Daily Mashriq


یکساں پالیسی کا عملی اطلاق بھی ہونا چاہئے

یکساں پالیسی کا عملی اطلاق بھی ہونا چاہئے

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسی پالیسی پر کام کررہی ہے جس کا اطلاق پاکستان اور افغانستان دونوں پر کیا جاسکے اور جلد ہی اس پالیسی کا اعلان کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی اعلی امریکی عہدے دار نے یہ کہا ہے کہ ٹرمپ کی نئی پالیسی پاکستان کے حوالے سے بھی ہوگی، اس سے قبل سامنے آنے والے تمام بیانات میں اسے افغان پالیسی کا نام دیا جاتا رہا تھا۔امریکہ کا افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے یکساں پالیسی اور اس کے اطلاق کے اثرات کا اندازہ اسی وقت ہی لگایا جاسکتا ہے جب اس کے عملی نفاذ کا وقت آئے گا۔ اب تک امریکہ افغانستان کو ایک طفیلی ملک کے طور پر ہی ترجیح دیتا رہا ہے اور جو الزامات کابل اسلام آباد پر لگاتا رہا ہے امریکہ نے بھی اسی کو سچ مانا۔ پاکستان ہمیشہ سے امریکہ پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے بارے میں یکساں پالیسی اپنائے مگر یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے اس کاعندیہ دیا ہے۔ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ سعی کرکے بھی خطے میں حالات کو استحکام کی راہ دکھا سکتاہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خطے میں یکساں پالیسی اختیار کرنا خود امریکہ کی بھی ضرورت ہے جس کے بغیر امریکہ کا افغانستان میں نتائج کے حصول کے ساتھ انخلاء کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ امریکہ کامزید فوجیں افغانستان لانا مسئلے کا حل نہیں امریکہ کو چاہئے کہ وہ خطے کے تمام ممالک اور بالخصوص افغانستان کی داخلی قوتوں کے لئے قابل قبول فارمولہ ترتیب دے کر افغانستان سے اخراج کا راستہ اختیار کرے۔ امریکہ کو اس حقیقت کا جتنا جلد ادراک ہو جائے اتنا ہی اچھا ہوگا کہ افغانستان کے داخلی امن اور استحکام کے لئے جتنا جلد ہو سکے داخلی قوتوں کو مجتمع کیا جائے اور بیرونی مداخلت اور اثرات کاخاتمہ کرکے افغان ملت کو اپنے مسائل و معاملات خود حل کرنے کے قابل بنایا جائے۔

رومانیہ میں قید نوجوانوں کا مسئلہ

پاکستان سے یورپ جانے والے پندرہ افراد کو رومانیہ میں لوٹنے کے بعد یر غمال بنا کر اہل خانہ سے مزید رقم کی ادائیگی کا مطالبہ افسوسناک بات ہے۔ رومانیہ میں اغوا ہونے والوں کے اہل خانہ کی حکومت سے امداد کی اپیل اصولی طور پر غلط نہیں لیکن معروضی صورتحال میں حکومت ان کی نہ تو براہ راست کوئی مدد کرسکتی ہے اور نہ ہی مغویوں کی بازیابی کے لئے حکومت کے پاس کوئی براہ راست طریقہ ہے سوائے اس کے کہ پاکستان سفارتی طور پر رومانیہ سے رابطہ کرکے مغوی پاکستانیوں کی بازیابی کے لئے سفارتی طور پر دبائو ڈالے۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں جس کی روشنی میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ طویل پیچیدہ اور صبر آزما ہے الایہ کہ کوئی معجزہ رونما ہو جائے اور رومانیہ کی حکومت اور انتظامیہ جلد ملزموں کا سراغ لگا کر براہ راست کارروائی کرکے مغویوں کو چھڑائے بار بار کے نا خوشگوار اور پر خطر واقعات کے رونما ہونے کے باوجود نہ تو نوجوان عبرت حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ماں باپ اور عزیز رشتہ داروں کو کوئی سبق ملتا ہے۔ حکومتی ادارے بھی چھپ چھپا کر نکلنے والوں اور خاص طورپر منظم طور پر انسانی سمگلنگ کا دھندہ کرنے والوں کیخلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھا پاتے ہیں۔ آسٹریلیا کی طرف سے تقریباً تمام ٹریول ایجنٹس کے دفاتر میں غیر قانونی طور پر آسٹریلیا میں داخلے کے امکانات کو نا ممکن قرار دینے اور کسی کو بھی پناہ اور جگہ نہ دینے کے باقاعدہ بورڈ لگوائے گئے ہیں دیگر یورپی ممالک کی بھی صورتحال یورپ جانے والوں کے لئے مخفی نہیں بلکہ تمام حالات سے واقفیت ہونے کے باوجود نوجوان انسانی سمگلروں کے جال میں خود کو پھنسا لیتے ہیں۔ کافی تعداد تو نکل جاتی ہوگی مگر محولہ قسم کے واقعات بھی پیش آتے ہیں جس میں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ غمزدہ اہل خانہ کی حکومت سے اپیل ہی ایک سہارا ہے مگر اس اپیل پر عملدرآمد کی پیچیدگیوں اور مشکلات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان مغویوں کی جلد اور بحفاظت بازیابی کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے کم از کم دوسروں کو ان افراد کے انجام سے عبرت پکڑنا چاہئے کہ وہ کہیں غلط قدم اٹھا کر اس انجام سے دو چار نہ ہو جائیں۔ یورپ اور بیرونی ممالک کو جانے کا واحد اور آسان راستہ قانونی دستاویزات اور اس ملک کے ویزے کی صورت میں اجازت نامہ کے ساتھ ہی ے اس کے علاوہ کسی بھی ذریعے سے جانا اپنے آپ کو گہری کھائی میں خود ہی گرا دینے کے مترادف ہے جس سے گریز کیا جائے۔

متعلقہ خبریں