افغانستان کی سی پیک میں شمولیت‘ پہلے راہ ہموار کیجئے

افغانستان کی سی پیک میں شمولیت‘ پہلے راہ ہموار کیجئے

افغانستان نے اقتصادی راہداری میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے جس کا چین نے خیر مقدم کیا ہے۔اسلام آباد میں پاکستان‘ افغانستان اور چین سہ فریقی غیر رسمی سفارتکاری دور کا اجلاس ہوا جس میں افغانستان میں دیرپا امن کے لئے پاکستان اور چین کا کردار زیر بحث اور افغان صدر کی امن پیشکش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا۔ کابل اور افغان طالبان مذاکرات میں درپیش مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دکھ درد کے ساتھی ہیں۔پاکستان افغان مسئلے کے حل کے لئے کوشاں رہا کوشش ہے کہ طالبان امن عمل کا حصہ بنیں۔ غیر ملکی افواج نے صورتحال مزید خراب کی۔ پاکستان‘ افغانستان اور چین کے سہ فریقی غیر رسمی اجلاس سے چینی سفیر یائو جنگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین روابط افغان امن کے لئے اہم ہیں۔ سیکورٹی صورتحال بہتر ہوئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ علاقائی مسائل کا حل علاقائی سطح پر نکالنا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان ون بیلٹ ون روڈ کا مرکز ہیں۔ خطے کی ترقی کا محور بھی پاکستان اور افغانستان ہیں۔ چین کے چھ بڑے منصوبوں میں سی پیک اہم ہے پاکستان اور چین ہمسایہ ممالک کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ افغانستان میں مفاہمتی عمل کے حامی ہیں۔افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کی سرمایہ کاری خطے میں ترقی و استحکام کا باعث ہوگی۔ پاکستان دنیا کے لئے خطے کا دروازہ اور افغانستان پل ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت نے مشکلات پیدا کیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ علاقائی سطح پر اقتصادیات کا ایک دوسرے پر انحصار ہی امن کا ضامن ہوگا۔افغانستان کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں شمولیت سے جہاں اس منصوبے کی جنوبی ایشیائی ریاستوں سے لے کر روس تک توسیع کی راہ ہموار ہوگی اور منصوبے کی اہمیت دو چند ہوگی وہاں یہ منصوبہ افغانستان کے لئے بھی نہایت نافع اور ترقی کاباعث ہوگا لیکن اس سب کچھ کے لئے سب سے زیادہ ضروری امر افغانستان میں امن کا قیام اور استحکام امن ہے۔ اس وقت حالات ایسے نہیں کہ اس بارے توقعات ہی وابستہ کی جاسکیں جس وقت اسلام آباد میں سہ فریقی مذاکرات میں سی پیک میں افغانستان کی سہولت بارے بات ہو رہی تھی عین اسی روز افغان صوبہ فرح کے بعض علاقوں پر طالبان قابض ہوگئے اس طرح کی صورتحال میں سی پیک کی توسیع اور سی پیک میں افغانستان کی شمولیت ثانوی معاملہ بن جاتا ہے۔ اس سے قبل سب سے ضروری امر افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کا ہے۔ بد قسمتی سے اس حوالے سے ہونے والی مساعی اس لئے پوری طرح کامیاب نہیں ہوتیں کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی کردار باہم متفق نہیں ہو پاتے جبکہ دوسری جانب طالبان اتنی قوت کے حامل ہیں کہ جب تک وہ کسی امن فارمولے پرنہیں آتے اس وقت تک افغانستان میں امن کی بحالی کی باقی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو ہی نہیں سکتیں۔ افغانستان میں طالبان کی تازہ حکمت عملی افغانستان کے ایک حصے پر عملداری کا قیام اور متوازی حکومت قائم کرنے کاہے جس کے لئے ان کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں داعش کی موجودگی اور وار لارڈز کے مفادات اور اثر ورسوخ بھی حکومت کے لئے منظم چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں شدید خواہش کے باوجود سی پیک کی توسیع بارے کسی خوش امیدی کا اظہار نہیں کیاجاسکتا۔ اس کا سہ فریقی مذاکرات کے فریقین کو بھی یقینا پورا پورا ادراک ہے۔ بلا شبہ یہ دنیا کے لیے ایک نئے باب کو وا کر ے گا جس کے پو ری دنیا پر اثرا ت مرتب ہو ں گے جو ایشیا کے عوام کے لیے ایک اہم نوید بھی لا سکتا ہے ، مگر اس کا دارومد ار متعلقہ ملکوں کے رویو ں پر بھی منحصر ہے ، کیو ں کہ ان کا کر دار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ افغانستان میں اس وقت تک پائید ار امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک اس قضیہ میں ملوث قوتیں اپنا کر دار ادا نہ کر یں اور اس وقت امریکا افغان قضیہ کا اہم حصہ ہے۔افغانستان کے حوالے سے بھارت کی حالت ایسی ہے کہ وہ امریکا کا چونچال لا ڈلا بے بی بنا ہو ا ہے اس لیے رو س ، چین کو افغانستان میں امن کے عمل کے لیے علا قائی ممالک کے کر دار کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا ، امریکا اس وقت بھارت کو اس کی چاہت کے مطابق ہر قسم کا اسلحہ دے رہا ہے جس طرح اسرائیل ، آسڑیلیا ، وغیر ہ کو فراہم کرتا ہے ، اس طرح اس نے ان ممالک کو اپنے اپنے خطے میں بالا دست بنا رکھا ہے۔ چنا نچہ بھارت کو بھی خطے میں بالا دست بنا نے کی مساعی میں ہے جس کے اثرات اس خطے میں برے پڑیں گے کیو ں کہ طا قت کا توازن بگڑ کر رہ جا ئے گا ۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں افغانستان اور بھارت کا رویہ امریکی مفاد ات سے ہٹ کر کیسے ہو سکتا ہے۔جب تک افغانستان میںغیر ملکی فو جیں مو جو د ہیں وہا ں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کی ابتداء ہی اس دن سے ممکن ہوگی جب امریکہ سمیت خطے کے تمام ممالک افغانستان میں قیام امن کی مساعی میں خلوص نیت سے اپنا حصہ ڈالیں اور افغانستان میں ایک ایسی وسیع البنیاد حکومتپورے ملک کے عوام کے لئے قابل قبول ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت قائم ہو۔ ان تمام مشکلات کے باوجود بہر حال افغانستان کی جانب سے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اظہار اور چین کی جانب سے اس کا خیر مقدم خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں چین کے افغانستان میں مفادات بڑھ جائیں گے اور چین افغانستان میں استحکام امن کی مساعی میں سنجیدگی سے کام کرے گا۔ اس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آنا فطری امر ہوگا۔

اداریہ