Daily Mashriq


پختونخوا کے پوشیدہ خزانے

پختونخوا کے پوشیدہ خزانے

ویسے تو بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز پر بہت احسانات فرمائے ہیں لیکن پختونخوا کئی لحاظ سے پاکستان کے دیگر حصوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہاں کچھ ایسے پوشیدہ خزانے ہیں کہ اگر ان کو صحیح طور پر استعمال میں لایا جائے تو اگر ایک طرف پاکستان کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تو دوسری طرف وطن عزیز کا بیرونی دنیا میں مثبت وخوشگوار امیج اُبھر سکتا ہے۔ موجودہ حکومت بالخصوص وزیراعظم نے بذات خود اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ ہم بہت جلد ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیں گے جس کے ذریعے ایک طرف دنیا بھر سے لوگ اپنے مذاہب کے مقدس وتاریخی مقامات کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرسکیں گے تو دوسری طرف یہ زائرین پاکستان کے غیرسرکاری سفیر بن کر اپنے اپنے ملکوں کے عوام میں آگاہی کے ذریعے کام کریں گے۔خیبر پختونخوا کے تاریخی علاقے تخت باھی (تخت بھائی) کے بارے میں بہت پہلے سنا اور پڑھا تھا کہ یہاں بدھ مت کے قدیم آثار ہیں لیکن اپنے دیس میں اجنبی کے مصداق کتنی بار تخت بھائی سے آتے جاتے گزرتے ہوئے ان آثار کی زیارت کی سبیل نہیں نکل سکی۔ حتیٰ کہ 11مارچ کو لوند خوڑ کے مردم خیز علاقے کے ایک خوبصورت گاؤں جیوڑ کے ایک علم دوست' محقق اور علم وفن کے قدردان' یاروں کے یار' استاد اور لوند خوڑ وجیوڑ کی تاریخ اور ثقافت پر تالیف کی گئی دو کتابوں کے مولف ومصنف محمد ریاض شاہین نے مہینہ ڈیڑھ قبل اتنی محبت سے ان آثار کی زیارت کی دعوت دی تھی اور اس کیلئے پیر گیارہ مارچ کی تاریخ کا تعین بھی کیا تھا۔ ریاض شاہین کے خلوص کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 11مارچ کی صبح پورے پختونخوا میں موسم سرما بلکہ بہار کی جھڑی لگی ہوئی تھی لیکن میں اپنے ایک دوست حضرت منیر جو اس سفر میں میرے ڈرائیونگ اسسٹنٹ تھے کی معیت میں چل سو چل' تخت بھائی کیلئے نکلا۔تخت بھائی کے اس فلائی اوور یا پل کو عبور کرکے جس نے وہاں کے عوام کی ناکوں میں ایک زمانے تک دم بند کر رکھا تھا' اپنے یار بریشم ریاض شاہین کو میرے اور ان کے مشترکہ دوست شاعر اور ادیب نیک نام کیساتھ منتظر پایا۔ شاہین نے اپنے سکول کے رفقاء اور گاؤں کے اہل علم حضرات کو بھی دعوت دی تھی۔ پندرہ بیس افراد کی ٹولی سلام دعا کے بعد تخت بھائی کے آثار قدیمہ کی راہ پر چل پڑی۔ وہاں پہنچ کر وہاں کے منتظمین میں سے اویس خان کو منتظر پایا۔ یہ وہاں ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ آرکیالوجی کے طالب علم بھی ہیں اور ان کھنڈرات کے مشاہدہ ومعائنہ کے دوران اس نے بہت دلچسپ انداز میں اس کی تفصیلات بیان کیں۔ کھنڈرات کے گیٹ وے سے لیکر اوپر پہاڑوں تک پتھریلی سلوں کی سیڑھیاں بہت کمال کیساتھ بنائی گئی ہیں لیکن گیٹ وے پر اردو اور انگریزی زبان میں دو بڑے سائن بورڈز پر کھنڈرات کے بارے میں جو بنیادی باتیں زائرین کی رہنمائی کیلئے لکھوائی گئی ہیں ان میں سے انگریزی بورڈ پر نظر نہ ڈال سکا لیکن اردو والی عبارت میں کئی ایک املا اور دیگر اغلاط بہت کھٹک گئیں۔ موقع پر موجودہ پولیس مین نے کہا کہ سر! یہ متعلقہ حکام کے علم میں لائی گئی ہیں لیکن توجہ نہیں دی جا رہی۔ اگر ان بورڈز کے درمیان ایک بورڈ پر جاپانی' نیپالی اور تھائی زبان وغیرہ میں بھی زائرین کی رہنمائی کی جائے تو بہت مفیصد رہے گا اور ان ملکوں کے زائرین کو آسانی ہوگی۔عمران خان کی یہ ویژن قابل قدر ہے کہ ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے اس کیلئے منظم منصوبہ بندی کرکے اس کے ذریعے نہ صرف زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان کا نرم اور علمی تصور (امیج) اور بدھ مذہب کے ممالک کے عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے جذبہ خیر سگالی بھی پیدا ہوگا۔بدھ مذہب کے یہ آثار وکھنڈرات دیکھتے ہوئے تین چار اہم نکات ذہن میں گھوم رہے تھے' ایک یہ کہ مہاتما گوتم بدھ ناپائیدار اور عارضی زندگی کی حقیقت سمجھ تو گئے لیکن آبادیوں کو چھوڑ کر اونچے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ لیکر ایک قسم رہبانیت اختیار کرلی۔ اس میں شک نہیں کہ بدھ مت اپنی ساخت میں بہت سادہ اور دلکش ہے اس لحاظ سے تو اور بھی پراثر کہ مراتبہ ذات کیلئے سٹوپا کے اندر جو چھوٹے چھوڑے کمرے بنائے گئے ان کو آج بھی دیکھتے ہوئے دل چاہتا ہے کہ چند لمحوں کیلئے وہاں واقعی اس پُرہجوم اور مادہ پرست دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔بدھ مت ہندوستان میں برہمنیت کے نخچیر کئے ہوئے انسانوں کی آزادی اور ان کو دلی سکون واطمینان کیلئے شروع ہوا تھا لیکن برہمن بہت کائیاں ہے' بہت جلد اوتار عقیدہ کے ذریعے ہندوستان سے اس کا خاتمہ کرایا۔ بدھ مت کے بھکشوؤں کا سادہ چھولا اور بغل میں تھیلا' سرمنڈھائے ہوئے پاؤں میں سادہ چپل پہلی نظر میں ان لوگوں کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتا جن کے ہاں پہلے سے کوئی مضبوط عقیدہ اور نظریہ نہ ہو۔ بحیثیت مجموعی بدھ مت بہت پُرامن مذہب ہے لیکن عجیب بات ہے کہ برما (میانمار) کے بدھوں نے اراکان کے مسلمانوں کو کیوں بنگلہ دیش کی طرف ہجرت پر مجبور کرکے بہت مشکل حالات سے دوچار کیا ہے۔تخت باھی ایک تاریخی علاقہ ہے حکومت کو چاہئے کہ ان کھنڈرات کے سائنسی اصولوں اور بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے تحفظ کے اقدامات کرے کیونکہ اس کے بعض حصوں کے منہدم ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں