Daily Mashriq

افغان مہاجرین یا پاکستان کا امن

افغان مہاجرین یا پاکستان کا امن

1979 کے اواخر میں سابقہ سویت یونین نے افغانستان پر مسلح فوج کشی کی تو جواباً مسلح مزاحمت شروع ہوئی، یہ مزاحمت غیرملکی فوجوں کے بھی خلاف تھی اور اپنی حکومت کیخلاف بھی جس نے غیرملکی افواج کی مداخلت کو قبول کیا تھا۔ نتیجتاً ایک ایسی خانہ جنگی شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔ اس خانہ جنگی کا جو اثر افغانستان پر ہونا تھا وہ تو ہوا ہی لیکن پاکستان بھی انتہائی طور پر متاثرین میں سے تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغانیوں نے افغانستان کے اندر اور باہر ہجرت کی اور مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد نے پاکستان کا رُخ کیا چونکہ ہمارے دو صوبوں کی سرحدیں افغانستان سے جڑی ہوئی ہیں لہٰذا سب سے زیادہ مہاجرین خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں آئے اور پشاور اور کوئٹہ سمیت ان صوبوں کے کئی شہروں کے کئی علاقوں میں پاکستانیوں سے زیادہ افغانی نظر آنے لگے۔ پاکستان نے بحیثیت ریاست اور پاکستانیوں نے بحیثیت مسلمان بھائیوں کے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ان مہاجرین کی مہمان نوازی اور آؤ بھگت کی، ان کا بوجھ بڑی خوشدلی سے اُٹھایا۔ پاکستان نے ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ ان کی دونسلیں ادھر ہی پیدا اور جوان ہوئیں اور پڑھیں لکھیں بلکہ اپنے ملک سے کہیں بہتر تعلیم حاصل کی۔ آ ج بھی آپ کو پشاور کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کئی افغانی ڈاکٹر نظر آئیں گے۔ کئی افغان خاندانوں نے کسی نہ کسی طرح یہاں اپنے ذاتی گھر خریدے، کئی نے اپنے چھوٹے بڑے بزنس سیٹ کئے اور یوں بیرونی امداد کیساتھ ساتھ اپنے ذرائع آمدن بنائے۔ ان میں سے کئی خاندان بڑے بڑے کرایوںکے بڑے بڑے گھروں میں رہ رہے ہیں اور وہ وسائل وذرائع جو پاکستان کے اپنے شہریوں کیلئے بھی ناکافی یا بمشکل کافی ہیں ان میں حصہ دار بن رہے ہیں۔ یہ تو وہ اقدامات تھے جو پاکستان نے کئے لیکن اس کے جواب اور بدلے میں پاکستان کو جس عظیم نقصان کا سامنا کرنا پڑا اس کا حساب کرنے بیٹھیں تو افغانستان صدیوں تک اس کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ انہی افغان مہاجرین کی آمد کیساتھ پاکستان میں کلاشنکوف کلچر در آیا، ہیروئن کی آفت ٹوٹ پڑی، پاکستانی بم دھماکوں سے آشنا ہوئے، خودکش دھماکوں کا غیرانسانی اور غیراسلامی سلسلہ چل پڑا بلکہ اب بھی چل رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ پُرامن تھے لیکن انہی کی آڑ لیکر دہشت گردوں نے پاکستان میں قدم رکھا اور آج بھی اپنی کارروائیوں کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ ان کی پاکستان میں موجود پناہ گاہوں کو جب ختم کیا گیا تو مولوی فضل اللہ جیسے درندوں کو افغانستان میں ہی پناہ دی گئی۔ بلوچستان میں بدامنی اور ملک دشمنی کے ذ مہ داروں کو اسی افغانستان سے بھرپور مدد ملتی رہی اور مل رہی ہے۔ اسی افغانستان نے پاکستان کیخلاف بھارت کو مدد فراہم کرتے ہوئے اس کی سرحد کیساتھ ساتھ ایک درجن سے زیادہ قونصل خانوں کیلئے جگہ اور سہولت فراہم کی۔ وہی بھارت جس نے سویت یونین کو افغانستان کیخلاف سپورٹ کیا، افغانستان کیلئے اہم اور دوست ٹھہرا اور وہی پاکستان جس نے افغانستان کیلئے اپنے بے شمار فوجی اور سول شہریوں کی قربانی دی، اپنے پرامن ملک کے امن کو داؤ پر لگا دیا، اسی افغانستان نے ہمارے ہر دشمن کیلئے اپنی سرحدیں اور دل کھول دئیے، خاص کر بھارت کو اپنے معاملات میں اتنا دخیل کیا کہ وہی افغانی جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے پاکستان کیخلاف کمر بستہ ہو گئے بلکہ اس کیخلاف پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے۔ پاکستان نے اس سب کچھ کے باوجود بھی افغان مہاجرین کو اپنی ذمہ داری سمجھے اور بنائے رکھا۔ ہم اہلیان پشاور جانتے ہیں اور آپ کو بتا سکتے ہیںکہ ابتداً بے یار ومددگار یہ افغان مہاجرین آج پشاور میں اپنے کاروبار اور دکانوں کے مالک ہیں اور ان کے بچے شہر کے بہترین سکولز سسٹمز میں او لیولز اور اے لیولز کر رہے ہیں۔ مجھے ان کے کاروبار کرنے پر بھی اعتراض نہیں لیکن کیا اس کے جواب میں انہیں پاکستان کا رکھوالا نہیں بن جانا چاہئے لیکن ایسا نہیں بلکہ اس کے اُلٹ سلسلہ چل رہا ہے اور حامد کرزئی نے جو سلسلہ چلایا اور اپنے آقا بھارت کی محبت کے جو بیج افغانیوں کے دل میں بوتا رہا وہی سلسلہ آگے بڑھایا گیا، بات یہاں تک بھی نہیں رکی بلکہ ساتھ ساتھ وہی افغان جو خود کو بہت اچھا مسلمان کہتا ہے ایک برادر اسلامی ملک کیخلاف غیرمسلموں کیساتھ ملکر صف بستہ ہو گیا اور وہ بھی وہ ملک جس نے اس کے تیس لاکھ باشندوں کا بوجھ کئی دہائیوں تک اٹھایا اور اٹھا رہا ہے اور اگر یہ افغان مہاجرین کم ازکم اس احسان کے بدلے میں ہی پاکستان کیساتھ کسی وفاداری کا ثبوت دیتے تو شاید خود کو انصارمدینہ کے جانشین سمجھنے والے پاکستانی مزید بھی اس بوجھ کو اٹھانے کو تیار ہوتے۔ جن مسائل نے ان کے آنے سے جنم لیا ان کو تو برداشت کر لیا گیا لیکن جن مسائل کو ان لوگوں نے جان بوجھ کر خود یا اپنی حکومتوں کی ایما پر جنم دیا وہ یقیناً ناقابل برداشت ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی انسانیت سوز دہشتگردی کے بے شمار واقعات میں یہ لوگ ملوث رہے ہیں اور یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں یہ لوگ شامل رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کئی کئی بار ان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع کی ہے اور اب ایک بار پھر تیس جون کو ان کے قیام کی مدت ختم ہو رہی ہے جس کیلئے حکومت خیبر پختونخوا نے مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے ان مجبور مسلمان بھائیوں کو یوں حالات کے دھارے پر چھوڑ دینا کوئی خوشگوار کام نہیں ہے لیکن اس سے زیادہ ناخوشگوار وہ سب ہے جو ان کے اندر موجود دشمن کے کارندے سرانجام دیتے ہیں یعنی دہشتگردی۔ اور اب افغانستان کو اپنے امن وامان کے مسائل کی ذمہ داری لیتے ہوئے ان مہاجرین کو اپنے ملک واپس بلا لینا چاہئے۔ (بقیہ صفحہ 7)

متعلقہ خبریں