Daily Mashriq


قبائلی اضلاع کے عوام کے حق کی ادائیگی کی یقین دہانی

قبائلی اضلاع کے عوام کے حق کی ادائیگی کی یقین دہانی

وزیراعظم عمران خان کی یہ یقین دہانی قبائلی عوام کیلئے باعث طمانیت اور صوبے کی حکومت کیلئے حوصلہ افزاء ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں سے ملنے والا3فیصد حصہ قبائلی علاقوں کیلئے مختص کیا جائے گا۔ضلع باجوڑ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حقیقت حال کے علم ہونے کا اعتراف کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو جنگ ہوئی اس سے لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا،ان کی دکانیں تباہ ہوئیں، کاروبار کے ذرائع تباہ ہوئے اور لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے جس صورتحال کے ادراک کا اظہار کیا ہے یہ ایک عمومی صورتحال رہی اگر باریک بینی سے معاملات کا جائزہ لیا جائے اور خاص طور پر وہ وقت یاد کیاجائے جب قبائلی علاقوں کے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تو اس انسانی المیہ کے تذکرے پر ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں جو لوگ اس صورتحال سے گزرے ان کا تا حیات اس کیفیت سے نہ نکل سکنا فطری امر ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیوں کی جو مختلف صورتیں سامنے آرہی ہیں وہ ایک طرح کااظہار ہے جس سے بعض عناصر کھیلنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سارے مسائل و مشکلات کا واحد حل قبائلی اضلاع کے عوام کو قومی دھارے میں اس طرح سے عملی طور پر شامل کرنا ہے کہ ان کو بیگانگی کا احساس نہ ہو۔ این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ قبائلی اضلاع کے عوام کے حصے کے طور پر دینے کی تجویز صرف موجودہ دور حکومت کا نہیں گزشتہ حکومت میں بھی اس پر اتفاق ہوا تھا لیکن چونکہ اس کا عملی اطلاق اور صوبوں سے اس بارے رضا مندی کے حصول کی بھاری ذمہ داری موجودہ حکومت پر آن پڑی ہے، بنا بریں یہ موجودہ حکومت کا قبائلی اضلاع کے عوام کو ان کا حق دینے کا اہم قدم ہوگا جس میں جتنی تعجیل کی جائے اتنا بہتر ہوگا۔

نیب کو نفرت زدہ ادارہ بننے سے بچایا جائے

پاکستان کے پرائم انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور سی ڈی اے اسلام آباد کے سابق ممبر سٹیٹ کے عہدے پر فائز رہنے والے سابق بریگیڈیئر مضمون نگار و تجزیہ کار اسد منیر کا نیب کی انکوائریوں سے تنگ آکر خودکشی جیسا انتہائی اقدام پر مجبور ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ نیب کے حوالے سے یہ پہلی شکایت نہیں قبل ازیں تضحیک آمیز سلوک کا ایک پروفیسر سامنا نہ کرسکے جبکہ اساتذہ کرام کو ہتھکڑیاں لگا کر اور بکتر بند گاڑیوں میں ملزمان کی پیشی پر بہت پہلے سے میڈیا اور سول سوسائٹی معترض رہا ہے۔ اسد منیر کی بے گناہی اور دوسری صورت کا تعین کرنا اب ان کے خط کی روشنی میں عدالت عظمیٰ کا معاملہ ہے ہم اگر ان کی شخصیت اور جن اعلیٰ عہدوں پر وہ فائز رہے ہیں ان کی روشنی میں جائزہ لیں تو یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔ نیب احتساب کرنے کا ادارہ ضرور ہے اور کڑے سے کڑا احتساب وقت کی ضرورت ہے لیکن احتساب کے عمل میں عدم احتیاط اور تضحیک کا کسی کو حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس افسوناک واقعے کی روشنی میں نیب کو اپنے طریقہ کار اور طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس ادارے سے وابستہ توقعات نفرت کی نذر نہ ہوجائیں۔

پلاسٹک شاپنگ بیگز کے کارخانے مکمل بند کئے جائیں

پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر سختی سے پابندی عائد کرنے اور اس کے استعمال پر بھاری جرمانے اور سزا عائد کرنے کا اقدام دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک شاپنگ بیگز ایسی چیز نہیں جس کا بہتر نعم البدل نہ ہو۔ اس کی تیاری مکمل طور پر بند کردی جائے تو اس کا استعمال از خود ختم ہوگا۔ حکومت دکانداروں پر تعزیر ضرور عائد کرے لیکن زیادہ بہتر ہوگا کہ اس کی تیاری کے مراکز بند کئے جائیں اس کے نعم البدل کے طور پر کپڑے کے تھیلے اور تحلیل ہونے والے مواد سے تیار کردہ تھیلوں کے استعمال کو رواج دینے کیلئے سول سوسائٹی کو بھی کردار ادا کرنا چاہئے۔ پلاسٹک بوتلوں میں پانی اور مشروبات کی فروخت کی جگہ اگر دودھ اور جوس کے ڈبوں کی طرح کے ڈبوں کا استعمال رائج کرنے کی طرف قدم بڑھایا جائے تو یہ بھی ایک دن ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں