Daily Mashriq

کیا پوچھتے ہو حال میرے روزگار کا

کیا پوچھتے ہو حال میرے روزگار کا

میں گندھارا ہندکو اکیڈمی اور پرچول کے اشتراک سے ہندکو کی چار عدد کتب کی تقریب پذیرائی کو بھگتا کر اپنے گھر آنگن کی جانب روانہ ہونے لگا تو کسی نے مجھے تین کتابوں پر مبنی ایک خوبصورت پارسل تھما دیا۔ یہ کیا ہے میں نے خوبصورت پیکنگ میں بند پارسل پر اپنا قلمی نام لکھا دیکھ کر دینے والے سے پوچھا۔ یہ کتابوں کا تحفہ ہے میڈم مشرف مبشر نے آپ کو دینے کیلئے ہمارے حوالہ کیا تھا، مشرف مبشر کا نام سن کر میں چونک سا گیا۔ یہ نام میں نے پہلے ہی سے سن رکھا تھا اور ان کی ایک آدھ تحریر بھی پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ اچھا موقع تھا ان سے ملاقات کرنے کا لیکن میں ایسا نہ کرسکا کہ گھر والی بار بار ایمرجنسی کا میسج بھیج رہی تھی اور اسے میری شومئی قسمت کہہ لیجئے کہ میرا گھر اتفاق کڈنی سنٹر گل بہار پشاور سے کم وبیش ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ اس لئے میں نے کتابوں کا تحفہ موصول کرتے ہی اپنے دل کی دھڑکنوں کو شکریہ کے ایک لفظ میں سمیٹ کر کتابیں گفٹ کرنے والے کو دیدیا اور’کیوں دیر گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کیا ‘کے خوف سے بائیک پر سوار ہوکر اسے کک ماری اور جی ٹی روڈ پر فراٹے بھرتی گاڑیوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنیوں کا سامنا کرتا ان اندھیروں کو چیرنے لگا جو جانے کیوں میرے گھر کی دہلیز تک میرا پیچھا کرتے گھر کے اندر داخل ہو کر مجھ کم نصیب کے جگر گوشے کی رگوں میں سرائیت کر نے کی ضد پوری کرتے رہتے ہیں۔ ’’ہو آئے کتابوں کی تقریب پذیرائی سے‘‘ وہ بات جو پوچھنی تھی گھر والی نے اس کے سر پر بندھی پٹی نے کہہ ڈالی اور میں اس کی کسی بات کا جواب دئیے بنا اپنے خلوت خانہ میں جا چھپا۔ کسی زمانے میں میرے پاس کتابوں کی بہت بڑی کلکشن تھی۔ اتنی بڑی کہ جب ہم ایک مکان سے دوسرے مکان شفٹ ہوتے تو ہمارے گھر کا سامان منتقل کرنے والی گاڑی کا ڈرائیور کہہ اٹھتا کہ یہ جسے تم گھر کا سامان کہہ رہے ہو اس میں سامان کم اور کتابیں زیادہ ہیں۔مجھے یاد پڑتا ہے جب میں لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے کیلئے گیا تھا تو میں نے انٹرویو بورڈ کے اراکین کو انگریزی زبان میں ’’بکس آر مائی بیڈ‘‘ کہہ کر کتابوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا کہنے کی تیر بہدف بڑک ماری تھی اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ کتابوں سے پیچھا چھڑائے بنا نہ رہ سکا۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کے ایوارڈز کیلئے آ نے والی پشتو کتب کو پشتو ادبی بورڈ کے حوالے کر دیا اور اردو سمیت ہندکو کی بہت سی کتب گندھارا ہندکو اکیڈمی کی لائبریری کیلئے عطیہ کرنے کی حماقت کر ڈالی۔ آج جب پرچول اور گندھارا ہندکو اکیڈمی کے تعاون سے چار کتابوں کی تقریب پذیرائی میں گنجینہ سائیں نامی1035صفحات پر مشتمل کتاب پر تبصرہ کرنے پہنچا تو وہاں سے خالی ہاتھ نہ لوٹایا گیا۔ شربت دیدار پیا پروفیسر ناصر علی سید کا جو صرف کہتے رہتے ہیں کہ تم تو میرے راستے میں پڑے ہو، ڈاکٹر پروفیسر نذیر تبسم کے چہرہ انور کا، ریٹائرڈ ایس پی فاروق احمد جان بابر آزاد کی قامت وجیہ کا، صوفی اقبال سکندر کی متصوانہ باتوں کی شیرینی کا، اتفاق کڈنی سنٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر شیخ آفتاب اقبال کا۔ محترمہ مشرف مبشر کی جانب سے ملنے والی بوستان یران، اور دو عدد اردو افسانہ پر مبنی کتب ’سب سچ اور صبح کا تارہ‘ کے سرسری مطالعہ نے مجھ پر اس بات کا انکشاف کیا کہ فرنٹیر کالج پشاور کی سابق پرنسپل نصف درجن کتابوں کی مصنفہ ہیں ’تاریک اُجالے اور برکھا کی بدلی‘ جیسی انشائی کتب کے علاوہ سرگزشت فرنٹیر کالج بھی شامل ہے ان کی مطبوعات میں۔ ابھی اپنے کالم میں، میں ان کتابوں کی رسید درج کر ہی رہا تھا کہ ایسے میں میری آنکھوں کے سامنے عید ملنے کے بہانے اورنگ زیب غزنوی اور پروفیسر امجد امین کے تشریف لانے کا منظرنامہ گھومنے لگا، اورنگ زیب غزنوی بتا رہے تھے کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہر سخن کے عنوان سے برپا کئے جانے والے قومی مشاعرہ میں مشتاق احمد شباب کو ہندکو شاعر کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی ہے، میں نے کہا کہ ’’یہ تو خوشی کی بات ہے کہ ہندکو کے شاعروں کی تعداد میں مشتاق شباب بھی شامل ہوگئے ہیں‘‘ کہنے لگے کہ یہ زیادتی ہے ہندکو کے ان لکھاریوں کیساتھ جو ساری کشتیاں جلاکر ہندکو ہندکو کرتے ہندکو کے ہی ہو رہے۔ میں نے کہا کوئی زیادتی نہیں یہ ہمارا کلچر ہے جس کی پاسداری کرنا کلچر ڈیپارٹمنٹ والوں کا فرض بنتا ہے، ایسے میں راقم السطور کی توجہ اخبارات اور سوشل میڈیا میں وائرل ہونے والی اس خبر کی جانب مبذول کرائی گئی جس میں قومی مشاعرہ میں پروفیسر حسام حر کو مشتاق شباب کے متبادل ہندکو کے شاعر کے طور پر شریک کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ میں نے’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو،جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو‘کی تائید میں ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق بھرپور تائید کردی اور پھر دوسرے ہی لمحہ پروفیسر امجد امین کی اس حوالہ جاتی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا جو انہوں نے’’کلید کلیات اقبال‘‘ کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کی اور کڑکتی دھوپ میں کم وبیش گھنٹہ بھر کا سفر کرکے عید ملنے کے بہانے راقم الحروف کی کٹیا میں تشریف لاکر، محترمہ مشرف مبشر کی طرح اسے اندھوں میں کانا راجہ سمجھ کر حوالے کرکے چلے گئے۔ ہائے کتنے عجیب ہیں یہ لاکھوں خرچ کرکے کتابیں شائع کرنے والے جو مفت بانٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اپنے رشحات قلم، کہ کوئی تو ہو جو انہیں پڑھ پائے۔ شاید ان ہی کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کسی دل جلے نے کہا تھا

کیا پوچھتے ہو حال میرے روزگار کا

آئینے بیچتا ہوں اندھوں کے شہر میں

متعلقہ خبریں