Daily Mashriq

مشترکہ مفادات کونسل اور پن بجلی منافع

مشترکہ مفادات کونسل اور پن بجلی منافع

وزیراعظم عمران خان کا اہم اجلاس آج بروز پیر وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے جس میں سات نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا جبکہ ان سات نکات میں ایک اہم نکتہ خیبر پختونخوا کیلئے اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کے اعداد وشمار کے حوالے سے غور اور اس سلسلے میں بعض اہم فیصلے کرنے ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں دیگر کئی معاملات بھی زیرغور آئیں گے اور ان سطور کے شائع ہونے کے بعد منعقد ہونے والے اجلاس میں کئی فیصلے متوقع ہیں تاہم جہاں تک خیبر پختونخوا کے پن بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کا تعلق ہے اس حوالے سے نہ صرف واپڈا کے اعلیٰ حکام بلکہ وفاقی حکومت بھی طویل عرصے سے لیت ولعل کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ماضی میں تو خیر خیبر پختونخوا کیساتھ اس معاملے میں معاندانہ رویہ اختیار کرنے کا جواز یہ ہوتا تھا کہ وفاقی اور صوبے میں عمومی طور پر دو مختلف یا بعض اوقات ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں کی حکومتیں ہوتی تھیں اور وفاق میں برسراقتدار جماعت صوبے کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی پر اس لئے عمل پیرا ہوتی تھی کہ اگر صوبے کو اس کا جائز اور آئینی حق دیدیا گیا تو صوبے میں برسراقتدار حکومت اپنے عوام کے مفادات کے تحت ترقیاتی منصوبے شروع کرکے انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کردے گی اور نتیجتاً آنے والے انتخابات میں اسے ہی عوام دوبارہ منتخب کر لیں گے۔ تاہم اس وقت وفاق اور خیبر پختونخوا میں ایک ہی جماعت تحریک انصاف برسراقتدار ہے جبکہ انتخابات سے پہلے اور بعد میں وزیراعظم اس بات کا عندیہ دیتے رہے ہیں کہ صوبے کو اس کے جائز آئینی حق سے محروم نہیں کیا جائے گا مگر انتہائی افسوس کیساتھ گزارش کرنا پڑ رہی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو پن بجلی منافع سے اب بھی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت محروم رکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ محمود خان سے متعدد بار ملاقاتوں کے دوران پن بجلی منافع کی ادائیگی کے حوالے سے وعدے کئے بلکہ اس بارے میں واضح احکامات بھی صادر کئے لیکن متعلقہ وزارت ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور کبھی ایک بہانہ‘ کبھی دوسرا بہانہ کرکے معاملے کو طول دے رہی ہے۔ وفاقی حکومت کسی طور اے جی این قاضی فارمولے پر عمل درآمد کرنے کو تیار نہیں ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ صوبائی حکومت بہرصورت اس فارمولے سے دستبردار ہو جائے جو صوبے کے عوام کے آئینی حقوق کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔

کون ٹیکس نادہندہ ہے؟

چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی نے کہا ہے کہ نان فائلرز کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نامی قانون کے تحت ڈیٹا اور معلومات مل رہی ہیں۔ اگر ہم ٹیکس اکٹھا نہیں کر پا رہے ہیں تو یہ نظام کی کمزوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کی خرابی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرپٹ افسروں کیخلاف کارروائی کیلئے سیل قائم کر رہے ہیں۔ جہاں تک چیئرمین ایف بی آر کے خیالات کا تعلق ہے ہم ان سے پوری طرح متفق ہیں کہ سسٹم میں کمزوریوں اور بقول ان کے کرپٹ افسروں کی وجہ سے ٹیکس اکٹھا کرنے میں دشواریاں ہیں تاہم گزارش یہ ہے کہ جہاں وہ ادارے میں ہونے والی کرپشن اور اس میں ملوث مبینہ کرپٹ مافیا کے ملوث ہونے کا تعلق ہے یہ تو اپنی جگہ لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ ملک میں موجود بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کو آج تک کوئی بھی حکومت ملکی وسائل میں اضافے کیلئے زرعی ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور نہیں کرسکی کیونکہ قیام پاکستان کے بعد پارلیمنٹ میں اسی طبقے کا غلبہ رہا ہے جو آج تک برقرار ہے اور جب تک اس طبقے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جائے گا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

پشاور کے عوام کب سکھ کا سانس لیں گے؟

پرویز خٹک کے دور میں شروع ہونے والے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب اس پر مزید تبصرہ کرنا تضیع اوقات ہی لگتا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ منصوبے میں ہر ماہ دو ماہ بعد نئی کھنڈت پڑ جاتی ہے اور کوشش کے باوجود کہ اس سے صرف نظر کیا جائے مجبوراً پھر تبصرہ کرنا پڑ جاتا ہے‘ تازہ ترین خبر کے مطابق منصوبے میں گل بہار سیکشن کے قریب سڑک کی تنگی پر سوال اُٹھ رہے ہیں جبکہ دو روز قبل مختلف جگہوں پر لگے ہوئے جنگلوں کے غائب ہونے کی تصویریں سامنے آئی تھیں۔ اب ایسی صورت میں کوئی کہاں تک منصوبے پر تبصرہ کرنے سے درگزر کی پالیسی اختیار کرے کہ اخبارات کا کام ہی مختلف منصوبوں میں کمزوریوں اور متعلقہ حلقوں کی ناقص کارگزاری کے بارے میں عوام کو باخبر کرنے کیساتھ حکومت کو متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اب یہ منصوبہ حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ جن نشئیوں نے جنگلے کاٹ کر نشے کی لت پوری کی ہے ان کو جنگلے کاٹتے ہوئے کیا کسی بھی سرکاری سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں نے نہیں دیکھا اور کیا گلبہار سیکشن میں سڑک کی تنگی کا بھی کسی کو احساس نہیں ہوا، اس پر غور کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں