Daily Mashriq


کالعدم تنظیموں کا کیا مستقبل ہے؟

کالعدم تنظیموں کا کیا مستقبل ہے؟

نیشنل ایکشن پلان کے مطابق پاکستان میں موجود جہادی تنظیموں اور ان کے فلاحی اداروں کیخلاف کریک ڈاؤن میں اس دفعہ واقعی وہ سنجیدگی دیکھنے کو آرہی ہے جس کی مثال اس سے پہلے ناپید تھی گوکہ ایسی تنظیموں کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے بھی اس نازک معاملے کا ایک خوشگوار اور قابل قبول حل ممکن ہے البتہ ایسے غیرریاستی اور متشدد عناصر جو انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، کے بارے میں حکومت کی کوئی واضح پالیسی نہ ہونا کئی طرح کی مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ تو کیا جا رہا ہے کہ ملک میں مسلح گروہوں سے نمٹنے کیلئے تمام ترسیاسی، معاشی اور انتظامی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع پلان تشکیل دیدیا گیا ہے البتہ اصل مسئلہ ان کالعدم تنظیموں کے ان ہزاروں کارکنوں سے نمٹنے کیلئے کسی مؤثر قومی پالیسی کا نہ ہونا ہے جس کے نتیجے میں یہ گروہ ان تربیت یافتہ کارکنوں کے ذریعے پابندی کے باوجود ملک میں اپنی غیرقانونی سرگرمیو ں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ حالیہ ملک گیر آپریشن میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طرف سے دہشتگرد قرار دئیے جانیوالی تنظیموں، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے دفاتر اور ان کے زیرانتظام چلنے والے مدارس کو حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایسی کارروائی کوئی پہلی دفعہ عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ حکومت کا ہر بڑے دہشتگردی کے واقعے کے بعد عالمی دباؤ کے تحت ایسے ہنگامی اقدامات کرنا معمول ہے۔ البتہ ماضی میں بھی ایسی کارروائیاں محض خانہ پری کیلئے کی جاتی رہی ہیں جس کی وجہ سے ان گروہوں کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا نہیں جا سکا۔ یہی وجہ ہے یہ کالعدم جماعتیں کچھ عرصہ بعد، بین الاقوامی پریشر کے ٹلتے ہی دوبارہ منظرعام پر آنے لگتی ہیں اور خود کو پھر سے منظم کر کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پندرہ برس قبل جہادی تنظیموں کی مکمل بیخ کنی کے بارے کئے جانیوالے فیصلے پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا کیونکہ سفارتی لحاظ سے پاکستان کو درپیش یہ سب سے بڑا چیلنج اب تک پوری شدومد کیساتھ موجود ہے۔ اس معاملے میں اپنے سیاسی مفادات کی خاطر خاموش رہنے اور عسکریت پسندوں کو ''گڈ'' اور ''بیڈ'' میں تقسیم کرنے کی پرانی روش کے باعث اس مسئلے سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکا۔ پاکستان کے پاس بین الاقوامی طور پر دہشتگرد قرار دی جانے والی تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور انہیں محدود کرنے کیلئے کسی بھی مؤثر اقدام کے ثبوت موجود نہیں بلکہ بین الاقوامی ٹیرر واچ لسٹ پر موجود جماعت الدعوہ جیسی تنظیموںکے بھی ماضی میں نیٹ ورک وسیع ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ البتہ اس تنظیم کے حامی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس گروہ کا عسکریت پسندی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف فلاحی کاموں کے حوالے سے ہی سرگرم عمل رہتی ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد یہ گروہ ایک بار پھر نظروں میں آگیا ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس دفعہ ان کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی میں خاصی تیزی اور سنجیدگی نظر آرہی ہے کہ اب ان کی بیخ کنی کرنا پاکستان کیلئے نہایت ضروری ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس بھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ میں شامل کرنے اور دہشتگردی کیلئے مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات کے بعد ضروری ہے کہ اب اقوام عالم کو یقین دلانے کیلئے ایسی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں جن سے یہ تاثر زائل ہو سکے کہ پاکستان دہشتگردی کا حامی ومعاون ہے، کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کا بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ مزید برآں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان پر جیش محمد اور اس جیسی دیگر مسلح تنظیموں کیخلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے دباؤ اور بھی بڑھ گیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مسعوداظہر کو ایک بین الاقوامی دہشتگرد قرار دیدیا جائے۔ اب تک سیکورٹی کونسل کے اس اقدام کو چین تکنیکی بنیادوں پر ویٹو کر کے روکتا آرہا ہے مگر کب تک؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان دوسرے ممالک کے دباؤ اور سفارتی طور پر جگ ہنسائی ہونے سے پہلے ہی ملکی مفاد کی خاطر خود ہی ایسے غیرریاستی عناصر کیخلاف کارروائی کر لیتا۔ بہرحال اب وقت آچکا ہے کہ پاکستان بغیر کسی لیت ولعل کے ان غیرریاستی عناصر کیخلاف کڑی کارروائی کرے۔ کچھ حلقوں کی جانب سے ان مسلح تنظیموں کی حمایت میں یہ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ چونکہ ان تنظیموں نے ریاست پاکستان کیخلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی سو انہیں اس قسم کے احتساب اور پابندیوں سے دور رکھنا چاہئے تاہم وہ اس بات سے ناآشنا ہیں کہ پاکستان کی سرزمین کا ان گروہوں کے ہاتھوں کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال ہونا بھی پاکستا ن کیلئے بڑی مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، حکومت اور عسکری قیادت بھی اس حوالے سے متفق ہیں کہ اب پاکستان کو ان تمام مسلح گروہوں، شدت پسند قوتوں اور غیرریاستی عناصر سے خود کو پاک کرنے کیلئے شفاف، فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید برآں حکومت کو ایسے افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے بھی ایک واضح اور ہمہ گیر پالیسی تشکیل دینا ہوگی جو ماضی میں جہادی تنظیموں کا سرگرم حصہ رہے ہیں اور اب ہتھیار پھینک کر معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ایسے تربیت یافتہ افراد کو نجی وسرکاری شعبوں میں مناسب روزگار دیکر بھی ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس بات کی بھی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے کہ وہ افراد جو اب تک اپنے شدت پسندانہ نظریات پر قائم ہیں کو کسی طور سیاسی جماعتوں یا معاشرے میں مدغم نہ ہونے دیا جائے کہ اس سے ان کے نظریات فروغ پانے کا اندیشہ ہے۔ اس تمام کارروائی میں کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سبق سیکھ کر آگے بڑھیں۔ (بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں