Daily Mashriq


نئی حلقہ بندیاں اور الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا معاملہ

نئی حلقہ بندیاں اور الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا معاملہ

الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے بنائی گئی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا دائرہ اختیار چیلنج کردیا‘ الیکشن کمیشن کے کمیٹی کو لکھے گئے خط میں کہاگیا ہے کہ قانون میں حلقہ بندیوں اور اعتراضات کے لئے طریقہ کار موجود ہے‘ اعتراضات الیکشن کمیشن سن سکتا ہے‘ حلقہ بندیاں کرانا الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے۔کنونیئرکمیٹی کے مطابق وہ الیکشن کمیشن کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کر رہے۔ اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔اس ضمن ایکٹ واضح ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے سے ایک نیا بحران اور اداروں کے درمیان کھچائو کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی ایوان کی تشکیل کردہ ہے جسے چیلنج کرنا مناسب نہیں اولاً یہ کمیٹی سوچ سمجھ کے تشکیل دی گئی ہوگی اور اگر اس کے باوجود کسی قسم کی گنجائش تھی تو اس کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے کی بجائے اس ضمن میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے موقف کو سنا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ الیکشن کمیشن کو حاصل شدہ مینڈیٹ بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا دیا ہوا مینڈیٹ ہے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی الیکشن کمیشن کے مینڈیٹ میں مداخلت کرسکتی ہے یا نہیں ہمارے تئیں اس موقع پر ایک نیا سوال اٹھانا الیکشن کے عمل اور الیکشن کمیشن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ آئین ساز اور آئینی ادارے اگر مد مقابل آجائیں اور معاملات عدالت میں چلے گئے تو یہ کوئی اچھی صورت نہ ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ جن معاملات پر تحفظات ہیں ان تحفظات کو دور کرنے پر توجہ دی جائے۔ الیکشن کمیشن نے از خود بھی نئی حلقہ بندیوں میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے شکایات اور تجاویز پر غور وفکر کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بندیوں کو پری پول دھاندلی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کی ذمہ داریاں نبھانے والے الیکشن کمیشن کے حکام انتخابی حلقوں کے بہت سارے معاملات سے یکسر آگاہ ہی نہیں بلوچستان میں تین تین اضلاع پر مشتمل قومی اسمبلی کا ایک حلقہ بنانے والوں نے یہ اضلاع نقشے پر بھی نہیں دیکھے۔حلقہ بندیوں میں یہ عدم توازن اور پھر مختلف یونٹوں کی دور دراز حلقوں میں شمولیت جیسی شکایات عام ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ الیکشن کمیشن کا فرمان ہے کہ اعتراض کرنیوالوں کو اسلام آباد حاضر ہونا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعتراضات کو دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام مطمئن ہوسکیں۔

چڑیا گھر یا موت کا گھر

ابھی پشاور کے چڑیا گھر میں ہرن کی موت کی بازگشت کانوں میں تھی کہ خبر آگئی کہ خیبر پختونخوا کا واحد برفانی چیتا بھی مرگیا جبکہ بندر کو بھیڑیاکھا گیا تھا۔انتظامیہ کے مطابق چیتے کی موت اپنی عمر مکمل ہونے کے باعث ہوئی ہے۔چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق ہرن اور بندرلانے کی ذمہ داری ٹھیکہ دارکی تھی اسلئے ہرن اور بندر کی موت کا نقصان ٹھیکہ دار کو ہواتھا تاہم چیتا صوبائی حکومت کی ملکیت تھا اسلئے نقصان بھی صوبائی حکومت کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ بجائے اس کے کہ اپنی ذمہ داری تسلیم کرتی تاویلات ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ پشاور میں چڑیا گھر کے افتتاح کے دن سے لے کر تاایندم بد نظمی‘ صفائی‘ نظم و ضبط اور خاص طور پر جانوروں کے تحفظ سے متعلق اقدامات نہ ہونے کی شکایات عام تھیں۔ محولہ صورتحال سے اس امر کا اندازہ لگانا چنداں مشکل امر نہیں کہ چڑیا گھر کا نظام درہم برہم اور غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ تازہ واقعے میں چڑیا گھر انتظامیہ کے موقف پر شک و شبہ کا اظہار بلا وجہ اس لئے نہیں کہ مختصر مدت میں چڑیا گھر کے افتتاح کے بعد یہ دوسرا تیسرا واقعہ ہے۔ اگر چڑیا گھر بنا ہی دیاگیا تھا تو پہلے ہی دن آنے والوں کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے جانوروں کی حفاظت کا پورا بندوبست کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے تھی اور جانوروں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف موقع پر کارروائی ہونی چاہئے تھی جس کی متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ضرورت محسوس نہ ہونے کا ہی نتیجہ جانوروں کے زخمی ہونے ‘ بیمار ہونے ‘ ماحول سے اکتا جانے اور مر جانے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ ازروئے ضابطہ اس معاملے کی تاویل تو پیش کرسکتی ہے لیکن دوسری جانب خود اس نے اپنی ذمہ داری کس حد تک نبھائی ۔بہتر ہوگا کہ بے زبان جانوروں پر رحم کھا کر چڑیا گھر کو فوری طور پر بند کرکے اولاً جانوروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ان کا علاج معالجہ کیا جائے ان کے لئے ماحول کو ساز گار بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ان کے تحفظ کے پورے انتظامات کے بعد چڑیا گھر کو کھول دیا جائے۔ سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر شرپسندوں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ چڑیا گھر میں چوکیداروں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں