Daily Mashriq


دنیائے کرکٹ کے دوعظیم کھلاڑی

دنیائے کرکٹ کے دوعظیم کھلاڑی

دو ہنسوں کا جوڑا جو دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی نیک نامی اور عزت افزائی کا باعث بنا جن کے کارناموں کی دھوم کرکٹ کی دنیا میں ہمیشہ سرفہرست رہے گی جو صاحب کردار اور دیانت دار تھے ہمیشہ اپنے وطن کے لیے کھیلتے رہے جن کی پہلی ترجیح وطن عزیز کی نیک نامی تھی آج کے اس ہنگامہ خیز دور میں جو ہر قسم کے سکینڈل سے محفوظ رہے عزت کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور عزت کے ساتھ دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہا : پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز یونس خان اتوار 14مئی 2017کو کرکٹ کی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مصباح الحق نے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی تو اس وقت پاکستانی کرکٹ کے حالات دگرگوں تھے یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی ٹیم مشکلات میں گھری ہوئی تھی کھلاڑیوں کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے ٹیم کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا فکسنگ اور گروپنگ کے الزامات اس پر مستزاد تھے محمد یوسف اپنے کھلاڑیوں کی خود غرضی سے نالاں تھے یہ تھے وہ حالات جب مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا وہ ان مشکل حالات کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور ٹیم کو آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں سر فہرست پہنچا دیا اس وقت مصباح الحق عمر عزیز کی 37بہاریں دیکھ چکے تھے اور وہ انٹرنیشل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا سوچ رہے تھے ان کی کپتانی نظریہ ضرورت کے تحت تھی یونس خان کو بھی انہی حالات کے پیش نظر ٹیم میں واپس لایا گیا تھا حالات ایسے تھے کہ ہمارے ہوم گرائونڈ ویران ہوچکے تھے یہ دونوں کھلاڑی حیران کن صلاحیتوں کے مالک ہیں ان کی ترقی اور کامیابیوں میں ان کی طبیعت کی سادگی و عاجزی کا عمل دخل بھی بہت زیادہ ہے مصباح الحق اپنی کارکردگی کی بنا پر عمران خان سے زیادہ کامیاب کپتان ثابت ہوئے یونس خان نے پاکستان کی تاریخ کے سبھی عظیم بیٹسمینوں کے ریکارڈز توڑ دئیے لاریب ان کی کارکردگی شاندار رہی!یونس خان سری لنکا کے خلاف بنائی جانے والی ٹرپل سنچری اور انڈیا کے خلاف بنگلور کے مقام پربنائی جانے والی ڈبل سنچری کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے اس ڈبل سنچری کی وجہ سے پاکستان نے سیریز برابر کی تھی ان دونوں کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی کرکٹ کے تاریک ترین دور کو یادگار بنا دیا ان دونوں نے جب ڈو مینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کو الوداع کہا تو دنیا ان کی عظمت کی معترف ہوچکی تھی مصباح الحق نے اپنے کیرئیر کا پہلا میچ 2001میںنیوزی لینڈ کے خلاف آک لینڈ کے مقام پر کھیلا تھا جہاں انہوں نے پہلی اننگ میں 28اور دوسری میں صرف 10رنز بنائے تھے یہی ٹیسٹ یونس خان کے کیرئیر کا دسواں میچ تھا جس میں اس نے شاندار بیٹنگ کی اور پہلی اننگ میں 91 اور دوسری اننگ میں 149رنز سکور کیے تھے اس کے بعد یونس خان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ان کا بلا رنز اگلتا رہا ۔مارچ 2009میں سری لنکا کے خلاف قیادت کرتے ہوئے انہوں نے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ٹرپل سنچری سکور کی پاکستان کی جانب سے وہ ٹرپل سنچری بنانے والے تیسرے بیٹسمین تھے ۔ 2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستانی ٹیم کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جوڑنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا اس سے قبل ایک سال کے قلیل عرصے میںپاکستانی ٹیم کے چار کپتان تبدیل ہو چکے تھے 2012میں انگلینڈ کو 3-0سے شکست دینے کے بعد 2014میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 2-0سے شکست دے کر بیس سال میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست سے ہمکنار کیا اس سیریز میں یونس خان اور مصباح الحق کی کارکردگی ملاحظہ کیجیے: یونس خان نے چار سنچریوں کی مدد سے 596رنز بنائے جبکہ مصباح الحق نے تین سنچریوں کی مد د سے 373رنز سکور کیے۔2016میں دورہ انگلینڈ کے دوران لارڈز کے مقام پر کھیلے گئے میچ میں مصباح الحق نے شاندار سنچری بنائی اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ۔ چار میچوں کی سیریز دو دو کی برابری کے ساتھ ختم ہوئی جس کے بعد پاکستان ٹیسٹ میچوں کی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر آگیا ۔ اگست 2016میں پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹیسٹ میچوں کی درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ ان دونوں کی شاندار کارکردگی اور کرکٹ میں حیران کردینے والے ریکارڈ زکو قلمبند کرنے کے لیے یہ کالم ناکافی ہے پاکستان میں سب سے زیادہ رنز اور سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی یونس خان کے پاس ہے وہ پاکستان کے سب سے زیادہ کیچز لینے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ یہ پاکستانی کھلاڑیوں میں پینتیس سال کی عمر کے بعد سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کرکڑ بھی ہیں انہوں نے پینتیس برس کی عمر کے بعد پانچ سنچریاں سکور کیں ۔ یونس خان ڈان بریڈمین اور ہربرٹ کے ساتھ پاکستان کے واحد بیٹسمین ہیں جن کا اوسط سکور ٹیسٹ میچوں کی چاروں اننگز میں پچاس رنز سے زیادہ ہے۔رمیز راجہ نے ان دونوں عظیم کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ مصباح اور یونس نے پاکستانی کرکٹ کو تنگ گلی سے نکالا۔ ان کا نام کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

متعلقہ خبریں