Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حکایات سعدی میں شیخ سعدیؒ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ دو خراسانی فقیر اکٹھے سفر کر رہے تھے ان میں سے ایک تو بوڑھا تھا جو دوسرے دن کھاتا اور دوسرا موٹا کڑیل جوان‘ جو دن میں تین بار کھاتا۔ یہ دونوں اتفاقاً کسی شہر میں جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے اور حاکم کے حکم سے ان کو ایک کوٹھڑی میں بند کرکے دروازے کو اینٹوں سے بند کرا دیا گیا۔ دو ہفتے بعد معلوم ہوا کہ دونوں بے گناہ تھے۔ اس پر حاکم نے دروازہ توڑوا دیا مگر دیوار کھلنے پر لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ موٹا جوان تو مرا پڑا تھا اور ضعیف بوڑھا ابھی تک زندہ وسلامت ہے۔

اتفاق سے ایک حکیم کا بھی ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے لوگوں کو تعجب میں دیکھ کر کہا۔ ’’عزیزو! تعجب تو جب ہوتا کہ بوڑھا مرجاتا اور جوان بچ رہتا۔ جوان بہت کھانے والا تھا بھوک پیاس کیسے سہار سکتا تھا۔ لاچار مرگیا اور بوڑھا کم خور تھا اس نے اپنی عادت کے موافق صبر کیا‘ جس سے اس کی جان بچ گئی‘‘۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمیں اطوار میں اعتدال رکھنا چاہئے اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ کھانا کھانے سے ہم میں طاقت آئے گی تو یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ بسیارخوری الٹا بیماریوں کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس سے ہمارے اندر قوت برداشت ختم ہو جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو سست اور کاہل کردیتی ہے اور یہ سستی اس کی عبادت میں بھی خلل ڈالتی ہے۔

مشہور دانا حضرت لقمان تن پرور اور نازک بدن نہیں تھے۔ ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر آدمی کا سیاہ فام غلام کہیں بھاگ گیا۔ اس آدمی نے غلطی سے حضرت لقمان کو اپنا بھاگا ہوا غلام سمجھ لیا اور انہیں اپنا مکان بنانے پر لگا دیا۔ بے چارے دن بھر گارا اور اینٹیں ڈھوتے رہتے یہاں تک کہ ایک برس گزر گیا اور مکان بن کر تیار ہوگیا۔ اتفاق سے انہی دنوں امیر آدمی کا بھاگا ہوا غلام بھی واپس آگیا۔ وہ سخت شرمندہ ہوا اور حضرت لقمان کے پاؤں پر گر پڑا کہ مجھے معاف کر دیجئے۔ لقمان ہنس پڑے اور کہا اب معافی کا کیا فائدہ میں سال بھر خون جگر پیتا رہا ہوں اس کو ایک دم کیسے فراموش کردوں لیکن خیر تمہیں معاف کرتا ہوں کیونکہ تمہیں فائدہ پہنچا اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ میرا بھی ایک غلام ہے بعض اوقات اس سے سخت کام لیتا ہوں آئندہ میں اس کو کبھی نہ ستاؤں گا کیونکہ مجھے سال بھر کی یہ مٹی اُٹھانے کی مشقت ہمیشہ یاد رہے گی۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر ہم کسی سے کوئی بھاری مشقت کا کام لیں تو ہم پہلے خود کو اس کی جگہ رکھ کر دیکھیں کہ کیا ہم خود وہ کام کر سکتے ہیں جو دوسروں سے لینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی اس پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں جس کی وہ سکت رکھتا ہے مگر آج کل عام طور پر ہوتا اس کے برعکس ہے کہ ہم خود تو عام سی چیز اٹھا نہیں سکتے مگر دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ 10 سے 15 پندرہ کلو چیز اٹھائے یا 8 سے 10گھنٹے مسلسل کام کرے۔ ہمیں ہر کام کروانے سے قبل خود کو سامنے رکھنا چاہئے تاکہ کسی سے زیادتی نہ ہو اور کسی کی آہیں یا بد دعائیں نہ لیں۔

متعلقہ خبریں