Daily Mashriq

وزیراعظم اور اسلامی تاریخ کے واقعات

وزیراعظم اور اسلامی تاریخ کے واقعات

مجھے وزیراعظم سے دو دفعہ شرف ملاقات حاصل ہوئی۔ اگرچہ یہ ملاقات ایسی نہ تھی کہ اُس میں ان کی شخصیت کا کوئی نفسیاتی جائزہ لیا جا سکتا لیکن مختلف جلسے، جلوسوں اور وزیراعظم کی حیثیت سے مختلف مواقع پر قوم سے خطاب کے دوران آپ کی فی البدیہہ تقریر اور بدن بولی سے اتنا اخذ کر سکا ہوں کہ عمران خان ایک سیدھے سادے انسان ہیں (ہو سکتا ہے کہ میری اس رائے سے اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے زیادہ تر لوگ اتفاق نہ رکھتے ہوں اور یہ اُن کا بنیادی حق ہے) اور ایسی تناظر میں وہ اسلام کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کر چکا ہے، اُس کی روشنی میں اپنی تقاریر کے دوران بعض اوقات بطور حوالہ وتائید بعض اہم واقعات کا ذکر کر لیتے ہیں، جن میں عموماً بعض اہم اصطلاحات والفاظ کا تلفظ اور تاریخی حوالوں کو کسی بدنیتی (ill intention) کے بغیر صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے اور یار لوگ بالخصوص ہمارے مدارس کے مولوی صاحبان اس قسم کی باتوں کا بتنگڑ بناتے ہوئے اُس کی نیت کو اسلام کیخلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو یقیناً پاکستان جیسے ملک میں بہت نازک اور حساس معاملہ ہے۔ اس قسم کی باتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان نے عاطف میاں کو بطور ایک بہترین اکانومسٹ کے سنا تو اس کو اپنی امور کی ٹیم میں شامل کرلیا۔ اس کے فوراً بعد یار لوگوں نے اس کی طنابیں اور ڈانڈے بھی بہت دور دور تک کھینچنے کی کوششیں کیں لیکن عمران خان نے وہ خرخشہ ہی ختم کردیا۔

یہاں عمران خان کی شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کی بات نہیں ہورہی، بات صرف اتنی ہے کہ عمران خان اسلامی علوم کے ماہر یقیناً نہیں ہے لیکن آپ جو حوالے پیش کرتے ہیں وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ کو اسلامی تاریخ سے لگاؤ ہے اور آپ اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ انفرادی اور حکومتی سطح پر اسلامی تاریخ کے زریں واقعات سے رہنمائی حاصل کی جائے لیکن بعض اوقات جامع معلومات نہ ہونے یا ان معلومات کو صحیح طور پر اردو میں منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت نہ ہونے کے سبب ایسے الفاظ اور جملوں میں ادا ہو جاتے ہیں جو یقیناً اگر ارادتاً ہو جائے تو سخت قابل مؤاخذہ اور اللہ کے نزدیک معضوب علیہ ہے اور غیرارادی طور پر ہو جائے اور کوئی توجہ واحساس دلائے تو توبہ استغفار کرتے ہوئے دوبارہ ایسی بات کرنے کا تصور بھی نہ کرے۔ تو اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے۔ عمران خان کے بارے میں میرا یقین واثق ہے کہ وہ چونکہ لڑکپن سے جوانی تک ایسے ماحول میں رہا ہے جہاں ان کو اسلامی علوم وتہذیب سے براہ راست واسطہ ذرا کم پڑا، لیکن تحریک انصاف کی بنیادیں ڈالنے اور پاکستان کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آنے کے بعد آپ نے اسلامی علوم وتہذیب کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی شعوری کوشش کی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آپ کو اسلامی تہذیب وتمدن سے کتنا لگاؤ ہے اس کا اندازہ آپ کے عالمی فورمز پر اپنے قومی لباس سے لگایا جا سکتا ہے اور اسلام کیساتھ لگاؤ ومحبت کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کی شدید خواہش، تمنا اور کوشش ہے کہ مملکت خداداد صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بن جائے اور اس کیلئے اُن کے سامنے رول ماڈل مدینہ منورہ کی ریاست طیبہ ہے۔ یار لوگ اس پر بھی ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ عمران خان مدنی ریاست کا نام کیوں لیتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل سے بعض لوگوں نے اس حوالے سے انٹرویو میں سوال بھی کئے، عمران خان سے اُن کی ملاقات پر اعتراضات بھی کئے لیکن اللہ مولانا طارق جمیل کو شاد وآباد رکھے، انہوں نے خوبصورت جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر عمران خان مدنی ریاست قائم نہ کرسکے اور اس کے قریب بھی پہنچ گئے تو بہت اعلیٰ کام ہوگا، ورنہ نیت صالح کا ثواب تو ضرور ملے گا۔ وزارت عظمیٰ کا حلف لیتے وقت خاتم النبیینؐ کا تلفظ نہ کرسکنے پر بھی یار لوگوں نے پیالی میں طوفان اُٹھانے کی کوشش کی اور اب غزوہ بدر اور غزوہ احد کے حوالے سے جو بات انہوں نے کی وہ بھی یقیناً اگر ارادتاً ہے تو باعث گناہ وعذاب ہے لیکن اگر مفہوم واقعہ کو صحیح الفاظ میں غیرارادی طور پر ادا نہ کر سکے ہوں، تو پھر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ عمران خان اسلامی تاریخ کے اہم واقعات اور بعض اصطلاحات وغیرہ کسی اُستاد، پروفیسر یا عالم دین سے سیکھ لے تو اس کا دینی اور سیاسی لحاظ سے بہت فائدہ ہوگا ورنہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان جیسے ملک میں اس بات کا شدید خطرہ ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی ایسی باتیں باعث اشتعال واحتجاج بن جائیں۔ یہ بات ازبر کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی مسلمان جب جناب رسول اللہؐ کا نام زبان پر لائے تو ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ضرور پڑھنا ہوگا۔ کسی پیغمبر ونبی کا نام لینا ہو تو ’’علیہ السلام‘‘ کہنا لازمی ہے۔ صحابی رسولؐ کا نام لینا ہو تو ’’رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ کہنا لازمی ہے۔ فرشتوں بالخصوص چار بڑے اور مقرب فرشتوں کے نام کیساتھ بھی ’’علیہ السلام‘‘ کہنا پڑھنا ضروری ہے، یہ ان معزز وبزرگ ہستیوں کا پروٹوکول ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے۔ امریکہ کے صدر اور دیگر حکمران دینی ومذہبی معاملات میں رہنمائی کیلئے مشیر مذہبی امور رکھتے ہیں اور وہ اُن کی ٹھیک ٹھاک رہنمائی کرتے ہیں، ہمارے ہاں مراعات اور مناصب سے لطف اندوز ہونے کیلئے وزیر مشیر بڑی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن بس وہ نام ہی کے مشیر ہوتے ہیں، خوشحال بابا نے آج سے چارسو برس قبل اسی بات کا رونا رویا تھا کہ

چہ دستار تڑی ہزار دی

خو د دستار سڑی پہ شمار دی

متعلقہ خبریں