Daily Mashriq

آپ نے بات بہت چھوٹی کی

آپ نے بات بہت چھوٹی کی

اس شہر کے دو نام قدیم دور سے تہذیبی ارتقاء کے دوران اسے ملے تھے۔ ایک تو مغل شہنشاہ بابر نے ہندوستان پر حملوں کے ہنگام پہلے پڑاؤ کے طور پر یہاں قیام کے دوران اس کے خوبصورت باغات کے وسیع وعریض قطعات کو دیکھ کر بے ساختہ واہ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے اسے گلاب کا مسکن قرار دیا تھا جبکہ دوسرا نام تہذیبی ارتقاء کے دوران مختلف نسلوں اور ان کی زبانوں کے میل ملاپ کے جس خوبصورت معاشرت نے جنم لیا اس نے زبانوں اور ان کے ادبی ورثے کی خوبصورتی اور چاشنی کے طفیل اسے شہر ہفت زبان کے منصب پر فائر کیا۔ یہاں اب بھی کہیں نہ کہیں ایسے نابغہ لوگ مل جاتے ہیں جو اگر قدیم دور کی طرح سات زبانیں نہیں تو کم ازکم پانچ زبانیں ضرور بولتے ہیں۔ وسط ایشیاء سے مختلف ادوار میں برصغیر پر یلغار کرنے والوں کے سنگ وہاں کی کئی زبانیں اور ان کی تہذیبی آثار بھی وارد ہوتے رہے اور پشاور کا معاشرہ ان تہذیبوں اور لسانی ورثے کی بوقلمونی سے اتحاد واتفاق اور محبتوں کا گہوارہ بنتا چلا گیا۔ تاہم وقت ایک سا کہاں رہتا ہے‘ معاشرتی روئیے وقت کیساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد جہاں پشاور کے ہمسایہ قبائلی علاقوں کے لوگوں نے معاشی ضرورتوں کے تحت اس شہر کو اپنی آماجگاہ بنایا وہاں اس ’’ہجرت‘‘ نے شہر کے تہذیبی رویوں پر بھی اثرات مرتب کئے جبکہ ادھر عرصے سے رہنے والوں کے اندر ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا جس نے خدا جانے کسی نسلی تفاخر کی بنیاد پر یا پھر دوسری زبانیں بولنے والوں کے ممکنہ غلبے کے خوف کی وجہ سے اپنے بزرگوں کی خوبصورت روایات کو چھوڑ کر نسلی اور لسانی منافرت کے بیج بونے شروع کردئیے۔ یعنی بقول جلیل حشمی مرحوم

یہ ہے پہچان مرے دشمن کی

کچھ بھی ہو مجھ سے وہ چھوٹا ہوگا

ان دنوں ایک محدود مخصوص گروہ لسانیت کے نام پر جس طرح نفرتوں کا پرچار کر رہا ہے (محدود اس لئے کہا کہ اس گروہ میں بہت شریف اور محبتوں والے بھی ہیں) وہ یقینا سوچ کے کئی در وا کرتا ہے‘ جب سے اس گروہ نے زبان وادب کے نام پر ایک تنظیم قائم کرکے شہر کے ادبی حلقوں میں نفرتوں اور لسانی ونسلی تعصب کے بیج بونا شروع کر رکھے ہیں اس کی وجہ سے سنجیدہ فکر اہل فکر ونظر‘ ادب وثقافت سے وابستہ حلقوں نے اس کے پھیلائے ہوئے غلاظت سے خود کو محفوظ کرنے کیلئے اس سے دور رکھنے کی کوششیں کی ہیں‘ کیونکہ بزرگوں کا یہی تو کہنا ہے کہ کسی گندگی کے ڈھند کے کنارے بھی نہ گزرو مبادا کہیں سے کوئی کنکر آکر اس کے اندر کی غلاظت تمہارے صاف اُجلے کپڑوں کو گندہ کر دے۔ افسوس تو ان معدودے چند شریف النفس افراد پر ہوتا ہے جو اس حلقے میں صرف زبان وتہذیب کو ترقی دینے کیلئے شامل ہوئے اور دامے‘ درمے‘ سخنے ہر نوع کی قربانی دے رہے ہیں‘ مگر صرف ایک متعصب‘ کم ظرف اور پست سوچ رکھنے والے کے نامناسب روئیے کی وجہ سے ان کیلئے صورتحال نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی بنی ہوئی ہے۔ ان کی خاندانی غیرت انہیں بہ امر مجبوری اس سارے تماشے اور ڈرامہ بازی سے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتی اور اب تو محولہ لسانی ورثے کیساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس شخص نے ’’ٹرک کی بتی‘‘ کے پیچھے لگا رکھا تھا مگر اب اس کاکھیل سب پر عیاں ہو چکا ہے اور خود متعلقہ لسانی ورثے اور تہذیب سے وابستہ لوگوں نے اس کے کرتوت طشت ازبام کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے اس ادارے کو ملنے والے کروڑوں روپوں کا لوگ حساب مانگ رہے ہیں۔ حاشا وکلا مجھے اس سے بھی کوئی لینا دینا نہیں‘ بقول شخصے انگار جانڑیں تے لوہار جانڑیں‘ کہ اس کیلئے خود متعلقہ زبان بولنے والوں نے آوازیں بلند کرنی شروع کردی ہیں‘ مگر جب چند روز پہلے ایک اہم شہری ادارے نے ایک کثیراللسانی مشاعرے کا اعلان کیا تو اس میں میرا نام دیکھ کر موصوف کی رگ تعصب نے خدا جانے کیوں زور زور سے پھڑکنا شروع کیا اور بے چین ہو کر نہ صرف متعلقہ ادارے کے سربراہ کو خط لکھا بلکہ اسے اخبارات کو بھی جاری کر دیا۔ یہاں تک تو بات پھر بھی قابل برداشت ہوتی مگر اپنے خط میں اس خود ساختہ ادیب‘ شاعر اور سب سے بڑھ کر محقق نے میرے ادبی قد کاٹھ اور مقام ومرتبے کے حوالے سے بدتہذیبی کا ارتکاب کیا۔یہ حق اسے کس نے دیا ہے کہ وہ میرے ادبی مقام کا تعین کرے‘ اگر کسی شاعر کے مجموعے کو ہی مقام کا تعین بنایا جائے تو ایسے کئی لوگ اب بھی موجود ہیں جن کے مجموعے’’تادم تحریر شائع نہیں ہوسکے مگر ہم لوگوں نے انہیں ’’شاعر پشور‘‘ کے اونچے سنگھاسن پر بڑے فخر کیساتھ بٹھایا ہے اور پھر کسی بھی شاعر ادیب کے مقام کا تعین وہ کرے جس کا اپنا کوئی ادبی قد کاٹھ ہو جو بے چارہ نہ کسی شمار میں ہو نہ قطار میں‘ اسے یہ اجازت کیسے دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے قد سے اوپر اٹھ کر دوسروں پر کیچڑ اُچھالے۔ اس پر مرحوم شوکت واسطی کا یہ شعر یاد نہ آئے تو کیا ہو کہ

حریف بھی ہوئے چھوٹے دل ودماغ کے لوگ

اب ان کے ساتھ ہمارا معاملہ کیا ہو

متعلقہ خبریں