Daily Mashriq

گوادر میں سندھی محنت کشوں کا سفاکانہ قتل

گوادر میں سندھی محنت کشوں کا سفاکانہ قتل

گوادر کے سانحہ پر ''سر سچاروں ''(بلوچ انقلابیوں) نے جو موقف اختیار کیا اس پر سر پیٹنے کو جی کرتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ زیر تعمیر سڑک کے جس منصوبے پر کام کرنے والے 9سندھی مزدور قتل ہوئے وہ سی پیک منصوبے کی سڑک نہیں تھی بلکہ ساحل سے منڈی تک رسائی کے لئے صوبائی حکومت کے منصوبے کا حصہ تھی۔ 19کلو میٹر کی اس سڑک پر تعمیر کے لئے سمندر سے مچھلیاں پکڑنے والے طویل عرصہ سے مطالبہ کر رہے تھے۔ اگر سندھی' سرائیکی اور دوسرے علاقوں کے محنت کشوں کا بلوچستان مزدوری کے حصول کے لئے جانا قومی جرم ہے تو پھر کیا فرماتے ہیں ان قابل احترام بلوچوں بارے جو بلوچستان کی بلوچ آبادی سے چار گنا زیادہ سندھ' سرائیکی وسیب' سنٹرل پنجاب اور کے پی کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم بلوچوں بارے یہ سرسچار کیا فرماتے ہیں؟ خدا کے بندو' ہجرت اور تلاش رزق میں جدائی کے لئے آبائی علاقوں اور پیاروں سے کون خوشی سے بچھڑتا ہے۔ ویسے تو بڑے مارکسٹ بنتے ہیں یہ انقلابی لیکن محنت کشوں کے قتل پر جیسا جشن انہوں نے منایا اور رزق خاک ہوئوں کو سامراجی ٹوڈی کیا لکھا اور اس سوچ اور فہم پر کیا کیا جائے۔کیا ان انقلابیوں کو احساس ہے کہ ان کے وحشیانہ اقدام نے بلوچوں کے سیاسی و معاشی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور اس جدوجہد کی حمایت کرنے والے سندھی اور سرائیکی اب کیا سوچ رہے ہیں؟ کامل یقین یہ ہے کہ انقلاب کے ٹائی ٹینک پر سوار ان سرسچاروں کو زمینی حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے بعض جو پر اسرار طور پر غائب کئے جانے اور مسخ شدہ نعشیں ملنے پر طویل عرصہ سے سراپا احتجاج تھے ان سے اپنے ہم قوم اب سوال کرتے ہیں کہ اسی انقلاب اور بلوچ حقوق کی بات کرتے تھے آپ لوگ؟ 

یہ عرض کردوں کہ بلوچستان کے حوالے سے درباری مسخروں کی رام لیلائوں پر یقین کرنا بہت مشکل ہے مگر سندھی محنت کشوں یا اس سے قبل سرائیکی اور پنجابی مزدوروں کو قتل کئے جانے کے واقعات یہ سب کسی اور بات اور قصے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ کچھ اہل علم تو یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کیا بلوچ انقلابیوں اور داعش وغیرہ کے درمیان روابط استوار ہوچکے؟ ان سرسچاروں سے ہی کیوں نہ دریات کرلیا جائے کہ غیر مقامی محنت کشوں کے لئے جو اصول آپ بیان فرما رہے ہیں کیا اس کا اطلاق بلوچستان سے باہر مقیم بلوچوں پر ہوگا؟ کیا ان کے لئے آپ یہ کہہ پائیں گے کہ سامراجی علاقوں میں صدیوں سے مقیم رہنے کی وجہ سے اب وہ انقلابیوں کے لئے قابل اعتبار نہیں رہے؟ ان سر سچاروں سے زیادہ حیرانی ان پر ہے جو سندھ اور سرائیکی وسیب میں بیٹھ کر فرما رہے ہیں کہ مزدوری کی آڑ میں جاسوسی کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ خوف خدا اور درد انسانیت نہ ہو تو لوگ اسی طرح کے ہذیان سے جی بہلاتے ہیں۔ ارے بھائی یہ 9یا 10سندھی محنت کش ایک ٹھیکیدار کی توسط سے روز گار کے لئے بلوچستان پہنچے تھے جاسوس ہوتے تو کم از کم اتنی تربیت تو ہوتی ان کی کہ وہ مرتے مرتے دو تین حملہ آوروں کی جان لے لیتے۔ مکرر عرض ہے کہ بلوچوں کے سیاسی حقوق کی جدوجہد کی تائید کرنے والوں کے لئے سر سچاروں نے کوئی اخلاقی جواز نہیں چھوڑا۔ بلوچستان کی کل آبادی میں مشکل سے تیس یا پینتیس لاکھ بلوچ ہیں اڑھائی سے تین کروڑ بلوچ سندھ اور سرائیکی وسیب میں آباد ہیں۔ کیا ان سر سچاروں نے سوچا بھی کہ ان پر اخلاقی دبائو بڑھے گا تو وہ کیا کریں گے؟
لاریب بلوچوں کا اپنی زمین اور وسائل پر سو فیصد حق ہے۔ ستر برسوں میں کتنے غیر بلوچ بلوچستان کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوئے۔ بگٹی' جام' رئیسانی' مینگل' مری اور دوسرے بلوچ خانوادوں کے جو سردار مختلف اوقات میں بلوچستان کے اقتدار کے مالک بنے ان کی حیثیت کیا ہے۔ سر سچاروں کے نزدیک سامراجی نظام کا حصہ رہنے والے ان سرداروں اور سردار زادوں کے کردار' کرپشن اور سامراج نوازی پر سوال کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ مان لیجئے کہ انقلابی آپ تھے ہی نہیں کٹر نسل پرست قاتل ہیں اور کسی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یاد رکھئے اس طرز عمل اور شقاوت قلبی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ غیر بلوچ علاقوں سے بلوچ زمین زادوں کے حقوق کے حق میں کوئی آواز بلند نہیں ہوگی۔ جو آواز بلند کرے گا اس کے وسیب کے مقتولین کے ورثاء گریبان پکڑیں گے اور سوال کریں گے' کن قاتلوں کی بات کر رہے ہیں آپ؟ بار دیگر عرض ہے گوادر میں سندھی محنت کشوں کے سفاکانہ قتل نے بلوچوں کی قومی حقوق کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سر سچاروں کا تکبر' جھوٹی انا اور قتل کے حق میں دلائل دینے کے بے ڈھبے طریقے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آج کا بلوچستان 1990ء کی دہائی کا افغانستان بن چکا جہاں قدم قدم پر وار لارڈز نے اپنی اپنی ریاستیں قائم کر رکھی تھیں اور وہ ہر چیز میں سے حصہ طلب کرتے تھے۔ ٹھیکیدار درمحمد جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے اس کا کہنا ہے کہ وقوعہ سے دو روز قبل اس سے بھتہ طلب کیا گیا تھا۔ اس نے بھتہ دینے سے انکار کیا تو دھمکی دی گئی۔ یہ بات درست ہے تو سر سچار بھی بھتہ خور ہیں آزادی اور انقلاب کی باتیں دکھاوا ہیں اصل کام دولت کا حصول ہے وہ کسی بھی طریقے سے ملے۔ انقلابی سرسچاروں کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب ہے یا محض گالیاں اور جشن مسرت منانے کی سوچ؟

اداریہ