Daily Mashriq

سی پیک اور خطے کاامن

سی پیک اور خطے کاامن

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ سے خطے میں دہشت گردی' نقل مکانی اور خوراک و پانی کی قلت جیسے خطرات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ سرحدی کشیدگی کم نہ ہوئی تو ترقی خواب بن جائے گی۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کرسکتا باہمی تجربات سے استفادہ کرکے ہی ترقی کرسکتے ہیں۔ تمام ممالک آپس کے تنازعات پر امن طریقے اور باہمی مذاکرات سے حل کریں۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے بین البرعظمی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ سی پیک خطے کی تعمیر و ترقی کامنصوبہ ہے لیکن سی پیک کی کامیابی کے لئے جن لوازمات کی ضرورت ہے خطے میں امن و امان اور خطے کے ممالک کے درمیان مفاہمت اور پر امن ہمسائیگی بنیادی چیز ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بد قسمتی سے یہی چیز نا پید ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی کشیدگی اور اتار چڑھائو کسی تفصیل کا محتاج نہیں اس وقت دونوں ممالک کے درمیان خصوصی طور پر تنائو کی کیفیت ہے اور د ونوں ممالک بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں آمنے سامنے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ تو تقسیم بر صغیر کا نا مکمل ایجنڈا ہے اور معلوم نہیں کب تک رہے گا اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان ابھی کتنی کشیدگی ہو اور اس کے کیا اثرات سامنے آئیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی کی بھی یہ نوبت ہے کہ حال ہی میں سرحدی جھڑپ ہوئی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر حملے اور جوابی حملے تک بات گئی تھی۔ افغانستان کا تو ہم سے خدا واسطے کا بیر ہے اگر پاکستان لاکھوں افغانوں کی برسوں میزبانی کے باوجود ان کے لئے پسندیدہ ملک نہ بن سکا تو آئندہ بھی اس کی توقع عبث ہے۔ افغانستان ہی واحد ملک رہاہے جو پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکاری ہونے کی تاریخ رکھتا ہے۔ یہ ساری فضا معروضی بنیاد پر اس امر پر دال ہیں کہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت اچھی نہیں بلکہ برے ہمسایوں کی ہے۔ افغانستان اپنے داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے تو ایران اور بھارت گوادر پورٹ کے مقابلے میں ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو ترقی دے کر سی پیک کا مد مقابل بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ اگرچہ اس میں ان کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن بہر حال وہ ایک متبادل کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ چین کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی گرمجوشی جتنی بھی ہو وہ اپنی جگہ لیکن جہاں معاملات معاشی و اقتصادی اور تجارتی مفادات کے پھیلائو اور حصول کا ہو وہاں معاشی و تجارتی مفادات کے تقاضوں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ چین کا یقینا ایک پر امن اور مستحکم خطہ ہی کو موزوں سمجھنا فطری امر ہے۔ اس کا ہم سے سی پیک منصوبے کے ساتھ ہی یہی تقاضہ ہوگا کہ پاکستان اپنی پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں لائے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط و مستحکم ہوں اور خطے میں کشیدگی کا عنصر باقی نہ رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اور سی پیک کی کامیابی کے لئے ہمیں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی و نرمی اور پڑوسیوں کو ممکنہ رعایتیں دینے پر غور کرنا ہوگا۔ ان کے تحفظات دور کرنے اور اپنے تحفظات دور کروانے ہوں گے۔ اس مقصد کے لئے براہ راست یا پھر بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لینا ہوگا مگر یہاں مشکل امر یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم کسی بھارتی کاروباری شخصیت سے ملتے ہیں تو اولاً اس کی راز داری افشاء کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس ملاقات کو اس قدر متنازعہ اور قابل تنقید بنا دیا جاتا ہے کہ اس کی وضاحت دینی پڑتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری ملکی سلامتی و استحکام خدا نخواستہ اس قدر نازک ہے کہ ایک ملاقات سے اس کا تیا پانچہ ہو جاتا ہے۔ ہم بطور قوم ایک فرد کا انتخاب کرکے انہیں وزیر اعظم تو بنا دیتے ہیں مگر ان پر اتنا اعتماد کرنے کو تیار نہیں کہ وہ اعتماد کے ساتھ قومی مفاد میں کسی سے بات چیت کرسکیں۔ بھارت کے ساتھ سفارتی طور پر ان حالات میں تعلقات کو معمول پر لانا ہی مشکل نظر آتا ہے ایسے میں بیک ڈور ڈپلومیسی ہی کا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک من حیث القوم ہمیں اپنے مفادات کا از سر نو تعین کرنے کا متقاضی ہے۔ جن ممالک کے ساتھ ہمارے اصولی اختلافات چلے آرہے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کشیدگی کی نوبت نہ آئے اور جن ممالک کو ہم سے شکایات ہیں ان کو اگر دور کرنا ممکن نہ ہو تو ان میں کمی ضرور آئے۔ ملک کے اندر فسادی قوتوں کے خلاف جو تطہیری عمل جاری ہے وہ اطمینان کے لئے کافی ہے۔ اگر پڑوسی ممالک بھی خطے میں امن چاہتے ہیں تو ان کو اپنے ہاں بھی اس طرح کے اقدامات کرنے ہوں گے کہ ان کی آگ کی تپش سے کم از کم ہم محفوظ رہیں۔ افغانستان ایک پسماندہ ملک ہے اس کا مفاد پاکستان سے وابستہ اورخطے میں امن کا قیام ہے۔ افغانستان میں داخلی امن و سلامتی اور استحکام لانے میں پاکستان کا تعاون کوئی ایسی سمجھ میں نہ آنے والی بات نہیں جس پر بحث و مباحثہ کی ضرورت پڑے۔ ایران برادر اسلامی پڑوسی ملک ہے جبکہ بھارت ایک بہت بڑی آبادی والا ملک ہے جس کو خود اپنے ملک اور اپنے عوام کے مفاد میں خطے میں استحکام امن کی مساعی کی ضرورت ہے۔ امن اس خطے کی مشترکہ ضرورت اور معاشی ترقی مشترکہ خواب ہے اس کی تعبیر بھی مشترکہ طورپر خواب دیکھنے سے ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

اداریہ