Daily Mashriq


پاکستانی کتنے ارزاں ہیں !!

پاکستانی کتنے ارزاں ہیں !!

پاکستانیوں کی جان کتنی ارزاں ہے ۔ کوئی کرنل جوزف ایک پاکستانی کو جان سے ماردیتا ہے ۔ اس کے پاکستان سے جانے پر پابندی بھی لگادی جاتی ہے ۔ پہلے ایک طیارہ اکر آیئر پورٹ پر منتظر رہتا ہے ۔ اسے انکار کر دیا جاتا ہے کہ کرنل جوزف کو پاکستان سے جانے کی اجازت ہی نہیں پاکستانی بے وجہ ہی سینے پھلائے پھرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ غیرت اور حمیت کا تقاضا ہے کہ عتیق کی موت کی بھر پور تحقیقات ہوں ۔ قصوروار کو سزا ملے لیکن پھر ایک صبح خبر سنائی دیتی ہے کہ کرنل جوزف امریکہ چلا گیا ۔ نہ کوئی مقدمہ چلا ، نہ فیصلہ ہوا ، شاید خون بہا دیا گیا ہو کیونکہ خون بہا دینے کا قانون امریکیوں کو ازبر ہو چکا ہے ۔ پاکستانیوں کا خون بہا دینا بھی بہت آسان ہے وہ اپنے چند سکوں کو پاکستانی روپوں میں ڈھالتے ہیں تو تھیلا بھر روپے آجاتے ہیں ۔ غریب ماں باپ چُپ کر جاتے ہیں ۔ بیٹا تو واپس آنہیں سکتا ، ہر طرف سے دبائو فیصلے بدلنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ لیکن بڑ ی افسوسناک کہانی ہے ۔ اور یہ کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں موٹر سائیکل سوار لڑکے کو ٹکر مار کر بھی جان سے مارا جا سکتا ہے ۔ اور پھر چند دن کی کشمکش کے بعد نہایت آرام وسکون سے امریکہ کی جانب روانہ ہو ا جا سکتا ہے ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لاہور کی مصروف ترین شاہراہ پر ، اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فائر کر کے دو موٹر سائیکل سوار لڑکوں کو گولی مار دی جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ ان لڑکوں کے ہاتھ میں ریوالور دیکھا گیا ۔ وہ چھوٹے موٹے چور بھی تھے اس لیے ریمنڈ ڈیوس جیسے بلیک واٹر کے اہلکار کا ان دونوں کو مار دینا بہت بڑی بات ہی نہ تھی ۔ اسی لیے ریمنڈ ڈیوس بھی چند دن قید میں گزرنے کے بعد ، عدالت کی چند پیشیاں بھگتا نے کے بعد ، خون بہا ادا کر کے پاکستان سے امریکہ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ ان دونوں لڑکوں میں سے ایک کی نوبیاہتا بیوی نے اپنے ہی دُکھ سے بے بس ہو کر خود کشی کر لی لیکن ریمنڈ ڈیوس تو امریکی خفیہ تنظیم بلیک واٹر کا کارندہ تھا ۔ اسے کوئی کیا کہہ سکتا تھا ۔ تب بھی بوڑھے غریب ماں باپ دبائو کا شکار ہوئے اور مصلحتوں کے لمبے لمبے افسانے انہیں سنائے گئے ہونگے ۔

سو معاملہ نہایت آسانی سے امریکی قاتل کے حق میں حل ہوگیا ۔ ہماری جانیں واقعی بہت ارزاں ہیں ۔ یہ جانیں ارزاں نہ ہوتیں تو ہم کہاں ایسے حکمرانوں کے شکنجوں میں اُلجھے خون تھوکتے رہتے جو ہمیں ہر طرح سے لوٹتے ہیں ۔ ان کی بد عنوانی کے آنکڑوں کی گرفت ہمار ی شہ رگوں پر انتہائی سخت ہے ۔ یہ ہمیں دبوچے رکھتے ہیں ہم جنبش بھی کریں تو جان سے جائیں گے اس لیے ہم خوف کے مارے ہلتے تک نہیں ۔ ہماری جانیں ارزاں ہیں تبھی تو کبھی ہمیں بین الاقوامی قرضوں کے پلڑوں میں رکھ کر ہمارا سودا کیا جاتا ہے اور کبھی بنا حساب کیئے سی پیک کے نام کا طوق ہمارے گلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی سے اگر ملک کے گلیشئرز پگھلنے لگیں ، سیلاب ، آئیں تو اس میں ہمارے ہی تو گھر بہہ جائینگے ، پانی بیٹھے گاتو وبا ئیں پھیلنے سے بھی تو ہم ہی لوگ مریں گے ۔ گلیشئرز کی اندرونی تہوں میں چھپے پرانے طاقتور جراثیم آزاد ہونگے تو بھی ان کا نشانہ غریب پاکستانی ہی بنے گا ۔یہ امیر حکمران تو اپنے ناک پر رومال رکھے ہیلی کاپٹر میں سیلاب زدہ علاقے کے اوپر چکر لگائیں گے۔ کسی مصنوعی طور پر تخلیق کردہ امدادی ہسپتال کا دورہ کرینگے جہاں کرائے کے مریض موجود ہونگے ، انہی میں ادویات تقسیم ہونگی اور ڈرامہ میڈیا کے کیمروں میں محفوظ ہوجائے گا ۔ پاکستانی مرتا رہے گا ، وبائیں اس کا جسم چاٹ جائینگی اور یہ اپنے محلوں میں جا کر اطمینان سے نہا کر سو رہینگے۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا ۔ یہ کوئلے سے بجلی بنا نیوالے کا رخانے لگائینگے کیونکہ قصور میں ان کے کسی بچے کا کوئی ڈیڑھ مرلے کا مکان نہیں ہے ۔ ساہیوال میں بھی ان کے کسی رشتے دار نے کبھی دودن بھی نہیں گزارنے ۔ لوگ آلودگی کے باعث کیسے بھی کینسر کا شکار ہوں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ تو اپنے علاج بھی لندن کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں کرواتے ہیں ۔ انہیں کیا معلوم چہروں کے سرطان میں مبتلا ایک غریب آدمی کس اذیت سے مرتا ہے ۔ کس کیموتھراپی کے نتیجے میں کیسے چھالے بدن پر پڑتے ہیں ۔ ان کے لیے پاکستانی بس جلسوں میں دکھائی دینے والے ریوڑ ہیں ، تعداد ہیں ، نعرے لگاتے پتلے ہیں ۔ انہیں کیا معلوم ، ہر ایک سر کی ایک کہانی ہے ، ایک زندگی ہے ، اپنے تفکرات ہیں اپنی آزمائشیں ہیں ۔ انہیں کوئی یہ بتا بھی نہیں سکتا ۔ کیونکہ انہیں کسی بات کا احساس نہیں۔ عتیق ہو یا کوئی اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ہر بار ریمنڈ ڈیوس کسی بھی شہر کی گلی میں ، سڑک پر ، کتنے ہی لوگوں کو گولیاں مارے یہ اسکی مدد کرینگے کہ وہ باحفاظت امریکہ پہنچ جائے ۔ کرنل جوزف نشے میں دھت ہو یا طاقت سے سرشار ، وہ کیسے بھی اپنی گاڑی کی ٹکر سے کتنے بھی پاکستانیوں کو اڑا کر رکھ دے انہیں کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہ روز پاکستانیوں کے گلے کاٹتے ہیں ، ان کی شہ رگوں سے خون بہتے ہیں ۔ میاں نواز شریف کو ہی دیکھ لیجئے بد عنوانی پر گرفت کرنے پر کتنے ناراض ہیں کہ پاکستان کا امیج ہی دنیامیں تباہ کردینا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ ایسے ہی آخر کب تک چلے گا ۔ کب تک پاکستان اور پاکستانیوں کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ کب تک یہ اتنے ہی ارزاںرہیںگے ۔ آخر کب تک ۔

متعلقہ خبریں