Daily Mashriq


نیب خیبر پختونخوا کی تحقیقات میں سست روی

نیب خیبر پختونخوا کی تحقیقات میں سست روی

احتساب بیورو خیبر پختونخوا کا کرپشن‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی بھرتیوں پر دیگر محکموں کے علاہ ڈبلیو ایس ایس پی اور ہیلتھ کیئر کمیشن افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری کے بعد یہ توقع بے جا نہیں کہ درست انکوائری کی صورت میں کرپشن و بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ہو شر با انکشافات سامنے آئیں گے۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری محکموں اور خاص طور پر موجودہ دور حکومت میں وجود میں آنے والے ڈبلیو ایس ایس پی‘ ہیلتھ کیئر کمیشن‘ محکمہ سیاحت و ثقافت اور فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر محکموں اور اداروں میں بظاہر میرٹ کا بول بالا دکھا کر جس طرح سے نا اہل افراد بھرتی کئے گئے اب وقت آگیا ہے کہ اس کا نہ صرف نوٹس لیا جائے بلکہ اس کے ذمہ دار عناصر اور منفعت حاصل کرنے والوں کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ جہاں تک ڈبلیو ایس ایس پی کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جو ادارہ اپنے قیام کے جواز کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام ہو جائے اس کے وجود کا بھی جواز نہیں بچتا۔ شہر میں صفائی کی بدترین صورتحال سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کا قیام شہریوں کو سہولت دینے اور شہر میں صحت و صفائی کا انتظام بہتر بنانے کے لئے عمل میں نہیں لایاگیا ہے بلکہ بڑی بڑی تنخواہوں پر منظور نظر افراد کو کھپانے کے لئے مواقع تلاش کئے گئے ہیں۔ کمپنیوں میں تعینات افراد کی تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد ان کمپنیوں کے معاملات کی چھان بین اور ان کے ملازمین کی مراعات اور تنخواہوں کو دیگر سرکاری ملازمین کے برابر لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی میں پرچیزنگ میں غیر ضروری سامان کی مہنگے داموں خریداری کی سنگین شکایات کا نیب حکام کو خاص طور پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو بآسانی ایسے شواہد میسر آسکیں کہ ہ بدعنوان عناصر پر با ثبوت ہاتھ ڈال سکیں۔ نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے کئی ایک معاملات بارے فیصلے تو بہت دکھائی دیتے ہیں مگر گرفتاریوں اور مقدمات کے قیام کی رفتار تسلی بخش نہیں جس پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی وارداتیں

قبائلی علاقوں میں جہاں ایک جانب استحکام امن کی نوید ملتی ہے وہاں دوسری جانب شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ان تمام قوتوں کے لئے سوالیہ نشان ہے جو قیام امن کی ذمہ دار ہیں۔ قبائلی عوام کا ان وارداتوں پر احتجاج فطری امر ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ پاک فوج نے بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ آپریشن کرکے علاقے کو شرپسندوں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے اسلحے سے بھی پاک کردیا ہے اور قبائلیوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں‘ چیک پوسٹیں بھی قائم ہیں اور چیکنگ کا نظام بھی سخت ہے۔ قبائلی عوام کی کیفیت یہ ہے کہ حالات نے نہ صرف ان کو محتاط بنا دیاہے بلکہ اب وہ اسلحہ کلچر سے بھی اکتا چکے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود جگہ جگہ نا معلوم افراد آکر ٹارگٹ کلنگ کرکے با آسانی فرار کیسے ہو جاتے ہیں۔ ان افراد کے پاس اسلحہ کہاں سے آتا ہے و ہ اپنے ٹارگٹ تک کیسے پہنچتے ہیں اور ان کو نشانہ بنا نے کے بعد پھر با آسانی فرار کیسے ہو جاتے ہیں۔ یہ سارے سوالات توجہ طلب اور جواب طلب ہیں۔ اس صورتحال کی روک تھام کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ بعض عناصر قبائلی علاقے میں پروپیگنڈے میں بھی مصروف ہیں اور قبائلی عام کے ذہنوں کو آلود ہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی مشکوک سرگرمیاں ان عناصر کے پروپیگنڈے کی تقویت کا باعث ہیں جس کے سد باب اور قبائلی عوام کا تحفظ یقینی بنانے پر سنجیدگی سے توجہ اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں