Daily Mashriq

پاکستان کا معاشی بحران اور امریکہ

پاکستان کا معاشی بحران اور امریکہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بجٹ پاکستان اور طاقتور ممالک کے کھیل کے پس منظر میں ایک اہم بجٹ ہے، جس کے اثرات کا سامنا نہ صرف ملک کے عوام کو کرنا پڑے گا بلکہ اس کے ملک کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والا وقت پاکستان کیلئے کئی لحاظ سے مشکل ہوگا۔ آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پر مبنی، زمینی حقائق سے مبرا اور پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی منشور سے براہِ راست متصادم طاقتور طبقات کو نوازنے کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں غریب عوام پر ٹیکسوں کا ناروا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ چنانچہ یہ وفاقی بجٹ معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے، بیمار معیشت کو بحال کرنے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانے کی قطعی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بجٹ تجاویز کے مطابق اگلے مالی سال میں معیشت کی شرح نمو تقریباً 4فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ جنوبی ایشیاء کی اوسط شرح نمو 7فیصد ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو جو شرح نمو ورثے میں ملی تھی وہ 5.4فیصد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے دوسرے سال میں بھی معیشت کی شرح نمو میں اس سے پیچھے رہے گی جو اسے ورثے میں ملی تھی جس کے نتیجے میں غربت اور بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا ہے، اگر دیکھا جائے تو دفاع کی مد میں تقریباً 1150ارب روپے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2900ارب روپے اور ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت 3250ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ ان تینوں مدوں میں 7300ارب روپے کے اخراجات آئیں گے جبکہ وصولی صرف5550ارب روپے ہے یعنی اگر ہدف حاصل ہوجائے تب بھی ان تین مدوں میں پورا نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ باقی اخراجات کس طرح پورے ہوں گے؟ جبکہ اس کے علاوہ ترقیاتی اخراجات، تنخواہیں اور دوسرے اخراجات کو قرضے لیکر، نوٹ چھاپ کر اور عوام پر بوجھ ڈالنے کے علاوہ بجلی، پیٹرول، گیس کے نرخوں میں اضافے کی شکل میں اور قومی اثاثے بیچ کر پورا کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی حکومت اگر ایسا کرتی ہے تو یہ قومی سلامتی اور قومی مفادات سے متصادم چیز ہوگی۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور امریکہ کی آشیرباد سے پاکستان کو بیرونی قرضے مل جائیں اور طاقتور طبقات جو ٹیکس چوری کرتے ہیں، قومی دولت لوٹتے ہیں ان کی مدد سے اقتدار کو برقرار رکھا جائے یعنی ڈالر اور اقتدار کا حصول ہی اس بجٹ کا اصل مرکزی نقطہ ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ کے معیشت پر منفی اثرات ہوں گے، عوام اور متوسط طبقے کے افراد کچلے جائیں گے۔ مراعات جو تھوڑی بہت دی گئی ہیں وہ عوام کی دوسری جیب سے اس سے کہیں زیادہ نکال لی جائیں گی۔ موجودہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے100دن کے اندر ہم معیشت کو بحال کرنے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کیلئے عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کریں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاق اور صوبے ہر مقررہ رقم سے زیادہ رقم اورآمدنی پر ٹیکس لگائیں گے، معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا۔ کالے دھن کو سفید نہیں کیا جائے گا اور کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں لائی جائے گی لیکن ان وعدوں کے برعکس تمام کام کئے گئے ہیں۔ اگر ان وعدوں پر عمل کیا جاتا تو ملک کے70فیصد معاشی مسائل حل ہو جاتے۔ اب افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان اصلاحات کیلئے نہ ان کی کابینہ تیار ہے، نہ پارلیمنٹ تیار ہے، نہ صوبے۔ موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں بھی عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ نہیں ہوسکے گی۔ ٹیکس ایمنسٹی میں تو یہ کہا گیا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت جو باہر لیکر گئے ہیں وہ باہر ہی رہنے دی جائے جو کہ خود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اپنے سب سے بڑے نعرے کی نفی ہے۔ یہ مضحکہ خیز اور شرمناک بات ہے کہ حکومت طاقتور طبقات اور پراپرٹی مافیا کے آگے جھک گئی ہے۔ اگر ملکی قوانین کے تحت ٹیکس لیا جائے تو ایک ہزار ارب روپے مل جائیں گے اور اس کے نتیجے میں اضافی ٹیکس نہیں لگیں گے اور مزید مہنگائی نہیں ہوگی۔ حکومت کی طرف سے جو پالیسیاں اپنائی گئی ہیں ان سے معلوم ہو رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کم ازکم پہلے تین سال میں ملک میں معاشی شرح نمو نیچے ہی رہے گی اور غربت و بیروزگاری لامحالہ بڑھے گی۔ اس وقت ملک کو ڈالر کی شدید ضرورت ہے، آپ ایک جانب آئی ایم ایف کے پاس بھاگ رہے ہیں اور دوسری جانب لوٹی ہوئی دولت کو باہر رکھنے کا کہہ رہے ہیں جو لوگ یہاں سے دولت چوری کرکے لے گئے اور آپ کو پتا بھی چل گیا، تو لوٹی دولت واپس لانے اور ان لوگوں پر مقدمات کرنے کے بجائے آپ ان کو کہہ رہے ہیں کہ وہ پیسہ باہر رکھیں! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نیو گریٹ گیم کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے، معیشت کو کمزور اور معاشی بحران کو سیاسی بحران میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ بجٹ تجاویز اور حکومتی پالیسیاں ان مذموم مقاصد کی شعوری وغیرشعوری کوشش نظر آتی ہیں۔ اس بات کو سنجیدہ طبقات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف جس کی کمیٹی کا وائس چیئرمین بھارت ہے، اسے وہ کس طرح سے استعمال کررہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کچھ عرصے بعد ہمیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔ پاکستان کی سرحدوں پر تناؤ، ہمارے جوہری پروگرام پر سوالات، بھارت کو علاقے کا چودھری بنانے کا پلان۔۔ یہ سب ایک خاص حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوست ممالک کے9ارب ڈالر بغیر امریکی اجازت کے نہیں مل سکتے، ایسا نہ ہو کہ ہم کو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں ملوث کر دیا جائے۔ یہ صرف مہنگائی، بیروزگاری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ یہ خطرات اس قسم کے بجٹ اور معاشی پالیسیوں سے بڑھتے نظر آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں