Daily Mashriq

طالبان کی اخلاقی گراوٹ

طالبان کی اخلاقی گراوٹ

میرے جیسے تاریخ کے طالبعلم کے حافظے میں طالبان کے دنوں کے وہ سنہری دن ابھی تک محفوظ ہیں کہ جب ملا محمد عمر طالبان کے امیر اور افغانستان کے حاکم تھے۔

یہ بوریا نشین مرد درویش آج کا نہیں قرون اولیٰ کا لگتا تھا۔اس کی امارت کا قلندرانہ رنگ سب رنگوں سے ممتاز تھا۔اس کے انصاف کے چرچے ایشیاء ہی نہیں یورپ امریکہ افریقہ اور آسٹریلیا میں بھی گونجنے شروع ہو گئے تھے اور بخدا اگر اس شخص کو مزید دس سال حکمرانی کا موقع مل جاتا تو دنیا کو قرون وسطیٰ کی مسلم سلطنتوں کے بعد موجودہ دور کی پہلی اسلامی فلاحی ریاست کو روبہ عمل ہوتے دیکھنے کا موقع ملتا۔افغانستان میں عدل و انصاف کی چکا چوند پوری دنیا کو خیرہ کر دیتی تو دنیا کی ہر قومیت اس پر رشک کرتی اور یہ خواہش بھی کہ کاش انہیں بھی اسی طرح کے نظام میں زندگی گزارنے کا موقع ملے۔
اسلام میں یہ خوبی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص،گروہ یا جماعت اس میں پوری کی پوری داخل ہونے کے بعداس کے زریں اصولوں کی بنیاد پر کوئی بھی تحریک چلائے ،کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔مثال کے طور پر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ حالت جنگ میں بھی صلہ رحمی کا دامن نہ چھوڑے۔فقر کو پسند کرے اور سادگی سے زندگی گزارے۔انسان تو کیا ایک چیونٹی کو بھی مارنے کی کوشش نہ کرے۔زبردستی کرنے کی بجائے اخلاق سے دل جیتے۔صبر اور برداشت کے دامن کو نہ چھوڑے۔دوسروں کی خطائوں کو معاف کرے۔تشدد کو ناپسند کرے ۔مظلوم کا ساتھ دے۔حقگوئی اور بیباکی کا دامن کسی بھی حال میں نہ چھوڑے۔کسی کو دکھ اور ایذاء نہ دے۔اختلاف رائے کو برداشت کرے۔اپنی سوچ کو دوسروں سے شیئر ضرور کرے لیکن اسے مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اور دین میں جبر کا عنصر نہ لائے۔ان اوصاف سے متصف مسلمان کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھتا اور ان اوصاف سے عاری مسلمان کامیابی کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔
اس ناکامی اور کامیابی کے تصور کو ہم نے حالیہ زمانے میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ پاکستان سے علماء کا جو وفد ملا عمر سے مذاکرات کرنے کابل گیا تھا اس میں ایسے عالی شان بزرگ علما تھے کہ جن پر ولی ہونے کا گمان ہوتا تھا۔ایسے جید اور درویش عالم کہ جن کے احترام میں ملا عمر کے لئے آنکھ اٹھا کر بات کرنا بھی مشکل تھا۔وہ عالم کہ جنہوں نے شائد ہی اپنی زندگی میں زبان سے کوئی غلط کلمہ نکالا ہو لیکن جب انہوں نے ملا عمر سے ایک مطالبہ کیا تو ملا عمر نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ملا عمر سے ان علما نے اسامہ بن لادن کو افغانستان سے بے دخل کرنے کی بات کی تھی جس پر صاف انکار کرتے ہوئے ملا عمر نے ان علماء کو یاد دلایا تھا کہ مسلمان کو زیبا نہیں کہ وہ اپنے مہمان کو اس کے دشمن کے حوالے کرے۔اس وقت ملا عمر حق پر تھا اس لئے انہیں اپنے مؤقف میں کامیابی ملی۔
انہی افغان طالبان کی کاپی کر کے پاکستان میں نام نہاد ''تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اور اس میں ہر ایرے غیرے کو شامل کیا گیا۔وہ مفرور لوگ جنہیں کوئی جائے پناہ نہیں ملتی تھی ان لوگوں میں شامل ہوئے۔اغوا برائے تاوان کے رسیا لوگوں کو بھی ایک بہانہ ملا اور بیروزگار کام چوروں کو بھی روٹی کھانے کا ٹھکانہ ملا۔
پہاڑوں کا رخ کرنے والے ان لوگوں کا کوئی نظریہ تھا اور نہ ہی جدوجہد کا کوئی مقصد۔ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر کسی ڈاکو نے بھی کسی راہنما اصول کے تحت ڈکیتیاں کیں تو تاریخ نے اسے ہیرو مانا۔انگریز کے زمانے کا سلطانہ ڈاکو ہو یا ملنگی ڈاکو امیروں کے ہاں رات کے وقت ڈاکہ ڈالتے تھے اور دن کی روشنی میںلوٹ کا مال غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔پنجاب کے بڑے بوڑھے آج بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔سو جب کسی جدوجہد کی کوئی نظریاتی اساس ہی نہ ہو تو جدوجہد نہیں شورش ہوتی ہے ، فساد ہوتا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ افغان طالبان کی اب اخلاقی حالت کیسی ہے لیکن اگر وہ بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں تو یاد رکھیں کہ زندگی بھر یونہی جنگلوں اور پہاڑوں میں بھٹکتے رہیں گے۔ان کے اندر سے کبھی داعش نکلے گی اور کبھی کوئی اور عفریت جو انہیں بھی کھا جائے گا۔سو یہ تگ وتاز جسے وہ جدوجہد کہتے ہیں فساد کے سوا اور کوئی عنوان نہیں پائے گی ۔اور وہ لوگ جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں شروع کی جانے والی نام نہاد ''تحریک'' میں کوئی ایمان کی چنگاری باقی ہے یہ بات نوٹ کر لیں کہ شر سے کبھی خیر کا ظہور نہیں ہوتا۔وہ لوگ کہ جو تحریک کا حصہ ہیں اور اس کے موجودہ خدوخال کو پسند نہیں کرتے انہیں چاہئے کہ عملی صداقتوں کی طرف آئیں۔دعوت و تبلیغ کے میدان کے شاہسوار بنیں کہ فحاشی،عریانی اور بیباکی پاکستان افغانستان اور دیگر مسلم ملکوں کی اسلامی بنیادوں کو خوفناک زلزلے کی طرح ہلا رہی ہے۔اسے ساری دنیا کی فوج اور اسلحہ مل کر بھی نہیں روک سکے گا۔اس کے لئے اعلیٰ ترین درجے کی اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے۔ایک ایسی اصلاحی تحریک جو مکمل ہوم ورک کے بعد شروع ہو۔موبائل فون ،انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن کی بیباکی شیطان کی صورت ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے،اس شیطان کو گھروں سے نکالنا ہے تو اس کے لئے طویل جدوجہد کرنی ہے سو جب عصر حاضر کے خوفناک چیلنج موجود ہیں تو جدوجہد کا محور بھی یہی ہونے چاہئے کہ وہی قوم سر بلند رہتی ہے جو وقت کے ساتھ ابھرنے والے وائرس نما چیلنجوں کو صاف کرتی رہے۔

اداریہ