدامات یعنی ان کے بینک اکاؤنٹس کی بحالی اور اے ٹی ایم کی سہولیات کی فراہمی کے بعد تو وفاق کی جانب سے واضح اشارہ سمجھ لینا چاہئے یعنی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت ان لاکھوں کی تعداد میں مقیم افغان باشندوں کو فی الحال واپس بھیجنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی کیونکہ اگر وفاق اس معاملے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا اب تک نہ صرف یو این ایچ سی آر کے متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا ہوتا بلکہ خود بھی اس حوالے سے مہاجرین کی واپسی کیلئے اقدامات اٹھانا شروع کر دیتا۔ اُردو محاورے کے مطابق جس تن لاگے سو تن جانے کے مصداق ان مہاجرین کی چیرہ دستیوں کا شکار سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کے عوام ہی ہیں جن کے نہ صرف کاروبار پر یہ لوگ قابض ہو چکے ہیں بلکہ صوبے کی معاشرتی اقدار کو جس قدر سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اس کی تفصیل میں جا کر ہم وقت برباد کرنا نہیں چاہتے مگر کئی دہائیوں سے صوبے کے عوام بالعموم اور پشاور کے عوام بالخصوص ان مہاجرین کیخلاف احتجاج کرتے کرتے تنگ آچکے ہیں اور اپنے عوام کی مشکلات کے پیش نظر صوبائی حکومت بھی عوام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے متعدد بار وفاق سے مطالبہ کر چکی ہے کہ اب ان مہاجرین کو مزید قیام کی اجازت دینے کی بجائے عزت واحترام کیساتھ واپس اپنے وطن روانہ کیا جائے کیونکہ اب ان کا مزید قیام برداشت سے باہر ہو چکا ہے لیکن حیرت کا مقام ہے کہ نہ تو عوام کی مشکلات کا وفاقی حکومت کو احساس ہے نہ ہی صوبائی حکومت کی درخواست پر کوئی توجہ دی جا رہی ہے اور ایک لمبی چپ سادھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پشاور کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور ان کی شدید خواہش ہے کہ اب ان ہمسایوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہہ کر واپس روانہ کر دیا جائے۔ اس لئے وفاقی حکومت اپنے عوام کے مفادات کو غیرملکیوں کی خواہشات پر قربان کرنے کی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے انہیں خدا حافظ کہنے کیلئے تیار ہو جائے تاکہ پاکستان میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔

متعلقہ خبریں