Daily Mashriq


داعش کے قدموں کی چاپ؟

داعش کے قدموں کی چاپ؟

کمانڈر برہان وانی نے دھڑوں ،تنظیموں ' عسکری اور سیاسی تقسیم کا شکار کشمیری سماج کو متحد کردیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ بائیس سالہ نوجوان کی موت پرلوگ دیوانہ وار گھروں سے نکل پڑے تھے نوماہ کا عرصہ ہوگیا خموشی کی بوتل سے برآمد ہونے والا احتجاج اور مزاحمت کا یہ جن دوبارہ بوتل میں بند ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ایسے میں برہان وانی کے جانشین زیر زمین گوریلا کمانڈر ذاکرموسیٰ کی ایک آڈیو ٹیپ نے سیاسی مبصرین کو حیران وششدر کر کے رکھ دیا ۔اس آڈیو ٹیپ سے برہان وانی کے بعد آزادی کے ایک نکتے پر متحد سماج میں تقسیم کی ایک لکیر اُبھرتی محسوس ہوئی ۔ذاکر موسیٰ وادی میں سب سے بڑی داخلی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈرہیں ۔ ذاکر موسیٰ کی آڈیوٹیپ میں پہلی بار یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کشمیری عوام اور حریت پسندوں کی جدوجہد سیاسی ہے یا شریعت کی خاطر ہے؟ذاکر موسیٰ نے حریت کانفرنس سمیت ان سب قوتوں پر کڑی تنقید کی کہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہد سیاسی ہے اور حق خودارادیت کی خاطر ہے ۔ذاکر موسیٰ نے یہ سوال اُٹھایا کہ اگر یہ سیکولر تحریک ہے تو پھر کشمیری مجاہدین کو جانیں دینے کی ضرورت نہیں۔ برہان وانی کے جانشین کی شناخت رکھنے والے اس کمانڈر کی طرف سے چھڑی جانے والی یہ بحث سوشل میڈیا پر زبردست بحث کا موضوع بن گئی اور کشمیر کی جاری تحریک کے مستقبل اور انجام کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔اس دوران حزب المجاہدین کی قیادت میدان میں آئی اور سید صلاح الدین کے ترجمان سلیم ہاشمی نے میڈیا کے نام جاری بیان میں اسے کمانڈر ذاکر کی ذاتی رائے قرار دے کر بیان سے لاتعلقی کا اظہا رکیا گیا ۔ترجمان نے دوٹوک اندازمیں کہا کہ طالبان ،داعش اور القاعدہ نہ تو کشمیر کی مسلح جدوجہد میں شامل ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہماری تحریک نہ تو کوئی عالمی ایجنڈا ہے اور نہ کشمیر میں کوئی بیرونی قوت سرگرم عمل ہے۔البتہ بھارتی ایجنسیاں کشمیر میں داعش جیسی تنظیموںکو تیار کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہیں۔بیان میں مسلمان ملکوں میں داعش کے کردار کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا کہ جہادی تنظیموں کا توڑ کرنے اور عالم اسلام کو غیر مستحکم کرنے کے لئے داعش کو استعمال کیا گیا۔جس نے افغانستان ،شام اور عراق میں مسلمانوں کا خون بہایا ہے۔ذاکر موسیٰ کے بیان کو جہاں ان کی اپنی تنظیم نے بہت جرات کے ساتھ مسترد کیا وہیں کشمیر میں کئی غیر معروف تنظیموں کی طرف اس بیان کی حمایت بھی کی گئی۔اعلیٰ قیادت کی طرف سے اس غیر متوقع ردعمل کے بعد ذاکر موسیٰ نے یہ کہہ کر حزب المجاہدین سے علیحدگی اختیار کر لی اگر وہ حزب کے موقف کی ترجمانی نہیں کرتے تو حزب بھی ان کی ترجمانی نہیں کرتی اس کے بعد وہ اس تنظیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔سیاسی مبصرین نے حزب المجاہدین کے ایک صف اول کے کمانڈر کے ان خیالات کو وادی میں داعش کے قدموں کی چاپ سمجھا جا رہا ہے ۔گوکہ وادی میں کئی مظاہروں کے دوران چند نوجوان پاکستان کے پرچم کے ساتھ ساتھ داعش کے بینر اُٹھائے ہوئے نظر آتے رہے ہیں مگرعملی طور پر داعش کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔وادی کی ہنگامہ خیز صورت حال میں جہاں بھارتی فوج کے مظالم انتہا پر ہیں حالات نوجوانوں کو سخت سے سخت تر لائن اختیار کرنے کی طرف دھکیل رہے ہیں اور یہیںسے داعش جیسی تنظیموں کے لئے گنجائش پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔وادی کے بعض علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے تسلسل سے ہونے والے قتل جس کی تان ایک ایسے کشمیری نوجوان کے قتل پر جا ٹوٹی جو بھارتی فوج کا لیفٹیننٹ تھا ۔عمر فیاض پرے نامی تئیس سالہ نوجوان ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گھر آیا تو نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرکے قتل کردیا ۔جس پر بھارتی میڈیا نے بہت شوروغل مچایا مگر وادی میں ایک نہتے کشمیری نوجوان کو جو آبادی سے دور کنٹرول لائن پر تعینات تھا اس انداز سے قتل کچھ زیادہ پسندیدگی کا باعث نہیں بنا ۔حریت پسندوں نے اس واقعے کی ذمہ داری بھارتی ایجنسوں پر عائد کی مگر یہ مسلح تحریک میں در آنے والی اسی شدت کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے کہ جو چنددن بعد ہی ذاکر موسی کے بیان کی شکل میں سامنے آیا تھا ۔وادی میں داعش جیسے سخت گیر اور بے نام ونسب گروہوں کی آمد بھارت اور اسرائیل کی خاموشی تائید ہوسکتی ہے جو کشمیریوں کی تحریک کو دنیا میں مسلم دہشت گردی کی تحریک بنا کر پیش کر سکتے ہیں۔ذاکر موسیٰ اور حزب المجاہدین اور حریت کانفرنس کے تعلقات میں اُبھرنے والی اس دراڑ اور عوام کو مبہوت اور کنفیوژ کرنے والی اس صورت حال پر کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پہلی پھبتی یوں کسی کہ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کشمیر میں داعش چاہتے ہیں یا رواداری اور برداشت پر مبنی روایت ''کشمیریت ''چاہتے ہیں۔ذاکر موسیٰ اب کہاں چل دئیے ہیں اوران کی منزل کہاں ہے؟یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔تاہم یوں لگتا ہے کہ کشمیرکے مجموعی ماحول میں اس بیان کو پسند نہیں کیا گیااور حزب المجاہدین نے سرعت کے ساتھ دوٹوک ردعمل جاری کرکے اس بیان کے نقصان کو زیادہ پھیلنے اور گہرا ہونے نہیں دیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر کی تحریک پرداعش جیسی تنظیموں کی چھاپ لگنے کا مطلب کشمیریوں کی جدوجہد سے حق خودارادیت کا تصور منہا ہونا ہو گا جو اس وقت کشمیریوں کے پاس دنیا کے سامنے پیش کی جانے والی واحد دلیل ہے۔

متعلقہ خبریں