Daily Mashriq


کرکٹ کے اصول اور سیاست

کرکٹ کے اصول اور سیاست

آج کل کرکٹ کا بخار پھر سب کو چڑھا ہوا ہے۔ پی ایس ایل کے میچ شارجہ اور دبئی کے میدانوں کو سجائے ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ تماشائیوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں کم کم ہی دکھ رہی ہے۔ اگرچہ پی ایس ایل انتظامیہ نے گزشتہ برس کی طرح تماشائیوں کے کیچ پکڑنے پر بھاری انعام بھی مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور ملٹی نیشنل ادارے کی جانب سے شیمپو کے اشتہار کے نام پر تماشائیوں کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے پر بھی آمادہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ فارغ البال اور اپنی خوشی سے بال صاف کرنے والے بھی انعام حاصل کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ تاہم تماشائیوں کی کمی کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ ہے اس بار شاہد آفریدی کا پشاور زلمے چھوڑ کر کراچی کنگز سے وابستہ ہونا۔ یہ تو علم نہیں کہ موصوف کے اس فیصلے کا کارن کیا ہے۔ اڑتی اڑتی بس اتنی ہی ہے کہ دو آفریدیوں کے مابین کسی بات پر ان بن کی وجہ ہی اس جدائی کا سبب ہے۔ حقیقت کیا ہے واللہ اعلم بالصواب۔ مقصد کہنے کا یہ تھا کہ جب تک شاہد آفریدی پشاور زلمی سے وابستہ رہے دوبئی اور شارجہ میں محنت مزدوری کے لئے مقیم پختون برادری ان میچوں میں ذوق و شوق سے شرکت کو یقینی بناتی تھی‘ تبھی تو پروفیسر طہٰ خان نے کہا تھا

کرکٹ کا خوب لطف اٹھائیں گے دوستو

کرکے توے ہنسیں گے ہنسائیں گے دوستو

قہوے کے ساتھ تاش کی گڈی بھی لے چلو

چپلی کباب میچ میں کھائیں گے دوستو

مگر اب صورتحال یہ ہے کہ شاہد آفریدی کے پشاور زلمی سے ناتا توڑنے سے زلمی کے میچوں میں بھی وہ رونق نہیں تو دوسری طرف کراچی کنگز کے میچوں میں بھی باوجود شاہد آفریدی کی وابستگی کے ‘ رش نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود شاہد آفریدی کی موجودگی مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو اس وقت تک خوفزدہ رکھتی ہے جب تک وہ کریز پر موجود رہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پانے کی وجہ سے اکثر جلد ہی پویلین لوٹ جاتے ہیں اور جب تک کریز پر موجود ہو چھکے‘ چوکوں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ مخالف کھلاڑیوں کے اس خوف کو طہٰ خان نے کیا خوبصورت الفاظ دئیے ہیں۔

جو پوچھا میں نے جب کرتے ہو بولنگ آفریدی کو

کہو امید سے ہوتے ہو تم یا نا امیدی سے

کہا اس نے کہ گھر والی سے اتنا ڈر نہیں لگتا

کہ جتنا ڈر مجھے لگتا ہے شاہد آفریدی سے

ویسے کرکٹ کے کھیل میں بہت بدلائو آگیا ہے۔ ہمیں اپنے لڑکپن کے زمانے کا کھیل یاد آتا ہے جب پشاور میں صرف سروسز گرائونڈ ہوا کرتا تھا جہاں نہ صرف میں نے اپنے کالج کے زمانے میں پاکستانی ٹیم کے غیر ملکی ٹیموں کے ساتھ کئی میچ دیکھے بلکہ جب میں ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوا تو ایک دو میچوں کی ریڈیو کمنٹری کے انتظام کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ اس کے بعد یہ کھیل ارباب نیاز سٹیڈیم منتقل ہوا تو بھی کئی بین الاقوامی میچوں میں ریڈیو کمنٹری ٹیموں کی سربراہی کی اور اردو انگریزی کمنٹری نشر کرائی۔ بات ہو رہی تھی کرکٹ کے کھیل میں بدلائو کی تو جس دور میں کرکٹ اس قدر کمرشلائز نہیں ہوا تھا اس زمانے میں نہ صرف کھلاڑی صرف اپنے ملکوں کے لئے کھیلتے بلکہ عالمی سطح پر صرف ایک ہی رنگ کا یونیفارم یعنی سفید قمیض سفید پتلون اور سفید ہی رنگ کے سویٹر جس کے وی ٹائپ گلے میں ایک الگ رنگ کی اون سے وی بنی ہوتی۔بعد میں ایک یہودی سرمایہ کار کیری پیکر نے مختلف ملکوں کے بڑے بڑے اور فنکار قسم کے کھلاڑیوں کو بھاری معاوضوں پر انگیج کرکے کرکٹ کے کھیل میں انقلاب برپا کردیا۔ اس نے ان کھلاڑیوں کی مختلف ٹیمیں مرتب کرکے ان کو آپس میں کھیلنے کے لئے میدان میں اتارا اور اس کو کیری پیکر تھیٹر کا نام دیا۔ ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کے لئے تھیٹر کے مسخروں کی طرح رنگ برنگے لباس بنوائے۔ آج یہ جو ہم مختلف ملکوں میں سپر لیگز کی سجی ہوئی منڈیاں دیکھ رہے ہیں یہ دراصل کیری پیکر کے ذہن رسا کی دین ہے۔ کیری پیکر نے ان میچوں کے نہ صرف ریڈیو اور ٹی وی نشریات کے حقوق بھاری معاوضوں پر فروخت کئے اور بغیر اجازت کسی بھی ملک میں ان کی نشریات کو کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت ممنوع قرار دیا بلکہ اس کھیل میں جوئے کو متعارف کراکے خوب دولت سمیٹی۔ چونکہ کیری پیکر نے ففٹی ففٹی اوورز کے ذریعے کھیل کو ایک نئی شناخت دی تھی اس لئے بعد میں ورلڈ کپ بھی انہی محدود اوورز کے تحت کھیلا جانے لگا۔ اور اب تو معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ٹی ٹونٹی پر آچکا ہے جس نے کھلاڑیوں کے لئے دولت کے انبار بنا کر انہیں مالا مال کردیا ہے۔ ادھر الیکٹرانک ٹیکنالوجی میں اضافے نے کھیل کے کئی اصول بدل کر رکھ دئیے ہیں اور بائولر کے ایکشن سے لے کر کیچ پکڑنے میں جو ’’قباحتیں‘‘ ہوتی تھیں ان کو بھی کیمرے کی آنکھ نے کنٹرول کر رکھا ہے اور حتمی فیصلے سے پہلے تھرڈ امپائر کو ایکشن ری پلے کے ذریعے فیصلے کااختیار مل چکا ہے۔ جبکہ ہمارے ایک سابق کپتان نے تو ملکی سیاست میں بھی کرکٹ کے اصول و ضوابط کو لاگو کردیا ہے اور اسلام آباد دھرنے کے دوران وہ امپائر کی انگلی اٹھانے کا بار بار ذکر کرتے رہے۔ بقول طہٰ خان

ہم تھے مخمور مگر نیند میں امپائر تھا

مفت میں ہوٹ ہوئے پچ سے ہٹائے بھی گئے

پہلی ہی گیند پہ ظالم نے اٹھا دی انگلی

ابھی آئے بھی نہ تھے اور بھگائے بھی گئے

متعلقہ خبریں