Daily Mashriq


’’پدرم سلطان بود‘‘ کی سیاست

’’پدرم سلطان بود‘‘ کی سیاست

جماعتوں کے چند چہرے ایسے ہیں جنہیں بلاتفریق تما م سیا سی جماعتوں اور عوامی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ، رضا ربانی ،راجہ ظفر الحق ،اسد عمر ،میاں افتخار حسین اور ریاض حسین پیرزادہ۔ اگرچہ متذکرہ شخصیات کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے لیکن اجلے دامن کی وجہ سے تمام حلقوں میں یکساں پذیرائی حاصل ہے نہ صرف سب کیلئے قابل قبول بلکہ ہرمکتبہ فکر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ختم نبوت کے مسئلے پر پورے ملک میں ہنگامی حالات رہے بالخصوص مسلم لیگ ن کیلئے بہت مشکل حالات تھے، جب تحریک لبیک یارسول اللہ والے خادم حسین رضوی کی قیادت میں فیض آباد آکر بیٹھ گئے تھے اور حکمران جماعت کو آڑھے ہاتھوں لے رہے تھے لیکن اسی جماعت کے راجہ ظفر الحق کی رپورٹ پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔جب مسلم لیگ ن میں واضح دو دھڑے دکھائی دینے لگے ،کچھ میاں نواز شریف کے بیانئے سے اتفاق کر رہے تھے جبکہ کچھ چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف کے ساتھ تھے اس وقت انہی کی جماعت کے سینئر رہنما میاں ریاض حسین پیرزادہ پارٹی میں ہونے کے باوجود پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے ببانگ دہل کہہ رہے تھے کہ میاں نواز شریف کو اداروں کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے۔لیکن صد افسوس بزرجمہر کی قیمتی نصائح کو نہ مانا گیا اور موروثی سیاست کو فروغ دینے کیلئے اداروں پر تنقید کے نشتر چلائے گئے جوتاحال جاری ہیں ۔وطن عزیز کو بیرونی سازشوں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جس قدر شخصی جمہوریت اور خاندانی وراثت سے نقصان پہنچا ہے جو تال پاکستانی حاکمیت اور سیاست میں جاری ہے اس کا اندازہ ان قوتوں کو شاید نہ ہو جن کے بچے ان کے سیاسی وارث بنے ہیں ۔اور جن کی اولادوں کا ’’عوامی استقبال‘‘ زندہ باد کے نعروں سے کیا جاتا ہے۔ لیکن ملک اور قوم کو اس کا جونا قابل تلافی نقصان پہنچتا ہے وہ شاید ان کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہو لیکن ان کی سیاسی جماعتیں اور تحریکیں اس ’’مخلص قوت‘‘ سے محروم ہوجاتی ہیں جو مستقبل میں ملک اور قوم کی طاقت اور اثاثہ بننے والی ہیں۔ یہ وہ درخت ہوتا ہے جو اوپر اوپر تو پھیلتا ہے مگر نیچے سے بالکل کمزور رہتا ہے۔ کسی جھٹکے اور طوفان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کا ثبوت انتخابات میں ان قوتوں کو مل جاتا ہے جو اس پالیسی پر کار بند رہتی ہیں وہ سیاسی کارکن جو ان کی جماعتوں میں یہ سمجھ کر شامل ہوتے ہیں کہ وہ اس جماعت میں شامل ہو کر عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنے شعور اور دانش کا مظاہرہ کریں گے جس سے قوم کی بھلائی اور ملک طاقتور ہوگا۔ مگر ان سیاسی جماعتوں میں یا تحریکوں میں ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اور وہ بکھر جاتے ہیں نہ صرف طاقت اور قوت سے محروم ہوجاتے ہیں بلکہ انتخابات میں ’’عوامی قوت‘‘ سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ان تجربات سے سبق سیکھنا چاہئے اور آئندہ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی سیاست کو خیر باد کہہ دینا چاہئے۔ اس سے ملک اور قوم کی ترقی نہیں ہوتی بلکہ دنیا ہمارا مذاق اڑاتی ہے اور قوم کو شدید مایوسی بھی ہوتی ہے ہمارے سیاسی ، مذہبی رہنمائوںاور حکمران لیڈر شپ کو اس خیال سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے کہ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی سیاست آج کے جدید دور میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ اگر یہ ہوتا تو آج ترقی یافتہ ملکوں میں اپنے جانشینوں کے انتخاب کیلئے اپنی اپنی پارٹیوں میں نامزدگی کا اختیار حاصل نہ کیا جاتا ہم جن ملکوں کا اور ان کی قیادت کی مثال پیش کرتے ہیں امریکہ اوربرطانیہ و دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں اعلیٰ عہدوں کیلئے نامزدگی کا ’’انتخاب‘‘ کیا جاتا ہے ۔ اگر یہ طریقہ کار نہ اپنایا گیا تو ہم سیاسی ، اقتصادی ، علمی اور معاشی طور پر پیچھے کی طرف جائیں گے ترقی کی طرف نہیں۔ یہ اٹل حقیقت ہے اور دنیا ہمارے بارے میں بہت اچھی رائے قائم نہیں کریگی۔ ہمارے جن سیاسی کارکنوں اور جماعتی عہدیداروں نے اپنی کاوشوں سے پارٹیوں میں جدوجہد کی ہے اب ہمیں ’’ون مین ڈیموکریسی‘‘کی بجائے مخلص اور دیانتدار کارکنوں کو لیڈر شپ مہیا کرنی چاہئے ورنہ ’’دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا‘‘ اب پاکستان میں بے ایمانی کی سیاست نہیں ایمانداری کی سیاست چلے گی ’’ون مین ڈیموکریسی‘‘ کو ترک کرنا پڑے گا۔ نامزدگی کے طریقہ کار کے تحت سیاسی قیادت کسی انفرادی شخص کو نہیں دی جاسکتی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے میرٹ کی بجائے اقربا پروری کو ترجیح دی اور سینئر سیاستدانوں کی موجودگی کے باوجود اپنی اولادوں کو مواقع دیئے اور بڑے عہدوں سے نوازاحالانکہ حالات کا تقاضا یہ تھا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کئے جاتے اوربزرجمہر سیاستدانوں کو آگے لاکر ان کے تجربے سے استفادہ کیا جاتا۔کیا مسلم لیگ ن کی پارٹی صدارت کے لئے میاں شہباز شریف کے علاوہ پارٹی میں کوئی شخص بھی اس کا اہل نہیں تھا کہ پارٹی کی قیادت اسے سونپی جاتی،کیا پیپلز پارٹی میں بلاول کے علاوہ کسی میں اہلیت نہیں ہے، اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی صورتحال ہے ۔جب تک ہم موروثی سیاست کو ترک کر کے اجلے کردار کے لوگوں کو موقع نہیں دیں گے تب تک ہم حقیقی جمہوریت اور اس کے ثمرات سے محروم ہی رہیں گے۔ 

متعلقہ خبریں