Daily Mashriq


تعلقات میں رخنہ ڈالنے کا بھارتی اقدام

تعلقات میں رخنہ ڈالنے کا بھارتی اقدام

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازعہ کھڑا ہونا خطے میں امن و امان کی صورتحال کے لئے بہتر نہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کا تحفظ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے جس پر پوری اترنے کی بجائے الٹا بھارت نے پاکستانی سفارتکاروں‘ سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی سفارتی طور پر ہی نہیں کسی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہناہے کہ پاکستان نے بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو اسلام آباد بلالیا ہے ، نئی دہلی میں سفارتی عملے کوبھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے مسلسل واقعات کے بعد ہائی کمشنر کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔ ترجمان کا مزید کہناتھا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے واقعات پر احتجاج کیا گیا ہے۔ مگر بھارتی حکومت نے پاکستان کی شکایت پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس حوالے سے مزید اقدامات کرنا پڑے تو پاکستان اپنے سفارتکاروں کے تحفظ کیلئے کرے گا، ہمارے لئے اپنے سفارتکاروں کا تحفظ اہم ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بھارت ہمیں اپنی اندرونی سیاست میںاستعمال کرنے سے گریز کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پاکستان میں بھارتی سفارتکاروں کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ، اگر ہوتا تو بھارتی ہائی کمیشن ہمیںآگاہ کرتا ۔ ترجمان خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی مسلح افواج نہتے کشمیری راہنمائو ں کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کے تعلقات کی سرد مہری کے باعث دونوں طرف کے عوام مشکلات سے دو چار ہیں۔ اس صورتحال کے باعث دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات کشیدگی اختیار کرتے ہیں اور معاملات طے کرتے کرتے دونوں ممالک جب ایک ایسی نہج پر پہنچ جاتے ہیں جہاں مثبت امور کی توقع ہوتی مگر اچانک بھارت کوئی نہ کوئی ایسا کھیل کھیلتا ہے کہ سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے اور دونوں ممالک بجائے اس کے کہ معاملات کو آگے بڑھائیں اس تنازعے کو اچھالنے اور حل میں لگ جاتے ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان عرصہ دراز سے التواء کا شکار معاملات جوں کے توں پڑے رہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلقات میں بگاڑ کسی ملک کے مفاد میں نہیں اور بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے بچگانہ قسم کی حرکات درست رویہ نہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تو حریت پسندوں کو ہر ممکن طریقے سے دبا کر حالات پر قابو پانے کی ناکام کوشش میں ہوتا ہے مگر جب ایسا کرنے میں اس کو ناکامی ہوتی ہے تو اچانک آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری کے اس پار اچانک بلا وجہ اور اندھا دھند بمباری شروع کردیتا ہے جس سے سرحد کے دونوں جانب کشیدگی پھیل جاتی ہے۔ بدقسمتی سے بھارت صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں بھی بھارتی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں جس کا زندہ ثبوت کلبھوشن کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ سفارتکاروں کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کی بھارتی کوشش سوائے اس کے کچھ اور نظر نہیں آتی کہ ایسے کچھ معاملات سے بھارت توجہ ہٹانا چاہتا ہے اس کا مقصد ہی یہ نظر آتا ہے کہ پاکستان بھی جوابی طور پر سخت رد عمل کا اظہار کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کے لئے ہر قسم کے اقدامات کی ضرورت سے تو انکار نہیں لیکن پاکستان کوئی ایسا سخت جوابی ردعمل نہ دے جس سے بھارت کو اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی کا پہلو مل جائے۔ بھارت کو جس دن اس امر کا احساس ہو جائے کہ پڑوسی تبدیل نہیں کئے جاسکتے اور بین الاقوامی طور پر یہ مسلمہ اصول ہے کہ ہرملک دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ نہ صرف اچھے اور خوشگوار تعلقات قائم کرے اور خطے میں امن کے استحکام کی سعی کرے بلکہ زیادہ سے زیادہ تجارت و سیاحت کی سہولیات فراہم کرکے آپس میں عوامی سطح کے تعلقات قائم کرے۔ بھارت خطے کے ایک بڑے ملک اور بڑی معیشت کے طور پر اگر منفی رویہ کی بجائے مثبت انداز فکر اختیار کرے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور وہ اپنے عوام کے لئے کچھ کرنے کے بھی قابل ہوسکے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاحت و تجارت کے فروغ کے بیش بہا مواقع ہیں دونوں ممالک کے عوام کا رہن سہن بھی بہت حد تک مشترک ہے۔ دونوں ممالک میں مختلف مذاہب اور برادریوں کے تاریخی و مذہبی مقامات موجود ہیں۔ غرض تلاش کیا جائے تو درجنوں قدریں مشترک ملیں گی مگر اس کے لئے سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مضبوط و مربوط بنانا ہوگا لیکن بد قسمتی سے بھارت تعلقات کے اس تنے کو کھوکھلا کرنے اور اس کی جڑیں اکھاڑنے کی سعی بد میں مصروف ہے۔جس دن بھارت کو اپنی اس غلطی کا احساس ہو اور وہ اصلاح کی طرف قدم بڑھائے وہ دن خطے کی ترقی اور دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی نوید کا دن ہوگا۔

متعلقہ خبریں