Daily Mashriq


لذت دشنام

لذت دشنام

عمران خان نے رانا ثناء اللہ کے متعلق کہا کہ میں اس کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل لے جاؤں گا۔ جس کے جواب میں نہلے پر دہلا مارتے ہو ئے رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی مونچھیں نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ سیاست میں اپنے حریف کو نیچا دکھانے یا اس کی کردار کشی کرنے کیلئے جگت بازی کا سہارا لینا کوئی نئی بات نہیں۔ نجانے کب سے اپنے سیاسی حریف کو جگت بازی، دشنام طرازی یا کلام گسترانہ کا شکار کرنے کی روایت جاری ہے۔ صرف سیاست ہی میں نہیں ہماری روزمرہ زندگی کی عام بول چال میں جگت بازی کا چلن عام ہے، کہتے ہیں فیصل آباد کے جگت بازوں جیسے جگت باز کہیں نہیں ملتے، وہاں میراثی اور بھانڈ جیسے پیشہ ور جگت باز عام پائے جاتے ہیں، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ فیصل آباد میں لوڈشیڈنگ کے دوران تاجر برادری کے لوگ اکٹھے ہوکر جگت بازی کی محفل جمانے لگتے، اگر میری اس بات کو جگت نہ سمجھا جائے تو عرض کرتا چلوں کہ رانا ثناء اللہ کا تعلق بھی فیصل آباد ہی سے ہے، جگت باز کو پنجابی یا ہندکو میں کبیت باز بھی کہتے ہیں اور کبیت بازوں کے ذہن رسا یا اس کے ترکی بہ ترکی جواب دینے کی غیر معمولی صلاحیت کی داد دینے کو جی کرتا ہے، پشاور شہر میں پہلوان چاٹی نام کا ایک کردار اپنے وقت میں بڑی شہرت کا حامل تھا، اللہ نے اسے آواز بھی خوب دی تھی، وہ ہاتھ میں بڑی سی لٹھ لئے بازاروں میں گھومتا اور فارسی کے بہت بڑے شاعر جامی کا نعتیہ کلام اپنی خوش الحان آواز میں پڑھتا، ایسے میں بازار کا کوئی بچہ یا بڑا پہلوان چاٹی کہہ کر اس پر آوازہ کستا اور وہ نعت جیسی مقدس اور عالی مرتبت صنف شاعری کے تقدس کو طاق پر رکھ کر آوازہ کسنے والے کو ایسا جواب دیتا کہ لوگ نہ صرف ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے بلکہ عش عش کر اُٹھتے، بڑا مزہ آتا تھا لوگوں کو، اس پر ایک طرف سے اگر پہلوان چاٹی کا آوازہ کسا جاتا تو دوسری طرف سے پہلوان تندور کہہ کر اسے چھیڑا جاتا، وہ پہلوان چاٹی کے جواب میں تڑپ کر ایسی گالی دیتا جس کا بیان یہاں ممکن نہیں، اسی طرح پہلوان تندور کے جملے کا جواب بھی اپنی مثال آپ ہوتا۔ پتہ نہیں لوگوں کو گالیاں سننے میں کیوں لطف آتا تھا، ایک دن پہلوان چاٹی ہماری گلی میں آگیا، میں چھوٹا سا بچہ تھا اور اپنے گھر کے جھروکے یا عروسی میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، نجانے کیوں میری ایک خالہ نے مجھے کہا کہ اس پر پہلوان تندور کا آوازہ کسو، شاید اسلئے کہ وہ خاتون ہونے کے ناتے ایسی حرکت خود نہیں کر سکتی تھیں، البتہ پہلوان چاٹی کا جواب سن کر محظوظ ہونا ضرور چاہتی تھیں اسلئے انہوں نے مجھے ایسا کرنے کو کہا، سو میں نے خالہ کی بات مانتے ہوئے اپنی توتلی سی زبان میں اسے پہلوان تندور کہہ کر چھیڑا، جس کے ردعمل میں اس نے نعت پڑھنا بند کر دیا اور حسب دستور میرے جملہ کا مقفیٰ اور مسجیٰ جواب دینے لگا، لیکن مجھے یاد پڑتا ہے جو ننگی گالی بھرا جواب وہ بازار کے لوگوں کو د یا کرتا تھا، اس نے وہ جواب اس گلی میں دینا مناسب نہ سمجھا کیونکہ گلی میں مکان ہوتے ہیں اور مکانوں میں پردہ دار خواتین رہتی ہیں۔ہمارے لوک ادب میں جگت بازی کو پھبتی کسنا بھی کہتے ہیں، بولیاں نامی صنف شاعری اور صنف موسیقی میں جگت بازی عام ملتی ہیں۔ باری برس کھٹن گیاتے کھٹ کے لیا یا لیلیٰ، یا تو میرے ول ہس کے نہ تک وے، تیری ماں پئی کریندی شک وے، لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا، جیسے بہت سے لوک گیتوں کو جگت بازی کے ذیل میں رکھا جا سکتا ہے، ٹی وی چینلز پر خبرناک اور مذاق رات جیسے پروگراموں کا بیشتر حصہ صنف جگت بازی ہی پر مبنی ہوتا ہے جسے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں۔ بات رانا ثناء اللہ کی مونچھوں کی زلف گرہ گیر سے چلی اور پہنچ گئی اپنے لوک ورثہ تک، ہمارے محاوروں اور ضرب الامثال میں کلام گسترانہ کی موجودگی جگت بازی ہی کے ضمرے میں آتا ہے۔ انگریزی میں اس اصطلاح کیلئے Slangکا لفظ استعمال ہوا ہے کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دینا، کسی کو جگت مارنا، کسی کا کیری کیچر بنانا، کسی کا خاکہ اُڑانا، عام اور سیدھے سادے لوگوں کا کام نہیں، کارٹون بڑے ہی لوگوں کے بنائے جاتے ہیں اور اچھاکارٹونسٹ بھی کسی کم معیار کے ذہن کا مالک نہیں ہوتا۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبدالقیوم خان کو ڈبل ڈیکر خان کہہ کر پکارا تو ان سے بھی چپ نہ رہا گیا اور وہ بھٹو شہید کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ’’بھٹو، گرم مصالحے کا چٹو‘‘ جیسے جملے ایجاد کرنے لگے۔ کچھ لیڈر اپنے خلاف استعمال ہونے والی جگتیں خود تیار کرتے ہیں، جیسے ’مجھے کیوں نکالا، سائیں تو سائیں، سائیں کا نوکر بھی سائیں، پاکستان کھپے، تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے جیسے جملے لیڈران کرام کے زبان سے وارفتگی تقریر میں ادا ہوئے مگر وہ جملے ان کے مخالفین کی زبان سے جگت بن کر ادا ہونے لگے۔ رانا ثناء اللہ اپنی مونچھوں کے بارے میں عمران خان کی دھمکی آمیز جگت سن کر چپ نہ رہ سکے، اگر عمران کی مونچھیں نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ راقم السطور کو یاد پڑتا ہے کہ بھانڈ اور میراثیوں کے ہم تھالی اور ہم رکابی نہ ہونے کے باوجود فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے رانا ثناء اللہ ہی تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، پرویز خٹک کوپرجگت ماری تھی جس سے پرویز خٹک کی صحت پر کوئی اثر نہ ہوا اور یوں بہتوں کے سر سے گزر کر نابود ہوگئی وہ بات

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

متعلقہ خبریں