Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

رومیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی کسی بادشاہ کے پاس جانے لگا‘ اس وقت کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی بادشاہ کے پاس جاتا تو کوئی ہدیہ یا کوئی اور چیز بطور تحفہ بادشاہ کے لئے لے جاتا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ بادشاہ تحفے کو دیکھ کر خوش ہوگا اور اس کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ حاصل ہو جائے گا۔

دیہاتی نے جانے سے پہلے اہلیہ سے مشورہ کیا کہ کیا چیز لے جانی چاہئے؟ اہلیہ نے مشورہ دیا کہ ہمارے گھر کے مٹکے میں جو پانی ہے وہ نہر کا ٹھنڈا صاف شفاف اور میٹھا پانی ہے‘ ایسا پانی بادشاہ کو کہاں میسر آتا ہوگا‘ لہٰذا یہ پانی لے جائو۔

اس دیہاتی کی عقل میں اہلیہ کی بات آگئی اوراب اس نے وہ پانی کا گھڑا سر پر اٹھایا اور بغداد کی طرف چل دیا۔جب بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو عرض کیا۔

حضور! میں آپ کی خدمت میں ایک تحفہ لے آیا ہوں‘ بادشاہ نے پوچھا:کیا لائے ہو؟ دیہاتی نے وہ مٹکا پیش کردیا اور کہا کہ یہ میرے گائوں کے کنویں کا صاف‘ شفاف اور میٹھا پانی ہے‘ میں نے سوچا کہ اتنا اچھا پانی آپ کو کہاں میسرآتا ہوگا‘ اس لئے یہ میں آپ کے لئے لایا ہوں‘ آپ اس کو قبول کرلیں۔

بادشاہ نے کہا کہ مٹکے کا ڈھکن کھولو‘ جب دیہاتی نے ڈھکن کھولا تو پورے کمرے میں بدبو پھیل گئی‘ اس لئے کہ اس کو بند کئے ہوئے کئی دن گزر گئے تھے اور اس کے اوپر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔بادشاہ نے سوچا کہ بے چارہ دیہاتی آدمی ہے اور اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق ہدیہ پیش کیاہے اور اس طرح اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہا ہے اس لئے اس کا دل نہیں توڑنا چاہئے۔ اس پانی کی بہت تعریف کی اور پھر حکم دیا کہ اس مٹکے کے عوض ایک اشرفیوں سے بھرا مٹکا اس کو دے دیا جائے۔ چنانچہ دیہاتی بہت خوش ہوا کہ میرا تحفہ بادشاہ کے دربار میں قبول ہوگیا اور اشرفیوں کا بھرا ہوا ایک مٹکا بھی مل گیا۔

جب وہ دیہاتی واپس جانے لگا تو بادشاہ نے ایک نوکر اس کے ساتھ کردیا کہ دریائے دجلہ کے کنارے سے اس کو لے کر جائو۔ دیہاتی نے جب دجلہ کا پانی دیکھا اور اس کا پانی پیا تو وہ انتہائی صاف و شفاف اور میٹھا تھا۔ دیہاتی سوچنے لگا کہ بادشاہ کے محل کے اندر تو کتنے صاف شفاف اور اعلیٰ درجے کا پانی بہہ رہا ہے اور میرا پانی تو بدبو دار تھا لیکن بادشاہ نے تو بڑی کرم نوازی کی کہ میری خاطر اس بدبودار پانی کے گھڑے کو قبول کرلیا۔

مولانا رومیؒ یہ واقعہ تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ رب تعالیٰ کے حضور ہماری عابدات کا حال بھی اس بدبو دار پانی کی طرح ہے‘ اس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ عبادتیں ہمارے منہ پر مار دی جائیں لیکن حق تعالیٰ فضل و کرم فرماتے ہوئے ان کو قبول کرلیتے ہیں‘ اس کے باوجود بھی انسان اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا۔

(اصلاحی خطبات ص 144 ج2‘ مولانا تقی عثمانی)

متعلقہ خبریں