Daily Mashriq


میاں نواز شریف کی خلائی مخلوق اور حکمران لیگ

میاں نواز شریف کی خلائی مخلوق اور حکمران لیگ

الیکشن کا زمانہ ہے ، سبھی سیاسی پارٹیاں عوامی حمایت کی دھاک بٹھانے کے لیے بڑے بڑے جلسے کر رہی ہیں۔ ان جلسوں کے میلوں میں کون مقرر کی حمایت کرنے والوں میں شمار ہونے کے لیے جاتا ہے اور کون جلسے کے بعد پارٹی کا حامی بن کر آتا ہے یہ الگ بات ہے۔ جلسے بھاری بھر کم ہو رہے ہیں۔ لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ جو لوگ جلسوں میں جاتے ہیں وہ ووٹ بھی ان پارٹیوں کو دیں گے ! اس کے باوجود جلسوں کی رونق دیدنی ہے۔ میاں نواز شریف ہر دوسرے یا تیسرے جلسے کو ریفرنڈم کہہ کر دعویٰ کر دیتے ہیں کہ ان کے حق میں فیصلہ عوام نے دے دیا ہے۔ اپنے جلسے کو جلسہ اور دوسروں کے جلسے کو جلسی کہنے کا رواج بھی جڑ پکڑتا نظر آتا ہے۔لوگ جلسوں میں تو آئے لیکن جلسوں کے بعد سیدھے گھر چلے گئے ۔ میاں صاحب کی بحالی کے لیے مہم چلانے کے لیے جلسہ گاہوں سے بپھر کر امڈتے یا منظم ہوتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ وہ کہتے رہے کہ ووٹ کو عزت دو لیکن اس نعرے نے لوگوں کے دلوں میں آئین او رقانون کا احترام کم نہ کیا۔ انہوں نے طعنہ دیا کہ ان کا مقابلہ تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ کسی خلائی مخلوق سے ہے ۔ اس طرف وہ پہلے بھی ’’ایجنڈا کسی ہور دا‘‘ کہہ کر اشارہ کر چکے تھے۔ میاں صاحب سیاست کے تجربہ کار کھلاڑی ہیں، انہیں کئی ماہ کی کوشش کے بعد یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ عوام جلسوں میں تو آتے ہیں لیکن ان کی حمایت میں پرجوش فعال تحریک میں ڈھلنے کی طرف نہیں آتے جس کی طرف انہوں نے پنڈی سے لاہور احتجاجی سفر کے دوران کہا تھا کہ وہ لاہور پہنچ کر نیا پروگرام دیں گے۔ لیکن نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو ووٹ دو لیکن خود ن لیگ کے پاؤں تلے سے ان کے اپنے بیانات کے باعث زمین سرک رہی ہے۔ انہیں بخوبی اندازہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ایک سو بیس سے زیادہ ارکان اگر ان کی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو سکتے ہیں تو ایسے ہی کبوتر کسی اور کی چھتری پر بھی بیٹھ سکتے ہیں اور میڈیا شہادت دے رہا ہے کہ یہ عمل شروع ہو چکا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ میاں صاحب نے جس خلائی مخلوق کی حمایت کو اپنے لیے چھپا کر رکھا ہوا تھا اسے بروئے کار لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ یہ خلائی مخلوق پاکستان میں نہیں۔ اس کے لیے انتظام انہوں نے ملتان کے جلسے سے خطاب کے چند منٹ پہلے روزنامہ ڈان کے سرل المیڈا کو انٹرویو دینے کی منصوبہ بندی کے ذریعے کیا۔ یہ سرل المیڈا وہی صحافی ہے جسے پچھلے سال نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کی روداد ملی تھی اور اس نے یہ روداد شائع کر دی تھی۔ خود میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اور دیگر حکومتی ارکان کی تردید کے باوجو دسرل المیڈا اس بات پر ڈٹے رہے کہ انہیں یہ خبر پکے ذرائع سے ملی ہے اور سچ ہے۔ لیکن اسی صحافی کے لیے جس کی خبر کی تردید کی گئی تھی اس بار سرکاری ہدایت جاری کی گئی کہ اس کے طیارے کو ملتان کے ہوائی اڈے پر اترنے کی مکمل سہولت دی جائے اور اس کی میاں نواز شریف سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے۔ اس تیاری کے ساتھ انٹرویو کے بعد میاں صاحب ملتان کے جلسہ عام میں گئے۔ اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک بھر میں تہلکہ مچ گیا ۔ انہوں نے پاکستان میں غیر ریاستی عناصر کی موجودگی کا ذکر کرنے کے بعد سوال اٹھایا کہ ’’کیا ہمیں ان کو اجازت دینی چاہیے (تھی) کہ وہ سرحد عبور کریں اور ممبئی میں ایک سو پچاس افرادکو قتل کر دیں۔‘‘ بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں شور مچ گیا کہ نواز شریف نے ممبئی حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ قارئین کی نظر میں ہے ، البتہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے ساتھیوں نے میاں صاحب کا دفاع کرنے میں کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میاں صاحب کے انٹرویو میں محض ایک جملہ تھا جس کی ’’غلط تاویل کی گئی‘‘ ۔ لیکن یہ ایک جملہ کہنے کے لیے تو یہ سارا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ یہ جملہ اس وقت کہا گیا جب ٹرمپ اورمودی میں انگریزی محاورے کے مطابق ہاتھ اور دستانے کا رشتہ قائم ہے۔ ٹرمپ کی توجہ بطور خاص ہمارے خطے پر ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفارت کاروں کو محدود کیا جا رہا ہے اور پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے ۔ خطے کی سربراہی بھارت کو دی جا رہی ہے ۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو ختم کیا جا چکا ہے ، ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ سے امریکہ دستبردار ہو چکا ہے۔ اس وقت مودی کی پاکستان دشمن انتخابی مہم کے دوران پاکستان مخالف بیانیہ کو تقویت پہنچائی گئی ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کیا تو امریکی سفارت کار کرنل جوزف کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ خبر آئی کہ وہ ملک سے روانہ بھی ہو گئے ہیں۔ ایک سال پہلے ڈان کے سرل المیڈا کی ڈان لیکس کی خبر کی میاں صاحب نے سختی سے ترید کی تھی لیکن اب دختر مریم نواز نے کہہ دیا کہ اس خبر کے حوالے سے اس وقت کے وزیر اطلاعات کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ غلط تھا۔ اس صورت حال میں ن لیگ مشکل میں آ گئی ہے۔ وہ اگر میاں نواز شریف کا دفاع کر ے تو عوام کے سخت ردِ عمل کا سامنا ہو گا ۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف ، میاں نواز شریف کے بھائی ہیں۔ دونوں کے درمیان سیاسی صورت حال پر مشاورت بھی ہوئی ہے۔ شہبازشریف کارکردگی کی بنا پر حکمران مسلم لیگ کی انتخابی مہم چلانے پر متوجہ نظر آتے ہیں تاکہ ا س طرح کامیابی حاصل کرنے کے بعد کل ش لیگ ن لیگ کو سہارا دے سکے۔ لیکن میاں نواز شریف کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ان کا ساتھ دے سکیں۔ لیکن ان کے اس بیانیہ کی حمایت کرنے کی جرأت کون کر سکتا ہے۔ شہبا زشریف اور شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے جملے کو توڑ مروڑ کر شائع کیاگیا لیکن خود میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں