Daily Mashriq


جمہوریت کا خواب

جمہوریت کا خواب

ہمارے اردگرد سب سے زیادہ سیاست کے موضوع پر ہی بات چیت چلتی رہتی ہے، رات دن سیاست ہی کے حوالے سے تذکرے ہوتے رہتے ہیں، حکمران جماعت، اس کے اتحادیوں اور اپوزیشن کے بیانات میں ہی شب وروز گزر رہے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرنا سب سیاستدانوں کا من بھاتا کھاجا ہے، ہم تو صاف ستھری سیاست اسی کو سمجھتے ہیں کہ عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں، وطن عزیز مستحکم ہو، معیشت مضبوط ہو! اگر ہم تمام شعبوں میں خودکفیل ہوجائیں تو ہم سمجھیں گے کہ ہمارے سیاستدان کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے عوام کیساتھ کئے گئے وعدے پورے کر دئیے جس دن مادر وطن سیاستدانوں کی پہلی ترجیح بن گیا سمجھو ہماری سیاست اچھی ہوگئی جب وہ شوق حکمرانی کے مقابلے میں عوام کی خدمت کو عظمت سمجھنے لگیں تو یقینا ہمارا نصیب بیدار ہو جائیگا سیاست کے تانے بانے تو دوتین ہزار برس پہلے یونانی مفکروں کے افکاران کی تعلیمات سے مل جاتے ہیں یوں کہئے سیاست کی کہانی وہاں سے چلتے چلتے آج اپنی موجودہ صورت میں نظر آتی ہے جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں یعنی عوام کی حکومت! یہ کتنا خوش کن خیال ہے اگر حکومت عوام کی ہو جائے تو کیا کہنے! یہ نظریہ پیش کرنے والوں نے یقینا بہت اچھا سوچا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ ذاتی مفادات کی وجہ سے جمہوریت کی شکل تبدیل ہوتی چلی گئی ہمارے یہاں جمہوریت کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ لنگڑی لولی جمہوریت ہے اور لنگڑی لولی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے ہم تو لنگڑی لولی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ہمارے خیال میں جمہوریت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی! اس کے درمیان کوئی راستہ نہیں ہے اس قسم کے اقوال زریں ان سیاستدانوں کی طرف سے آتے ہیں جو جمہوریت کی روح کو نظرانداز کرتے ہوئے عوام کو طفل تسلیاں دیتے نظر آتے ہیں یعنی جس جمہوریت کے ہم دعویدار ہیں انہیں بلا چوں وچرا قبول کرلو، کم ازکم یہ آمریت سے تو بہتر ہے! افلاطون کا شاگرد ارسطو پہلا مفکر ہے جس نے سیاسیات کو ایک باقاعدہ علم کا درجہ دیا اس کی مشہور زمانہ کتاب سیاسیات (politics) میں ہمیں سچی سیاست کے اسرار ورموز ملتے ہیں، ارسطو نے اپنی کتاب میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ سیاسی نظام کو کس طرح برقرار رکھا جاسکتا ہے (یقینا ہمارے دوسرے بہت سے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی نظام بہت زیادہ کمزور ہے اور زیادہ عرصہ نہیں چل پاتا) جمہوری حکومتیں آتی ہیں اور وجوہات جو بھی ہوں مگر ان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے ہمارے یہاں جمہوری حکومتوں کا تجربہ ہمیشہ سے بڑا تلخ رہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وطن عزیز میں اصلی اور سچی جمہوریت کے نہ پنپنے کی کیا وجہ ہے؟ ارسطو اس مسئلے کا بڑا اچھا اور مناسب حل بتاتا ہے وہ لکھتا ہے کہ جو کوششیں آپ سیاسی ڈھانچے کی مضبوطی کیلئے کرتے ہیں ان میں ایک بات کا ہونا بہت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی کوششوں اور اعمال کا حاصل خوشگوار ہونا چاہئے ارسطو اسی کو سب سے بڑی تبدیلی سمجھتا ہے اس کے خیال میں انسان اسی وقت اس خوشگوار انجام کو پاسکتا ہے جب وہ اپنی خواہشات پر عقل ودلیل کی مدد سے قابو پالے! اس حوالے سے اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے غلام ہیں دوسروں کا حق مارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہمیں حکمرانی عزیز ہے اپنی کرسیوں سے پیار ہے کرسی تک پہنچنے کیلئے ہمیں کتنے ہی قوانین کیوں نہ توڑنے پڑیں ہم دریغ نہیں کرتے! قانون تو موجود ہے لیکن اس کا احترام کہاں ہے؟ قانون ٹوٹ جائے لیکن ہماری پگڑی سب سے اونچی رہے۔ ہم عہدے، مال ودولت، اختیار کیلئے ہر غیرقانونی عمل کو جائز اور روا سمجھتے ہیں اور اگر یہ صورتحال ہو تو پھر ایک خوشگوار انجام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ ارسطو کے نزدیک ایک کامیاب ریاست کا تصور یہ ہے کہ وہ خود کفیل ہو اور یہ خود کفالت صرف اور صرف اسی صورت میں حاصل کی جاسکتی ہے جب کوئی ریاست اپنے سرمائے، وسائل، اپنے دستور اور حکمران طبقے میں توازن اور اعتدال پیدا کرے! اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہم جمہوریت کی روح سے کتنے ناآشنا ہیں خودکفیل ہونا تو دور کی بات ہے ہمارا تو بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے بیرونی امداد رک جائے تو ہمیں جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ارسطو نے جمہوریت کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ آج بھی قابل توجہ ہیں، اس نے جمہوریت کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی بتائی تھی کہ اجتماعی فیصلے انفرادی فیصلوں کے مقابلے میں بہرحال بہتر اور زیادہ قابل اطمینان ہوتے ہیں! یہ ساری باتیں جمہوریت اور ریاست کے حوالے سے درست ہوں گی مگر ہمیں تو ابھی تک جمہوریت کا پھل چکھنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا ہم تو اس کے ذائقے کیلئے ترس گئے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ جمہوریت کے پھل کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے ہم اسے کیا نام دیں؟ اپنی بدقسمتی یا سیاستدانوں کے ہتھکنڈے؟ جو ہمیں طرح طرح کے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں اور ہم ہر بار ان کی چکنی چپڑی باتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ قانون کی برتری، ایک پرمسرت زندگی گزارنے کا تصور! یہ سب وہ چیزیں ہیں جو جمہوریت کیساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ ارسطو نے انصاف کے حصول، حکومت کے فرائض، تفریح کی اہمیت، شہریت کا صحیح مقصد اور تعریف کے حوالے سے بڑی تفصیل کیساتھ بات کی ہے وہ قانون کی بالادستی اور اعتدال پر زور دیتا ہے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہاں قانون کی بالادستی موجود ہے؟ ہمارے معاشرے میں اعتدال کہاں ہے؟ دولت کی حدود کا تعین تو ہمارے یہاں ایک خواب ہے جس کا بس چلتا ہے وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے!

متعلقہ خبریں