Daily Mashriq


روک سکتے ہو تو روک لو!

روک سکتے ہو تو روک لو!

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ہر جماعت نے اپنی سیاست بچانے کی کوشش کی ہے۔ نوازشریف اپنے بیانئے کو بچانے کے چکر میں چیئرمین سینیٹ کی سیٹ گنوا بیٹھے جبکہ عمران خان نے پہلی مرتبہ کمال ہوشیاری کا مظاہرہ کیا اور سیاست کی بساط پر نوازشریف اور آصف زرداری دونوں کو مات دی۔ جو کارڈ آصف زرداری کھیلنا چاہتے تھے وہ عمران خان نے کھیلا اور اس خوبصورتی سے کھیلا کہ مفت میں ملنے والی چیئرمین شپ کو ٹھکرا کر آصف علی زرداری ڈپٹی چیئرمین کی سیٹ کیلئے رضامند ہوگئے۔ عمران خان نے بلوچستان کارڈ اچھے طریقے سے استعمال کیا جس کا انہیں دہرا فائدہ ہوا۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ان کا حمایت یافتہ پینل چیئرمین سینیٹ بن گیا جبکہ دوسرا فائدہ انہیں عام انتخابات میں ہوگا جب بلوچستان کے ’’آزاد‘‘ ہو جانیوالے ممبران صوبائی اسمبلی کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے گی۔ یوں گمان کیا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں اگلی حکومت تحریک انصاف کی بنے گی۔

آصف علی زرداری اور عمران خان ایک وکٹ پرکھیلے ہیں اور یہ بات طے شدہ ہے کہ دونوں آئندہ بھی ایک وکٹ پر کھیلیں گے۔ سیاست دونوں کی الگ رہے گی مگر دونوں یہ طے کر چکے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کریں گے اور نہ کسی ایسی قوت کو سپورٹ کریں گے جو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ رکھتی ہو اور پاکستان کے اداروںکو اپنی سیاسی بقاء کیلئے کمزور کرنا چاہتی ہو۔ اس لحاظ سے دونوں کی سیاست مثبت ہے۔ انہیں اب کھل کر یہ بات کہنا ہوگی کہ وہ پرواسٹیبلشمنٹ ہیں۔ مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں کیساتھ ملکر جیسے پاکستان کے اداروں پر حملہ آور ہو رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اداروں کے تحفظ کیلئے آگے بڑھا جائے اور پاکستان کی بجائے اپنی سیاست بچانے والوں کی راہ روکی جائے۔ اعلیٰ عدالتوں سے قصوروار ثابت ہونے کے بعد ایک ایسا بیانیہ تراشا گیا جس کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ سینیٹ الیکشن سے قبل خفیہ ہاتھوں کی جنبش کا شائبہ تک نہ تھا لیکن نوازشریف اور ان کی ٹیم نے اپنی چوری چھپانے اور اپنی سیاست بچانے کیلئے من گھڑت کہانی مفروضوں کی بنیاد پر ترتیب دی اور ’’خفیہ ہاتھوں‘‘ کا فرضی دشمن پیدا کیا۔ آئے روز اس فرضی دشمن کو للکارا گیا اور بڑی ڈھٹائی سے کہا گیا کہ ’’روک سکتے ہو تو روک لو‘‘۔ سینیٹ الیکشن کو دیکھ کر اب یہ نہیں لگتا کہ بڑے بڑے دعوے کرنیوالوں کو ’’روک لیا گیا ہے‘‘۔ جو قوتیں ریاستی اداروںکو اپنے مذموم مقاصد اور عزائم کی تکمیل کیلئے سیاست میں گھسیٹنا چاہتی تھیں سینیٹ الیکشن میں انہیں واضح پیغام ملا ہے۔ یہ پیغام ہے ’’سمجھ سکتے ہو تو سمجھ جاؤ۔‘‘ نوازشریف اور ان کے حواری اگر یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان بدامنی کا شکار ہو تو انہیں پاکستان کی سلامتی کی خاطر ریاست سے ٹکرانے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ اداروں کی تحریم وتکریم کرنے سے ان کی سیاست شاید بچ جائے لیکن اگر انہوں نے اپنی روش ترک نہ کی اور اپنے خودساختہ بیانئے پر قائم رہے تو ان کی سیاست جس تیزی کیساتھ زوال پذیر ہوگی اس کا انہوں نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ میں نے ان کالموں میں اس جانب اشارہ کیا تھا کہ آنیوالے دنوں میں مسلم لیگ ن کے کئی اراکین اسمبلی جماعت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن تک پنجاب سے تین ممبران قومی اسمبلی مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کر چکے ہیں، اب یہ تعداد مزید بڑھے گی۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے یہ دعویٰ کرنا کہ عوام میں اس کا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے جلسوں کی تعداد کے لحاظ سے تو قبول کیا جاسکتا ہے مگر جن لوگوں نے الیکشن لڑنا ہے وہ یہ جان چکے ہیں کہ ن لیگ اب ایک ڈوبتی ناؤ ہے چنانچہ اس ڈوبنے والی کشتی سے چھلانگیں لگانے میں ہی وہ اپنی عافیت سمجھیں گے۔ جب قومی وصوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے اُمیدوار مسلم لیگ ن چھوڑنے لگیں تو عوام بھی سمجھ جائیں گے کہ آئندہ عام انتخابات میں جیت کا ہُما کس کے سر بیٹھے گا۔ یہ اشارے سمجھنے میں پنجاب کے عوام کا کوئی ثانی نہیں۔ حالات کا رُخ جب تبدیل ہوتا ہے تو پنجاب کے عوام سب سے پہلے اس کا اثر لیتے ہیں۔ کیا لوگ مسلم لیگ ن کا مسلم لیگ ق میں تبدیل ہونا بھول گئے ہیں۔اگر کسی صوبے کے عوام نے موجوں کے مخالف تیرنے کی جسارت کی تو وہ خیبرپختونخوا کے عوام تھے۔ سندھ تک میں ارباب غلام رحیم تخت کراچی پر بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن نے واضح پیغام دیا ہے۔ اب کوئی دیوار کے اوپر لکھا ہوا نہ پڑھنا چاہے تو اُس کی مرضی ہے ورنہ جن کو جاننا تھا وہ سمجھ چکے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات کا فاتح کون ہو گا۔ پنجاب چونکہ بڑا صوبہ ہے اسلئے حکومت سازی میں ہمیشہ اس کا مرکزی کردار رہا ہے چنانچہ پنجاب کے اراکین اسمبلی جس جماعت کا رُخ کریں گے وہی آئندہ انتخابات کی فاتح جماعت ہوگی۔ اگر کسی کو یہ لٹمس ٹیسٹ کرنا ہے تو وہ آنیوالے چند ہفتوں کے واقعات پر نظر رکھے صورتحال خود بخود واضح ہوتی جائے گی۔چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے مجھے ایک بات ضرور لکھنی ہے اور وہ یہ کہ نوازشریف، راجہ ظفرالحق کو چیئرمین بنوانا ہی نہ چاہتے تھے۔ باامر مجبوری انہیں آخری لمحات میں سامنے لایا گیا۔ اگرنوازشریف ابتداء ہی میں راجہ ظفرالحق کو چیئرمین سینیٹ بنانے کا عندیہ دیتے یا اعلان کر دیتے تو عین ممکن ہے نتائج مختلف ہوتے لیکن انہوں نے بدنیتی پر مبنی سیاست کھیلنے کی کوشش کی، وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف اُمیدوار کو میدان میں اُتار کر اپنے تئیں اداروںکو شہ مات دینا چاہتے تھے۔ رضاربانی کے بعد ان کی چوائس پرویزرشید‘ مشاہداللہ اور حاصل بزنجو جیسے لوگ تھے لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کا خدشہ پاکر راجہ ظفرالحق کو قربانی کا بکرا بنایا گیا جو راجہ صاحب جیسے قابلِ احترام رہنماء کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔

متعلقہ خبریں