Daily Mashriq


بے گناہ مسلمانوں کا قتل ،مگر پھر بھی دہشت گردی نہیں!!

بے گناہ مسلمانوں کا قتل ،مگر پھر بھی دہشت گردی نہیں!!

بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک نیوزی لینڈ کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی دومساجد میں نماز جمعہ کیلئے آئے ہوئے نمازیوں کو سفید فام دہشتگردوں نے تیاری اور منظم طریقے سے فائرنگ کا نشانہ بنایا جبکہ واقعات کے بعد بھی اس کیلئے دہشت گردی کے لفظ کے استعمال سے احتراز اور ملزم کو عدالت میں پیش کرتے وقت تصویر میں اس کا چہرہ نہ دکھانا وہ خاموش حمایت ہے جس کے باعث ہی دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ کتنا بھی انکار کیا جائے یورپ،براعظم آسٹریلیا اور پورے عالم کفر میں دہشتگردی کا لفظ اور دہشتگردی کا ارتکاب مسلمانوں ہی کیلئے مختص ہے۔ اگر ان کا کوئی شہری کتنا بھی بد ترین دہشتگردی کا ارتکاب کرے وہ اسے دہشتگردی اور اس کے مرتکب کو دہشتگردکے نام سے ہر گز یاد نہیںکرتے، نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشتگردوں نے جس کھلے عام دھمکی اور فیس بک پر اس منصوبے کی قبل ازوقت افشا اور توثیق کے بعد یہ کارروائی کی اگر اس کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو اس کی روک تھام کیلئے سرکاری سطح پر کوشش نہ ہونے کو اشیر واد ملنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا ہونے کے باوجود ایسا قرار دینا سنگین الزام کے زمرے میں آئے گا لیکن یہ سوال بہرحال اُٹھتا ہے کہ علی الاعلان دہشتگردی کی روک تھام میں اس قدر ناکامی نیوزی لینڈ کی بطور یارست وحکومت کی ناکامی قرار دیا جائے یا پھر وہاں کی پولیس کواس قابل نہ سمجھا جائے کہ وہ قاتلوں کے ایک گروہ کو پوری اطلاع ہونے کے باوجود روکنے میں ناکام رہی اور وہ درجنوں بندوقوں اور بموں سے لیس گاڑی لیکر مساجد تک باآسانی پہنچ گئے جہاں ان کو نہ تو راستے میں کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی مساجد کے باہر پولیس کی کسی حفاظتی حصار سے ٹکرانا پڑا۔ اگر اس قسم کی صورتحال مسلم ممالک میں پیش آئے یا پھر مسلم ممالک یورپی ملکوں کے سفارت خانوں، سفارتی مشنز، چرچوں اور یورپی ممالک کے شہریوں کی رہائش گاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہر قیمت پر نبھانے کے انتظامات میں کوتاہی برتیں تو کیا ہوگا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کی دہشت گردی کے بعد یورپی شہریوں کو کن نتائج سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے اور وہیں مقیم کسی مسلمان شہری اور افراد کی طرف سے انتقام کا نشانہ بننا پڑسکتا ہے اس بارے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا لیکن بہرحال یہ خارج ازامکان نہیں بلکہ متوقع اس لئے ہے کہ جس معاشرے میںسفید فام انتہا پسندوں کو دہشتگردی کیلئے تمام اسباب ہلاکت میسر ہوں وہاں کچھ بھی ہوناغیر متوقع نہیں۔کرائسٹ چرچ کے جمعہ کے روز کے خونریز واقعات پہلے ایک دوواقعات ہوتے تو آئندہ کیلئے ان واقعات کی روشنی میں تدارک اور مسلمانوں کے تحفظ کی امید کی جاسکتی تھی لیکن یورپ امریکہ اور پورے عالم کفر میں مسلمانوں کیخلاف اس قسم کے منظم حملے معمول بن چکے ہیں۔مسلمانوں کیخلاف نیوزی لینڈ میں پیش آنیوالا یہ چھ منٹ کا خونریزواقعہ نہیںبلکہ ایک تسلسل کیساتھ اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔اس حملے سے قبل جہاں نیوزی لینڈ میں بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، وہیں نیوزی لینڈ کے پڑوسی ملک آسٹریلیا میں بھی متعدد مساجد پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔اگرچہ آسٹریلیا کو پرامن اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے ممالک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم وہاں بھی مسلمانوں اور مساجد کیخلاف نفرت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔جرمنی اور فرانس کی طرح آسٹریلیا میں بھی زیادہ تر مسلم خواتین پر ان کے مکمل لباس کی وجہ سے حملے کیے جاتے ہیں۔یورپ کے اہم ترین ملک جرمنی کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں مساجد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جرمنی میں مساجد پر ان حملوں کو دہشتگردی قرار دئیے جانے یا دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ان حملوں کو اسلامی شدت پسندی سے جوڑا گیا۔ برطانیہ کا شمار بھی یورپ کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر مساجد اور مسلمانوں کو زیادہ تر نشانہ بنایا جاتا ہے۔برطانیہ بھر میں 2013سے 2017 تک167مساجد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم مساجد کی سیکورٹی کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔امریکا میں بھی مساجد اور مسلمان محفوظ نہیں اور وہاں بھی اکثر اسلام یا مسلم مخالف واقعات ہوتے رہتے ہیں۔مساجد کو بند کرنا یا انہیں مذہبی عبادات کیلئے انتہائی کم وقت کیلئے کھولنا اور وہاں آنے والے مسلمانوں کو اپنی عبادات کرنے سے روکنے کا عمل فرانس تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کیخلاف اس طرح کے اقدامات جرمنی سمیت دیگر کچھ یورپی ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ امریکا میں بھی مساجد کی سیکورٹی کے بہتر انتظامات کرنے کے بجائے انہیں بند کرنا ہی مناسب سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح کنیڈا میں بھی مساجد اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس قسم کے واقعات کی آڑ میں عالم کفر کے مختلف ممالک کی جانب سے مساجد کو بند کرنا ایک سوچی سمجھی سکیم ہے جس کے جواب میں مسلم ممالک میں بھی اس قسم کے ردعمل کا نہ تو مشورہ دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہمارے دین میں اس کی گنجائش ہے۔ یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو برداشت نہ کرنے کا جو رجحان وہاں کے معاشرے اور وہاں کی حکومتوں کی جانب سے مسلمانوں کے تحفظ اور مساجد کو محفوظ بنانے کی بجائے بند کرنے کی جو پالیسی اختیار کی جارہی ہے اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے اس سے خود ان کے اپنے معاشرے میں ردعمل اورانتہا پسندی بڑھے گی اور وہاں عدم تحفظ کا احساس بڑھے گا جسے برداشت کرنا کم از کم وہاں کے معاشرے اور لوگوں کیلئے ممکن نہ ہوگا لہٰذا بہتر ہوگا کہ دہشتگردی وانتہا پسندی کو رنگ نسل ومذہب کی تفریق کئے بغیر دہشتگردی کو دہشتگردی سمجھا جائے اور اس کی انسداد کیلئے بلا امتیاز اقدامات کر کے اس کا سدباب کیا جائے۔

متعلقہ خبریں